Home تجزیہ دیوے گوڑا کی ’ سیکولر ‘ سیاست!-شکیل رشید

دیوے گوڑا کی ’ سیکولر ‘ سیاست!-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز)

کرناٹک کی سیا سی جماعت جنتا دل کے ساتھ لگا ’ سیکولر ‘ کا دُم چھلہ نہ اُس کے لیڈران کے نظریات کا عکاس ہے ، اور نہ ہی اُن کے نظریاتی طور پر ’ سیکولر ‘ ہونے کا ثبوت ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک کے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا ، جو جنتا دل ( سیکولر ) کے صدر ہیں ، سیکولر نہیں ہیں ، وہ یقیناً سیکولر ہیں ، لیکن وہ اور ان کے صاحب زادے کمارا سوامی ایک غیر سیکولر سیاسی جماعت بی جے پی سے ’ انتخابی سمجھوتہ ‘ کرنے کو غلط نہیں سمجھتے ۔ گزشتہ اتوار کے روز دیوے گوڑا کا ایک بیان آیا ہے کہ لوک سبھا کے آئندہ انتخابات کے لیے اُن کی پارٹی جنتا دل ( سیکولر) اور بی جے پی میں بات ہو رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی کے لیے کچھ سیٹیں چھوڑ بھی سکتے ہیں ، یعنی ہمیشہ جتنی سیٹوں پر الیکشن لڑتے رہے ہیں ، اُن سے کم پر لڑ سکتے ہیں ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی سیاسی گاڑی چلتی رہے ، اور ان کے گھر کے لوگ پارلیمنٹ پہنچتے رہیں ۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ دیوے گوڑا کا سیاسی سمجھوتہ نطریے کی بنیاد پر نہیں سیاسی مفاد کی بنیاد پر ہوگا ، جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔ دیوے گوڑا اور بی جے پی کا نہ سہی لیکن اُن کی پارٹی اور ان کے صاحب زادے کماراسوامی کا بی جے پی سے پُرانا رشتہ ہے ۔ اور چونکہ دیوے گوڑا جنتا دل ( سیکولر ) کے قومی صدر ہیں اس لیے یہ کہنا کہ بیٹے کے سامنے اُن کی دال نہیں گلتی درست نہیں ہوگا ، یقیناً بیٹے کو ان کی حمایت حاصل رہی ہوگی ۔ کمارا سوامی ۲۰۰۶ء میں بی جے پی کی مدد سے کرناٹک کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں ، یقیناً انہوں نے اس کے لیے اپنے والد دیوے گوڑا سے رضامندی حاصل کی ہوگی ۔ دیوے گوڑا کی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس سے ہوا تھا ۔ ۱۹۶۲ء میں کانگریس سے علحیدگی کے بعد وہ جنتا دل میں شامل ہوئے تھے ، اور ۱۹۹۴ ء میں کرناٹک کے ۱۴ ویں وزیراعلیٰ بنے تھے ، پھر ۱۹۹۶ء میں جب مرکز میں یونائیٹیڈ فرنٹ کی حکومت بنی تھی تو کانگریس کے تعاون سے وہ ملک کے ۱۱ ویں وزیراعظم بن گئے تھے ! گویا ان کی لاٹری لگ گئی تھی ۔ قومی سیاست میں وہ ایک سلجھے ہوئے سیاست داں کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے اس وقت بھی ، جب جنتا دل کے ٹکڑے ہو گئے تھے اور ان کے کئی ساتھی بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کا حصہ بن گئے تھے ، جنتا دل ( سیکولر) کو این ڈی اے سے الگ ہی رکھا تھا ۔ لیکن سیاست کا کھیل بڑے بڑوں کی اخلاقیات کو متاثر کر دیتا ہے ، دیوے گوڑا بھی متاثر ہوئے ۔ پہلے بیٹے کے ذریعے بی جے پی سے کرناٹک میں سمجھوتہ کرکے ، اور اب بی جے پی کے ساتھ لوک سبھا کے انتخابات میں ہاتھ ملانے کا اعلان کرکے ۔ شاید اس فیصلے کے دو اسباب ہیں ، ایک تو جنتا دل ( سیکولر) کا گرتا ہوا گراف ہے ، جس کا ثبوت کرناٹک کے حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج ہیں ۔ کانگریس نے کرناٹک میں مثالی جیت حاصل کی ہے ، دیوے گوڑا کی پارٹی اس کے سامنے صرف ۱۹ سیٹیں ہی جیت سکی ہے جبکہ اس نے ۲۰۹ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے ۔ جنتا دل ( سیکولر) کی تنزلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۲۰۱۸ء کے اسمبلی الیکشن میں اس نے ۳۷ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ پارٹی بتدریج زوال کی طرف بڑھی ہے ۔ ۲۰۰۴ء میں اسے سب سے زیادہ ۵۸ اسمبلی سیٹیں ملی تھیں ، لیکن اس کے بعد اس کی سیٹیں گھٹنے لگی ہیں ۔ کبھی کچھ زیادہ کبھی بہت کم ۔ بلاشبہ دیوے گوڑا کے لیے یہ صورت حال باعث تشویش ہوگی ، انہیں شاید لگ رہا ہو کہ جس پارٹی کو انہوں نے محنت سے کھڑا کیا ہے کہیں وہ دَم ہی نہ توڑ دے ۔ اور شاید یہی وہ اندیشہ ہے جو بی جے پی کی طرف ہاتھ بڑھانے کا سبب بناہے ۔ دیوے گوڑا نے کہا بھی ہے کہ یہ اتحاد وہ ایک علاقائی سیاسی پارٹی کو بچانے کے لیے کر رہے ہیں ، اور لوگوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ کرناٹک کی علاقائی پارٹی جنتا دل ( سیکولر) کو بچانے کے لیے اسے اپنے ووٹ دیں ۔ لیکن چونکہ ان کا اتحاد بی جے پی سے ہو رہا ہے ، اس لیے وہ بی جے پی کی بھی مدد کریں گے ، اُس کے لیے بھی ووٹ مانگیں گے ۔ اقتدار میں رہنے یا اقتدار سے چمٹے رہنے کی چاہ لوگوں کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے ۔ لیکن دیوے گوڑا کرتے بھی کیا ، اپوزیشن کے ’ انڈیا ‘ نے انہیں اپنے اتحاد سے دور جو رکھا ہے ! شاید اس لیے کہ کرناٹک کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے اُن کی اور اُن کے بیٹے کی ناچاقی ہے ۔ لیکن کانگریس کو چاہیے کہ وہ دیوے گوڑا کو بی جے پی میں جانے سے روکے ، کیونکہ فائدہ بھلے جنتا دل ( سیکولر) کا نہ ہو بی جے پی کا فائدہ ہو جائے گا ۔ اور ایسا ہوا تو لوک سبھا کے الیکشن میں کرناٹک میں اپوزیشن کے اتحاد ’ انڈیا ‘ کو نقصان ہو سکتا ہے ۔ دیوے گوڑا بھی سوچیں ، اور عمر کی اس منزل میں بی جے پی کا ساتھ لے کر اپنی ساکھ پر بٹّہ نہ لگائیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like