عمر گوتم کی گرفتاری غیر قانونی،ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور امانت اللہ خان نے انصاف پسندوں سے آوازِ احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی

 

نئی دہلی : جبراً اور بہلا پھسلاکر مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں معروف داعی و مبلغ عمر گوتم اور ان کے ساتھی مفتی جہانگیر قاسمی کو دہلی اے ٹی ایس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔جس پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور انصاف پسند حلقوں میں اس گرفتاری کی مذمت کی جا رہی ہےـ اوکھلا سے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان نے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ یوپی الیکشن کے پیش نظر بی جے پی یہ کھیل کر رہی ہے اور ہندو مسلمانوں کو بانٹنے میں جٹ گئی ہےـ انھوں نے کہا کہ بھاجپا اپنے سیاسی مفادات کے لیے اقلیتوں اور دلتوں پر مظالم کرنے سے نہیں چوک رہی ہے جسے کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتاـ دوسری طرف معروف اسکالر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھی عمرگوتم پر اے ٹی ایس کے الزامات کو فرضی اور من گھڑت قرار دیاہے ۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ آئین کی دفعہ 25 کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کوئی جرم نہیں،آئین و قانون نے اس کی اجازت دی ہے۔ وہ مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتاہے اور ہر شخص کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی دیتا ہےـ انھوں نے کہا کہ عمر گوتم کے ذریعے جبراً تبدیلی مذہب کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ڈاکٹر خان نے کہا کہ میں ان کو تین دہائی سے جانتا ہوں،وہ اچھے انسان ہیں۔ان کے آئی ایس آئی سے لنک کے بارے میں اے ٹی ایس کے الزامات بے بنیاد اور فرضی ہیں۔ماضی میں سیکڑوں لوگ اس طرح کے الزام میں بری ہوئے ہیں وہ بھی ہوجائیں گے۔ انھوں نے انصاف پسند لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اس قسم کی نا انصافیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں ـ