دارالعلوم دیوبند کی تاسیس اورجشنِ یومِ تاسیس-مسعود جاوید

یہ بات واقعی خوش کن ہے کہ شاید پہلی بار دارالعلوم دیوبند کے منتسبین نے اس جوش خروش کے ساتھ اس عظیم ادارے کا ١٥٤ واں یوم تاسیس منایا تواصل اجتماعی سوشل سائٹس بالخصوص فیس بک پر اپنی عقیدت کا بھر پور اظہار کیا اور ٹویٹر پر نمبر ١# ٹرینڈ رہا۔
دارالعلوم دیوبند کی فکری علمی روحانی اور سیاسی ہمہ گیریت کا مکمل استیعاب میرے جیسے کم علم اور طالب علم کے لئے ممکن نہیں ہے تاہم ہر عقیدت مند کو اپنی اپنی بساط کے مطابق خوشہ چینی کرنا دینی و ملی تقاضہ ہے۔ اسی ضمن میں دینی مدارس کے ارباب حل و عقد اور ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے فرزندوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دارالعلوم دیوبند کو حقیقی خراج عقیدت اس کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اللہ مرقدہ کے بتائے ہوئے رہنما اصول پر عملدرآمد کرنا اور کرانا ہے اس لئے کہ عافیت پسند ذمہ داران مدارس ان اصولوں کو طاق نسیاں پر رکھ اپنی سہولت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
مدارس دینیہ کے نصاب تعلیم کے موضوع پر ناچیز نے جب بھی خامہ فرسائی کی اس کا محور بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اللہ مرقدہ کا اصول ہشتگانہ رہا۔ وہ اصول ہشتگانہ مدارس دینیہ کے لئے زمان و مکان کے تغیر کے باوجود آج بھی چراغ راہ ہیں بشرطیکہ ان اصولوں کی روح کو سمجھ کر آج کے دور میں تطبیق کی جاۓ۔ ان آٹھ اصولوں میں سے دو اصول ایسے ہیں جسے پڑھ کر تعلیمی اداروں کے نظم و نسق سے ادنی واقفیت رکھنے والا شخص بھی عش عش کر اٹھتا ہے، بانی رحمہ اللہ کی دور اندیشی کا قائل ہو جاتا ہے اور آج کے مدارس دینیہ کی زبوں حالی کی بعض وجوہات کو جان سکتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ یہ مدارس دینیہ جو گرجہ بحیثیت کمیت یعنی عددی طور پر خوب پھل پھول رہے ہیں مگر بحیثیت کیفیت یعنی منفعت کے نقطہ نظر سے بلا شبہ تنزلی کی راہ پر ہیں۔

ان آٹھ زریں اصولوں میں سے دو اصول اس تحریر کا موضوع ہیں :
١- نصاب تعلیم ۔
نصاب تعلیم میں عصری علوم شامل نہیں کرنے کی وجہ حضرت بانی رحمہ اللہ نے یہ لکھی ہے کہ جس چیز کی کمی ہوتی ہے اس کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں مدارس دینیہ کے اخراجات اوقاف اٹھاتا تھا۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد برطانوی حکومت نے استعماری پالیسی کے تحت اوقاف اور اس کی آمدنی پر قبضہ کرلیا اور دینی مدارس کی اعانت بند کر دی۔ اس کے مقابل انہوں نے سرکاری مدرسے (اسکول) قائم کئے جس کے نصاب تعلیم میں قرآن، تفسیر حدیث اور فقہ نہیں تھے۔ دوسری طرف عیسائی مشنریوں نے شدت کے ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی اور ارتداد کا خطرہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے دینی مفکرین نے یکساں طور پر محسوس کیا چنانچہ اس کے سد باب کے لئے اور نصاب تعلیم میں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مذہبی تعلیمی ادارے قائم کئے گئے اور اس کی پہل دیوبند میں دارالعلوم ٣٠ مئ ١٨٦٦ ء میں اور اس کے دس سالوں کے بعد یکم جون ١٨٨٦ء کو لاہور میں دیانند اینگلو ویدک اسکول سے کی گئی۔
یہ بات قابل فخر و انبساط ہے کہ مولسری کے درخت کے نیچے ایک استاد اور اور ایک شاگرد سے حضرت بانی رحمہ اللہ کا درخت مدتوں پہلے ایک تناور درخت بن چکا جس کی شاخیں نہ صرف ہندوستان بلکہ برصغیر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ اسی کا فیض ہے شاید ہی کوئی گاوں کھیڑا قصبہ چھوٹا شہر یا بڑا شہر ہے جہاں
دینی مدرسہ یا دینی مکتب نہیں پایا جاتا کوئی ایسی مسجد نہیں جہاں ان مدارس دینیہ کے فارغین معمولی تنخواہوں پر بحیثیت أمام مؤذن خدمت انجام دے رہے ہیں۔
لیکن کیا دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد مدرس امام مؤذن پیدا کرنا تھا ؟ اس کا جواب طبعاً نفی میں ہے۔ بانی دارالعلوم نے جیسا کہ واضح کیا کہ ہمارے طلباء مدرسوں میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری مدرسوں (اسکولوں) میں داخلہ لیں اور ان عصری علوم کے مضامین میں بھی امتیاز حاصل کریں‌۔ حضرت بانی رحمہ اللہ کی دور اندیش آنکھوں نے دیکھا اور عبقری ذہن نے محسوس کیا تھا کہ تمام مسلمانوں کو مفسر قرآن ، محدث ،فقیہ اور مفتی بنانا ملت اسلامیہ کی معاشی، سیاسی اور سماجی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا اس لئے آج سے ١٥٤ سال قبل انہوں نے رہنما اصول بنا دیا تھا کہ بنیادی دینی تعلیم دی جائے اس کے بعد اسکول کالج یونیورسٹی کی تعلیم اتنی جانفشانی سے حاصل کی جاۓ کہ وہ امتیازی درجات رینک ڈویژن اور مہارت سے سرفراز ہوں۔ ظاہر ہے حضرت بانی رحمہ اللہ نے جو رہنما اصول مقرر کیا وہ قرآن و حدیث کے منافی ہے اور نہ عقل کے۔ کسی بھی فیلڈ میں اختصاص مہارت اسپیشلائزیشن چند افراد ایک گروہ حاصل کرتا ہے نہ کہ پوری قوم۔ قرآن کریم کی آیت ” طائفة منهم ليتفقهوا في الدين” جس کا مفہوم ظاہر ہے کہ تفقہ فی الدین ایک گروہ حاصل کرے۔
حضرت بانی رحمہ اللہ کے اس اصول کو منتظمین مدارس نے نظر انداز کردیا اور اپنے طلباء کو عصری علوم کی درسگاہوں میں داخلے کے اہل بنانے کے لئے بنیادی عصری علوم کی چند کتابیں نصاب میں شامل نہیں کیا۔ حالانکہ یہ ان کی تنگ نظری اور عافیت پسندی اور بہت ممکن ہے مہتمم او ناظم کا قد چھوٹا اور بڑا ہونے کا خوف ہو، مگر عوام میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ علماء انگریزی زبان اور عصری علوم و فنون کے خلاف ہیں۔
بعض مدارس میں وسائل کی فراوانی ہونے کے باوجود عصری علوم کے دو تین اساتذہ کی خدمات حاصل نہیں کئے جاتے۔ اس کے لئے منتظمین سے بات کریں تو جو ایک عذر پیش کرکے سائل کی زبان بند کرا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ مدارس کے اخراجات کے لئے مخیر حضرات جو چندہ دیتے ہیں وہ علم دین کی اشاعت کے لئے نہ کہ دنیاوی علوم کے لئے ! یہ عذر بہت معقول اس لئے نہیں ہے کہ سال ششم تک نصاب میں چند عصری علوم کی کتابیں شامل کرنے سے آپ دنیاوی تعلیم نہیں دیں گے بلکہ طلباء کو عالم دین کے ساتھ ساتھ ذمہ دار شہری بنا ئیں گے۔ ہر طالبعلم دینی ہو یا عصری اس کے لئے بنیادی میتھمیٹکس، سوشل سائنس ا‌نگریزی، ہندی تاریخ اور جغرافیہ جاننا لازم ہے۔
طائفة اور تفقہ فی الدین کے ضمن میں ذرا تصور کریں کہ دارالعلوم دیوبند سے ہر سال دس ہزار طلباء ( گریجویشن) فارغ ہوتے ہیں ۔ اب ظاہر ہے نہ اتنے مدارس اور مساجد ہیں جہاں انہیں جگہ ملے اور نہ آپ نے اپنے نصاب کے توسط سے ان کو عصری تعلیم گاہوں میں داخلے کا اہل بنایا۔۔۔۔ تو الفقر یؤدی الی الکفر کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ توکل علی اللہ کا مفہوم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا نہیں ہے یہ علماء کرام اور منتظمین مدارس خوب جانتے ہیں پھر بھی وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں کہ ان کے طلباء فراغت کے بعد ہمیشہ معاشی بحران کا شکار رہیں! پہلے صرف دارالعلوم دیوبند میں افتاء کی تعلیم دی جاتی تھی اس کے بعد مظاہر علوم میں۔ دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں داخلہ کے لئے سخت انٹرنس ٹیسٹ ہوتا ہے۔ بہت تھوڑے لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ برا ہو تعلیم کے پرائیویٹائزیشن کا کہ جس طرح آئی آئی ٹی اور سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ کے انٹرنس میں فیل پرائیویٹ میں داخلہ لے لیتے ہیں اسی طرح سننے میں آیا کہ بعض لوگوں نے دیوبند میں ایک فلیٹ میں افتاء کی تعلیم دینے لگے اب وہ کتنی معیاری تعلیم ہوگی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور دیوبند کے نام سے گمراہ کرنے کا الگ خطرہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ ابھی تک بہار جھارکھنڈ اور کرناٹک کے بعض ضلعوں کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں دارالقضاء قائم نہیں کیا جا سکا ہے تو اتنی بڑی تعداد میں مفتیوں کا کھیپ کہاں خدمات انجام دیں گے۔
اس لئے فرزندانِ دارالعلوم دیوبند اور ان کے منتسبین کا دارالعلوم دیوبند کو بہترین خراج عقیدت یہی ہوگا کہ وہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ان گنت مدارس دینیہ کے نصاب میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ضروری ترمیم کرانے کی مہم شروع کرائیں، ان کے وفاقی نصاب کے لئے NCERT طرز پر کونسل کی تشکیل کرائیں ، CBSE کے طرز پر اس کا بورڈ بنوائیں اور ان کے ناموں کی خانہ بندی کرائیں اس لئے کہ ابھی دوسرے درجے تک کی تعلیم دینے والے مدرسہ بھی اپنے آپ کو جامعہ (University)، لکھتا ہے۔ایک فعال وفاق المدارس کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ اس کےتحت یہ مدارس منظم ہوں گے اور حسب درجات ان کی خانہ بندی ہوگی کہ کون جامعہ (یونیورسٹی) ہے کون کلیہ (کالج) ہے کون مدرسہ علیا(ہائی اسکول) ہے کون مدرسہ ثانویہ ( سکنڈری اسکول) ہے اور کون مدرسہ ابتدائیہ (پرائمری اسکول) ہے۔
٢- مدارس کی اعانت
بانی رحمہ اللہ کا دوسرا زریں اصول مدارس دینیہ کی اعانت اور ان کے اخراجات کی کفالت کے تعلق سے درج ہے۔
اس ضمن میں بانی رحمہ اللہ نے اس پر زور دیا کہ اخراجات کے سلسلے میں منتظمین منتسبین اور بہی خواہان روحانی طور پر ہمیشہ اللہ پر توکل کرتے رہیں اسی کی طرف رجوع کرتے رہیں اور دعا کرتے رہیں۔ مادی طور پر عام مسلمانوں کے چندے خواہ کتنی ہی قلیل ہو ان سے لیتے رہیں کبھی حکومت کی اعانت نہ لیں نہ کسی رئیس ، جاگیردار امیر و کبیر کی رقم اور ان کی طرف سے پورا خرچ اٹھانے کو قبول کریں۔
اول الذکر یعنی مقامی اور کم حیثیت لوگوں سے چندہ لینا ذمہ داران مدارس میں احساس جوابدہی زندہ رکھتا ہے۔
ثانی الذکر حکومت یا کسی صنعتی گھرانے یا امیر و کبیر کی طرف سے یقینی اعانت منتظمین میں توکل علی اللہ اور رجوع الی اللہ کم کرنے کا باعث ہوگا اور دوسری بات یہ کہ زبانی یا تحریری طور پر کچھ کہا جائے یا نہیں، مالی اعانت مدرسے کے تعلیمی اور انتظامی امور میں دخل اندازی کے دروازے کھول سکتی ہے۔ ایسے معاونین سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے مدرسہ کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)