داستان رنگ:اجمالی جائزہ- رضوان الدین فاروقی

بیسویں صدی نے اردو افسانے کے کئی ادوار کو جنم بھی دیا اور پروان بھی چڑھایا۔ یہاں وہ افسانہ نگار بھی آئے جنہوں نے روایتی بیانیے کے زیر اثر زندگی کے تلخ و شیریں مناظر کو کہانی کا پیرہن عطا کیا اور وہ بھی جنہوں نے افسانے کو ابہام اور چیستاں بنا دیا ۔ لیکن اسی صدی کے ربع آخر میں وہ دور بھی آیا جس میں بیانیہ اپنی پوری تب و تاب کے ساتھ کہانی میں جلوہ گر ہوا۔ میں یہاں ان افسانہ نگاروں کی کوئی فہرست پیش نہیں کررہا ہوں جن کی کہانیوں نے اردو زبان و ادب کو عالمی منظرنامے پر ایک وقار عطا کیا کہ اہلِ دانش و بینش اس سے بخوبی واقف ہیں۔ بلکہ میں یہاں ضیا فاروقی کے تازہ افسانوی مجموعے ”داستان رنگ“ کا ایک اجمالی تعارف پیش کررہا ہوں جو ابھی حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے ۔اس مجموعے میں اکیس مختصر کہانیاں ہیں جو ان کے عہد شباب سے اب تک کی افسانوی جولانیوں کا مظہر ہیں ۔
ضیا فاروقی کا مطالعہ ادب کی مختلف اصناف میں کافی وسیع ہے۔ انہوں نے تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی نام کمایا اور شاعری میں بھی اپنی ایک معتبر پہچان بنائی۔ ان کی اب تک ۹ کتابیں منظر عام پرآچکیں ہیں جن میں شعری مجموعے بھی ہیں اور تنقیدی و تحقیقی مواد بھی ۔انھوں نے جہاں کانپور کا ڈھائی سو سالہ منظوم تذکرہ شعرائے کانپور لکھا وہیں مطالب الغالب والے سہا مجددی کا مونوگراف بھی لکھا ۔اور اس میدان میں ان کا قلم آج بھی متحرک اور فعال ہے۔ جہاں تک ان کی تازہ کتاب” داستان رنگ ” کا تعلق ہے تو یہ مختصر ہونے کے باوجود ان معنوں میں اہم ہے کہ اس کی کہانیاں ضیا فاروقی کی زندگی کے بھاگتے شب و روز کی عہد بہ عہد حسیت کا اشاریہ بھی ہیں اور ایک خصوصی تہذیب کی آئینہ دار بھی ۔اس کے علاوہ بقول اقبال مسعود ”ان افسانوں میں کہانی بیان کی گئی ہے، زبان کا استعمال بھی خوب ہے، بیانیہ پر گرفت ہے اور تحیر بھی موجود ہے جو افسانے کی جان ہوتا ہے۔“
کتاب کے فلیپ پر معروف افسانہ نگار نعیم کوثر کی رائے بھی بہت معتبر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ”ضیا فاروقی کے افسانے اپنے عہد کی معاشرتی سیاسی صورتحال اور انسانی ذہن و احساس کے ادراک کی کیفیات کو قلم بند کرنے کا نام ہے۔ انھوں نے زیادہ تر اپنے عصر سے سروکار رکھا ہے اور اسی عہد کی تصاویر سے اپنی افسانوی گیلری میں کچھ ایسے کردار نمایاں کیے ہیں جن کا رنگ دیر پا اور چمک متوجہ کرتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے تجریدی طرز اظہار سے گریز کیا ہے۔ اگرچہ ان کی ادبی پرداخت جدیدیت کے طوفانِ بلاخیز کے دوران ہوئی ہے تاہم انھوں نے قاری کو علامتی اسلوب کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے بجائے اپنے شفاف بیانیہ کے ذریعے اپنے عہد کی تفہیم کی ہے اور اس عمل میں انھوں نے قاری کی ذہنی سطح کو بھی مد نظر رکھا ہے۔ ان کی زبان و بیان نک سک سے درست اور بولی ٹھولی کے مزے سے مزین ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ شاعر بے بدل ہیں۔ تاریخ کے سیاح ہیں اور تنقید کے پیچ و خم سے آگاہ ہیں۔ درحقیقت انھوں نے اپنی کہانیوں کی بنت جامِ جم کی جگہ جام سفال سے کی ہے۔ چنانچہ ان کے افسانے آج کے عہد کا آشوب نامہ بن گئے ہیں۔“
ان آرا کی روشنی میں جب ہم داستان رنگ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بیشتر کہانیاں ہمارے آس پاس جیتے جاگتے معاشرے سے لی گئی ہیں جیسے کہ ”نیا رشتہ دار“، ”اذان“، ”آئی ایس آئی کا ہاتھ“ ”اندھیرا“ وغیرہ۔ یہ کہانیاں زندگی کے کیف و کم کا ایک ایسا استعارہ ہیں جن سے ہمارا سامنا اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ زبان پرضیا فاروقی کی گرفت مضبوط اور مطالعے میں وسعت ہے اس لیے ان کہانیوں میں تجربے کی حرارت نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ زبان میں شوخی بھی ہے اور شگفتگی بھی۔ مثلاً ”سر بازار می رقصم“ کا یہ پیراگراف بھی دیکھئے:
”ہمارے محلّہ میں بابو بھائی کا چائے خانہ بھی اسی کارِ خیر کے لیے وقف ہے جہاں شہر بھر کے بیساختہ اور خود ساختہ دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور مختلف فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ویسے تو یہاں ہر مکتب فکر کے لوگ آتے رہتے ہیں جن میں اسکول ماسٹر بھی ہیں اور محلہ سدھار کمیٹی کا مونوگرام لگا کر نیتا جی کہلانے والے لوگ بھی مگر بابو بھائی کی خود اپنی دلچسپی شعرا سے کچھ زیادہ ہی ہے۔اس لیے ان کے چائے خانے میں شعرا کی پذیرائی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔“
ضیا فاروقی نے جس چائے خانہ کا تذکرہ کیا ہے اس طرح کے ادبی اڈّے تقریباً ہر شہر میں موجود رہے ہیں جن کی شعر و ادب کے فروغ میں بہرحال اہمیت رہی ہے ۔ ضیا فاروقی نے اپنی اس کہانی میں جو منظر کشی کی ہے وہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ وہ زبان کی خوشبو سے بھی مہک رہی ہے۔ اسی افسانے کا یہ پیراگراف بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
”بابو بھائی کے چائے خانے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اردو زبان و ادب سے معمولی شد بد رکھنے والا شخص بھی پابندی سے چالیس دن اگر ان کے ہوٹل کی چائے پی لے تو اکتالیسویں دن وہ ہوٹل کی سیڑھیاں کچھ اس انداز سے اترے گا جیسے کوہِ طور سے موسیٰ۔ پھر وہ شہر بھر میں منادی کرتا پھرے گا کہ یقین جانو اور ایمان لے آؤ کہ میں ہندوستان کا صف ِ اول کا شاعر ہوں اور آج تک ادب میں ما قبل خواجہ الطاف حسین حالیؔ تا ما بعد شمس الرحمن فاروقی جو کچھ لکھا پڑھا گیا ہے وہ بیک قلم موقوف۔ اب جو میں کہوں وہی سچ ہے۔“
اب ذرا نیا رشتہ دار کے ایک کردار بابو شرافت علی کا تعارف دیکھیے:
”بڑی باغ و بہار طبیعت پائی تھی۔ خصوصاً صنف نازک کے معاملے میں تو احباب کو بھی ان پر رشک آتاتھا۔ بقول خود ان کے نوجوانی سے بڑھاپے کی سرحد تک آتے آتے چالیس معاشقے وہ اپنی زندگی کی رنگین کتاب میں درج کرچکے تھے……مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بہتا پانی بھی کہیں نہ کہیں مرتا ہے سو یہ آخری عشق بھی ان کے لیے سوہانِ روح ہوگیا۔“
داستان رنگ میں کہانی ”آئی ایس آئی کا ہاتھ“ بھی جہاں معاشرے کی ایک تکلیف دہ صورتحال سے عبارت ہے اور آج کی زرد صحافت کی تصویر بھی پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک عام سے ذاتی جھگڑے کو اخبار کی سرخی نہ صرف خاص بنا دیتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو زہر آلود کردیتی ہے۔
ضیا فاروقی جس تہذیبی ماحول کے پروردہ ہیں اس کا ایک عکس ”ساٹھ بیگھہ کھیت“ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ خاتمہ زمینداری کے بعد بھی زمینداروں کا ایک طبقہ جس طرح اپنی وضع داریوں کو نبھاتا ہے اس کی خوبصورت منظر کشی اس کہانی میں کی گئی ہے۔
بہرحال اکیس افسانوں پر مشتمل ”داستان رنگ“اپنے اندرون میں تہذیب و تمدن کے بہت سے رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں زبان و بیان کی دلکشی بھی ہے اور اپنے عہد کی عکاسی بھی۔
کتاب مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے مالی تعاون سے اور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس کے زیر اہتمام بڑے خوبصورت اور دیدہ زیب سر ورق کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ کتا ب کو حاصل کرنے کے لیے مصنف سے موبائل نمبر 919685972242+ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔