دارالعلوم وقف دیوبند کا قابلِ تقلید قدم ـ محمد جاوید قاسمی

حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن،کانپور

جدید ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے قدرت کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے ۔ ضرورت کے وقت اس کا مثبت استعمال نہ کرنا ناشکری ہوگی.
موبائل، انٹرنیٹ و کمپوٹر کا انسان کی زندگی سے ایک ایسا اٹوٹ رشتہ ہوگیا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی اس رشتے کو توڑا نہیں جاسکتا۔ موبائل کی وجہ سے انسان نے دنیا مٹھی میں کرلی ہے۔
موبائل و انٹرنیٹ نے جہاں اور بہت سے میدانوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں تعلیم کے میدان میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے، علم کا حصول نہایت آسان بنادیا ہے، علمی ذخیرے تک رسائی ہر ایک کے لیے بالکل سہل ہوگئی ہے۔
اس کی اہمیت کا اندازہ کرونا کی وبا میں ہر کسی کو ہوگیا، جہاں ایک انسان دوسرے انسان سے مکمل منقطع تھا، تعلیم بالکل ناممکن تھی لیکن اس ٹیکنالوجی نے طلبا کو تعلیمی ادارے بند ہونے کا احساس ہی نہیں ہونے دیا، اسکول و کالج والوں نے اس کا بروقت استعمال کیا اور بھر پور فائدہ اٹھایا ۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اہل مدارس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا، کسی بھی طرح کا لائحہ عمل تیار ہی نہیں کیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آسانی سے آن لائن تعلیم کا نظم کیا جاسکتا تھا، مگر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، طرفہ تماشا یہ کہ اگر کسی مخلص نے اہل مدارس کو آن لائن تعلیم کے سلسلے میں مشورہ دیا تو بجائے اس کے کہ اس کی بات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا سرے سے آن لائن تعلیم کو غیر نافع قرار دے دیا گیا، سوشل میڈیا پر آن ہوگئے اور نقصانات پر ہزاروں صفحات لکھ ڈالے ۔ اس سے بڑھ کر اپنے اپنے لیٹر پیڈ پر لچر دلائل کے ساتھ آن لائن تعلیم کو خارج کردیا ۔
اس سلسلے میں نوجوان نسل کی نگاہیں دارالعلوم دیوبند کی جانب تھیں کہ کوئی لائحہ عمل تیار ہوگا، اس وبائی صورت حال میں کسی متبادل نظام کو پیش کیا جائے گا، تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے گا، مگر
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
ایک سال گزر چکا ہے، دوسرا سال بھی کرونا کی نذر ہورہا ہے، نہ کوئی اقدام نہ لائحہ ء عمل، بالکل سکوت اور سناٹا، کتنے طلبہ تعلیم سے کنارہ کش ہوگئے، کتنے دارالعلوم میں داخلے کا دروازہ بند دیکھ کر بد دل ہوگئے، کتنے تو بس سال دو سال میں عالم بننے والے تھے، مگر اب زندگی کے دوسرے مشاغل نے انھیں اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے، بڑے درجے کے طلبہ کا مبہم کیریئر دیکھ کر نیچے درجے کے طلبہ یا ان کے سرپرست کا بھی من پھیکا ہوگیا ہے، اگر اب بھی بروقت متبادل نظام متعارف نہ کروایا گیا تو یہ محض سال دو سال کا فرق نہ ہوگا بلکہ سمتوں اور منزلوں کا فرق ہوگا۔
متبادل نظام کی ایک شکل آن لائن تعلیم تھی، سال گزشتہ کچھ اداروں نے اس کا تجربہ کیا تھا، جس میں ملک کا معروف و مرکزی ادارہ دارالعلوم وقف دیوبند بھی ہے، جس کے مثبت و مفید نتائج سامنے آئے، ضرورت تھی کہ ان اداروں کے تجربات کو سمجھا جاتا، ان کے ساتھ ڈسکس کیا جاتا، پھر "مالایدرک کلہ لایترک کلہ” کو مد نظر رکھتے اس سے فائدہ اٹھایا جاتا، یا اس سے بہتر نظام پیش کیا جاتا، مگر اس کے برعکس نہ خود تجربہ کیا نہ تجربہ کرنے والوں سے ڈسکس کیا نہ کوئی اور تعلیمی خاکہ پیش کیا، بلکہ بلا تجربہ ہی آن لائن تعلیم کے نقصانات بیان ہونے لگے، محض اندیشوں اور وسوسوں کی بنیاد پر دوسروں کے مفید یقینی فوائد کی تردید کرنے لگے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کتنے فعال ہیں اور تعلیمی مشن میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔
ہم ان اداروں کی کاوش کو بنظر ستائش دیکھتے ہیں جنھوں نے بہر صورت تعلیمی تسلسل برقرار رکھا اور اپنے گزشتہ تجربوں کی بنیاد پر سال رواں میں بھی اس کی کوشش کی ہے، ان اداروں میں سرفہرست دارالعلوم وقف دیوبند ہے، جس نے اس سلسلے میں سنجیدگی سےغور کیا اور بر وقت لاک ڈاون لگتے ہی آن لائن تعلیم کا نظم کیا جو پورے سال جاری رہا اور سالانہ امتحان بھی لے لیا ۔ یہ ایک قابل تقلید قدم ہے دوسرے مدارس والوں کے لیے سبق ہے ۔ مبارک باد کے لائق ہیں دارالعلوم وقف کے مہتمم صاحب کہ انہوں نے فعالیت کا مظاہرہ کیا اور طلباء کے وقت کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔اللہ جزا خیر عطا فرمائے!