دعوتِ دین پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری:مفتی محمد ہارون ندوی

جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں کی دس روزہ اصلاح معاشرہ اور نشہ مخالف مہم
ممبئی:ہندوستانی اکثریتی سماج میں دعوت دین ایک اہم کام ہے،لیکن اس سے کہیں پہلے دعوت دین کا پہلا مظہر یہ ہے کہ مسلم معاشرہ اسلام کانمونہ بنے۔مسلم معاشرے کی اسلامی تعلیمات سے دوری دعوت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔جہاں ہم لما تقولون مالاتفعلون کے مصداق ہیں۔ دعوت دین کسی ایک جماعت یا تحریک کا کام نہیں بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ان خیالات کا اظہار مفتی محمد ہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔
کل علاقہ خاندیش کے جلگاؤں شہر کے مشہور و معروف دینی و تعلیمی ادارہ مدرسہ انوار العلوم کی عالیشان مسجد فاطمہ میں منعقدہ جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں کے اصلاح معاشرہ کے اجلاس میں خطاب کے دوران مفتی محمد ہارون ندوی نے کہا کہ”اصلاح معاشرہ تمام مذہبی جماعتوں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔بڑی دینی جماعتوں کے ساتھ علماء کرام اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد انفرادی طور پر بھی اصلاحی کوششوں میں مصروف ہے۔جو قابل ستائش اور امید افزاء بات ہے۔ملک بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے ادارے بھی معاشرے کی اصلاح کو اپنا اہم مقصد قرار دے رہے ہیں۔لیکن ان سب کی کوششوں کے جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کا کام روایتی بن گیا ہے،اور تقریروں اور جلسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے“۔
مفتی ہارون ندوی نے یہ بھی کہا کہ اس دور میں جلسے اور اجتماعات کرنا،معاشرتی برائیوں کی مذمت پر تقریریں کرنا،اور مختلف معاشرتی موضوعات پراسلامی موقف بیان کر دینا۔اصلاح معاشرہ کی واحد سر گرمی سمجھا جانے لگا ہے۔ اور انہی پروگراموں کی چھوٹی بڑی کلپ سوشل میڈیا پر عام کرنے کا رواج بن گیاہے،حالانکہ اس کی افادیت سے بالکلیہ انکار نہیں لیکن اصلاح معاشرہ کی ساری ضرورتیں انہی کاموں سے پوری نہیں ہو جاتی ہیں۔
مفتی صاحب نے یہ بھی کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ برائی کے حقیقی سبب پر غور کیا جائے،اور اس کے مطابق اصلاح کی مناسب حکمت عملی تشکیل دی جائے۔اس کام کے لئے فیلڈ ورک کو اپنا لائحہ عمل بنایا جائے، اصلاح معاشرہ کی حکمت عملی ایک ایک مقام،شہر یا بستی پر توجہات مرکوز کرکے بنائی جائے،بستی کے مخصوص حالات پر غور کرکے وہاں کی خرابیوں کی تشخیص،ان کے اسباب کی تعیین،اور اس کے مطابق اصلاح، اور بہت جلد نتائج کے لئے اتاوئلے پن کی بجائے صبر و استقلال کے ساتھ اپنے حصے کی ذمہ داریاں ادا کی جائیں۔اور اللہ سے دعا کے ساتھ اچھے نتائج کی امید باندھی جائے۔اس طرح ان شاء اللہ ہمیں اپنے مقصد کے حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسب ضرورت چھوٹے بڑے گروپ، ادارے، نوجوانوں کی فلاحی تنظیموں، مسجد کمیٹیوں اور اصلاحی انجمنوں وغیرہ کی مدد سے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کی جائے،اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اصلاح معاشرہ کی ہماری یہ مہم صرف ایک روایت نہ بنے اورنہ ہی تقریروں اور جلسوں تک محدود ہو کر رہ جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہماری نوجوان نسل بری عادتوں کی شکار ہوکر ذہنی،فکری،اخلاقی طور پر مفلوج ہوچکی ہے۔نشہ کی لت نے سینکڑوں نوجوانوں کے مستقبل اجاڑ رکھے ہیں جو ملک و ملت کے مستقبل کے لیے ایک اندوہناک معاملہ ہیں۔اس لئے جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں کیجانب سے اصلاح معاشرہ اور نشہ مخالف دس روزہ مہم شروع کی جارہی ہے،جو 10/ فروری سے لیکر 20/ فروری تک چلے گی۔آپ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ جمعیۃعلماء کی اس مہم میں بھر پور حصہ لیں،اورفرد فرد، گلی گلی،محلہ محلہ،گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کو معاشرے کی خرابی اور نشہ کی تباہی و بربادی سے جاگرکت کریں۔
عبد الکریم سالار نے کہا کہ فرقہ پرست اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنا ہوگا،سماج اپنے نازک مسائل کو اپنی کوشش اور حکمتوں سے حل کرے،لوگ ایک دوسرے کی عزتوں کے امین ہوں۔انہوں نے جمعیۃعلماء کی اصلاح معاشرہ اورنشہ مخالف مہم کی بھر پورحمایت کی،اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
فاروق شیخ نے مسلم معاشرے کو بین سماجی شادی کرنے کو رواج بنانے کی اپیل کی،نوجوان نسل کو اباحیت،بے پردگی،جنسی انارکی اور معاشقوں کے چکر سے باہرنکل کر اپنی صلاحیتوں کو صیقل کرنے پر ابھارا۔ کارپوریٹر ریاض باغبان نے ارتداد کے مسئلے کو مالی کمزوری بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس پرخاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان کے علاوہ اس اجلاس میں رفیق بتوے،مولانا مختار ندوی،اجمل خان،مفتی ابوذر وغیرہ نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔
اس اجلاس میں مختلف تنظیموں،اداروں،مذہبی اور ملی جماعتوں سے منسلک ذمہ داروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،جن میں حسین ملتانی،اقبال وزیر،حافظ عبد الرحیم،حافظ شفیق رحمانی،ق ضیاء باغبان،حاجی یوسف شیخ،اکرم دیشمکھ،نثار سر،جمیل پٹھان،مشتاق شیخ،مولانا عبد الرحمٰن ملی،مولانا نصیر الدین قاسمی،مولانا ایوب،
مولوی عبد الستار،حافظ ظہور پاچورا،حافظ رضوان بھالود،حافظ اسحاق چوپڑا،مولانا ارمان بر کھیڑی،مولاناالیاس ایرنڈول،حافظ عبد العظیم بھساول وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اجلاس کی نظامت حافظ عبد الرحیم نے کی۔مفتی محمد ہارون ندوی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہواـ