دستور(افسانہ)-فیصل ہاشمی

 

میں آپ کو اپنے بچپن کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ میں سونی پت کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا اور امبیڈکر اُچ ودیالیہ میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ دس سے چار بجے تک ہماری پڑھائی ہوتی تھی۔ اس کے بعد ہم لوگ قریب کے گاندھی میدان میں فٹ بال یا کرکٹ کھیلنے چلے جایا کرتے تھے۔ برسات کے زمانے میں فٹ بال اور باقی دنوں میں کرکٹ ۔ یہ تقریباً ہر روز کا معمول تھا۔اس دن ہم سب بڑے جوش و خروش میں تھے۔ بات یہ تھی کہ پڑوس کے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کا میچ ہونا تھا۔ یہ تمام لڑکے سورنا پبلک اسکول میں پڑھتے تھے۔
نوے منٹ تک گھمسان کا رن پڑا۔ سورنا پبلک اسکول کے لڑکوں نے تین گول داغ دیے۔ ہم لوگ ایک سے زیاد ہ گول نہ کر پائے۔ ہماری ٹیم پر مایوسی طاری تھی۔ میںاپنی ٹیم کی ہار کے غم میں برابر کا شریک تھا لیکن میں فخر کے جذبے سے بھی سرشار تھا چونکہ میری ٹیم کی طرف سے جو گول ہوا تھا وہ میں نے ہی کیا تھا۔
میں پسینے سے تر بتر تھا ۔ میرے حلق میں کانٹے اگ آئے تھے۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ تمام لڑکے میدان کے ایک کونے میں موجود پیائو کی طرف جارہے تھے۔ میرے قدم بھی اسی جانب بڑھنے لگے۔ میرے وہاں پہنچنے تک ایک قطار لگ چکی تھی۔ میں اس قطار میں شامل ہوگیا۔
پیائو پر موجود شخص ہر لڑکے سے اس کا نام پوچھتا تھا اور پھراسے پانی پلاتااور ایک مٹھی چنے دیتا تھا۔
جب میرے آگے کے سارے لڑکے جاچکے اور میری باری آئی تو اس شخص نے کرختگی کے ساتھ پوچھا:
’ کے نام سے تیرا ؟‘
’روندر۔‘
’اُپنام ؟‘
میں سر نیہوڑائے کھڑا رہا۔ میری ماں نے کہہ رکھاتھا کہ کسی کو اپنا اُپنام مت بتانا۔
’منہ کے آگے چون ڈال رکھیا سی کے؟‘ مجھے خاموش دیکھ کر وہ شخص بھنا گیا۔
’اچھوت سالے۔۔۔بائولی گانڈ۔۔۔ماں کے۔۔۔‘ اپنی چپل اٹھا کر گالی بکتے ہوئے اس نے مجھے دوڑانا شروع کیا۔
تھوڑی دیر وہ میرے تعاقب میںدوڑا اورپھر زمین پر اکڑوں بیٹھ کر کتے کی طرح ہانپنے اورپھر کھانسنے لگا۔
میں بھاگتا رہا اور بھاگتا رہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا مجھ پر تنگ ہو چکی ہے۔ آخرکار میں اپنے گھر پہنچ گیا اور اپنی ماں کے آنچل میں چھپ گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ماں کے آنچل کے سوادنیا میں میرے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اس دن مجھے اپنا باپ بہت یاد آیا۔
’کی چل رہییا سے؟‘ ماں نے پوچھا۔
’ماں، پیائو والے نے منے پانی دینے سے منع کر دتا۔‘
’جان دے۔‘
’ماں، پتا جی کتھے گیا؟‘ حافظہ میں موجود اپنے باپ کی دھندلی تصویر میں رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے پوچھا۔ حالانکہ جواب مجھے پتہ تھا۔
’پرلوک میں چلیا گیا، پتر۔‘ ماں نے کہا ۔ آج پھر اس نے یہ نہ جتایا کہ میںدرجنوں بار یہ سوال پوچھ چکا ہوںاور جواب مجھے پتہ ہے ۔
’ماں، پتا جی مارے کو پیار کردتا ۔‘
’بوت جادا۔‘
’کی ہویا اننے؟ ‘
ماں نے آج پہلی بار بتایا کہ وہ گروگرام میں کسی کے گھر پاخانے کی ٹنکی صاف کرنے اترے تھے۔ وہاں سے ان کی لاش نکلی۔ زہریلی گیس نے ان کا گلا گھونٹ دیا تھا۔یہ بتا کر میری ماں خاموش ہو گئی۔ اس نے ساڑی کا پلو اپنے منہ میں اڑس لیا تھا۔
خیر، آپ لوگوں نے مجھے دستور میں حاصل حقوق پر گفتگو کرنے کا موقع عنایت فرمایا، میں آپ کا مشکور ہوں۔ اسی نظام میں رہ کر میں اس بڑے لا کالج میں پہنچ گیا۔ درست۔ مگر اس طرح کے ادارے میں مجھ جیسے کتنے طلبہ و طالبات پہنچ پاتے ہیں؟
اس دستور نے چھوت چھات کو کالعدم قرار دیا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ نسل، ذات، جنس، مذہب اور مقام پیدائش کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تمیز اور تفریق روا نہیں رکھی جائے گی۔ مینوئل اسکیونجنگ کو بھی ایک قانون بنا کر ممنوع قرار دے دیا گیا ۔ لیکن یہ سارے ممنوعہ اعمال اکیسویں صدی میں بھی جاری ہیں۔
کل کلاںکہیں ایسا نہ ہو کہ دستور کی کتاب دھری کی دھری رہے اور زمانے کا دستور بدل جائے۔ کچھ لوگ تو شاید یہی چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو لوگوں کو ’گدھوں پہ لدی ہوئی کتاب ‘ والی مثال یاد آئے گی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ زیر بحث کتاب سیکولر ہے۔لیکن بہر حال گدھوں کا تعلق تو اسی نسل انسانی سے ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*