دارالعلوم وقف دیوبند اور آن لائن تعلیم ـ سیف الرحمن ندوی

استاذ جامعہ رحمانی، مونگیر، بہار 
عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں معاشی واقتصادی طور پر کافی بڑا نقصان ہواہے وہیں تعلیم و تعلم کا بھی بڑا خسارہ ہواہے؛ بلکہ کورونا جیسی عالمی ،سرکاری اور کسی حد تک مہک وبا کے اس دور میں انسانی زندگی کے تمام ہی شعبے متأثر ہوئے ہیں مزید یہ بھی سچ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اور گہرا اثر جس شعبہ پر پڑا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے ؛ کیونکہ احتیاطی طور پرلاک ڈاؤن کی صورت میں جہاں ہر طرح کے صنعت و کاروبار، تمام سرکاری و نجی دفاتر، اجتماعات و محافل اور نقل و حمل کے ذرائع پر روک لگا دی گئی وہیں تمام کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس میں تعطیل کردی گئی اورتعلیم وتعلم کا سلسلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ، نیز تعلیمی اداروں کی تعطیل کا سلسلہ ہنوز جاری ہے؛اگرچہ دوسرے معاملات میں کچھ آسانیاں فراہم کی گئی ہیں ۔
23/ مارچ 2020 ء کو ہندوستانی حکومت نے کورونا کے سبب جب اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس قدر طویل ہوگا ، اورتعلیمی ادارے سمیت انسانی زندگی کے تمام شعبے مفلوج ہوکر رہ جائیں گے ۔
اب جب کہ جمود و تعطل کا یہ وقفہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جارہا ہے اور اب تک حکومتی سطح پرنہ سرکاری تعلیمی اداروں کے کھولنے کا کوئی ذکر ہے نہ ہی نجی تعلیمی اداروں کے کھولنے کا کوئی تذکرہ ، تو دیگر تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کی طرح ارباب مدارس کو بھی یہ فکر دامن گیر ہے کہ کس طرح تعلیمی نظام کو چلایا جائے ؟ روایتی تعلیمی نظام کا متبادل کیا ہوسکتا ہے ؟ کیا آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو اپنایا جائے ؟ اگر اپنایا جائے تو یہ کامیاب رہے گا یا نہیں ؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جو اہل مدارس کے ذہن و دماغ میں اس وقت گردش کر رہے ہیں ؛ لیکن دینی تعلیمی اداروں کی دنیا میں ایک عالمی شہرت یافتہ ادارہ ایسا بھی ہے جومذکورہ تمام طرح کے سوالات سے بے پرواہ ہوکر اپنی منزل کی طرف کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے، جس کو دنیا "دارالعلوم وقف دیوبند” کے نام سے جانتی ہے۔
برصغیر کے اندرموجودہ وقت میں جس طرز تعلیم پر دماغ لگائے جارہے ہیں اورجس کے مفید و مضر پہلو پر مقالات و مضامین لکھے جارہے ہیں اس طرز تعلیم سے ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی سے واقف بھی تھے اوراس پر عمل پیرا بھی ؛ لیکن دنیا کی ترقی پذیر اقوام جو اب تک روایتی طرز تعلیم پر عمل پیرا تھیں ان کو بھی بحالت مجبوری اس سے روشناس ہونا پڑا ، جسے ہم آن لائن ایجوکیشن سسٹم یا آن لائن نظام تعلیم کہتے ہیں۔
اس موضوع پر بلا شبہ غور و خوض کے بہت سے پہلو ہوسکتے ہیں ؛ لیکن اگر ہم محاسبہ کریں کہ یہ طریقہ کارعملی میدان میں کتنا مفید اور کتنا مضر ثابت ہوگا ؟ توہم ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گےکہ اس مجبوری کی گھڑی میں علمی ذوق و شغف رکھنے والےطالب علموں کے لیے یہ طریقہ کار کافی حد تک متبادل اور علمی سیرابی کے لیے معاون ثابت ہوگا ، جس سے وہ بآسانی اپنے اپنے گھروں میں رہ کر تعلیم حاصل کر پائیں گے اوراستاذہ کی باتوں کو سماعت کرکے اسے وہ محفوظ بھی کرسکیں گے اور وقت بھی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے، جیسا کہ دارالعلوم وقف دیوبند نے عملی نمونہ پیش کیا ہے جو یقینا قابل تقلید ہے ۔
آن لائن تعلیمی نظام کو برصغیر کے جن قابل ذکر دینی اداروں نےبر وقت اپنایا ان میں نمایاں نام مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم وقف دیوبند اور جامعہ اشاعۃ العلوم اکل کواکا ہے ؛ البتہ دیگر اداروں کے مقابلہ میں دارالعوم وقف دیوبند کا نظام تعلیم اپنی افادیت ونافعیت کے لحاظ سے زیادہ مرتب اور منظم ہے، بلکہ کہا جائے مدارس کے طلبہ کی بیشتر تعداد اور ان کی علاقائی ومعاشی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ عملی وتطبیقی ہے جو دیگر اداروں کے لئے لائق تقلید ہے،یہ صرف خوش گمانی پر مبنی جذبات نہیں ہیں ؛ بلکہ میرے متعدد بھائی دارالعلوم وقف دیوبند میں زیر تعلیم ہیں اس لئے مجھے عملی طور پر اس نظام سے بہت قریبی واقفیت کا موقع ملا ہے، اس نظام کی اہمیت کے پیش نظر اس نظام کا مختصر خاکہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دوسرے ادارے بھی اس سے استفادہ کر سکیں:
۱۔ ویڈیو سیشن کے بجائے کم ایم بی پر مشتمل آڈیو کا نظام رکھا گیا، جس میں مختلف پہلووں کی رعایت تھی، مثلا: دیہی علاقوں میں نیٹ ولائٹ کا نظام کمزور ہونا، اسی طرح ایک ہی گھر ومحلے کے کئی طلبہ زیر تعلیم ہوں اور موبائل کی قلت ہو تو باری باری تمام طلبہ اپنے اسباق میں شرکت کر سکیں۔
۲۔ حاضری کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے حتی الامکان کوشش کی گئی جس کے لئے اسباق کو محض ۲۴ گھنٹوں کے لئے ویب سائٹ پر ڈالا جاتا اور اس کے بعد از خود اگلے دن وہ اسباق ختم ہوجاتے اور نئے اسباق نشر کردئے جاتے، ان اسباق کو ڈاونلوڈنگ اور شئیرنگ سے محفوظ رکھا گیا تاکہ طلبہ بروقت اس دورانیہ میں اس کو پابندی سے سماعت کریں، نہ لائوک سیشن کی طرح سبق چھوٹنے کا عذر اور نہ ڈاونلوڈنگ کی شکل میں تساہلی کا امکان۔
یہ اپنے میں ایک لائق عمل نمونہ پیش کیا گیا، عام طور سے مدارس کے آن لائن نظام میں اداروں کی جانب سے یہی دو کمیاں سامنے آئی ہیں جن کی رعایت کی اس نظام میں حتی الامکان کوشش کی گئی ہے۔
۳۔ اس میں اہم ترین پہلو یہ بھی رہا کہ مکمل نظام کسی تیسرے پلیٹ فارم سے نہ چلا کر اپنی ویب سائٹ سے نشر کیا گیا جس سے جہاں ایک طرٖف مدارس کے نظام میں انضباط سامنے آیا وہیں دوسرے بہت سے موجودہ احوال کے لحاظ سے یہ عمل انتہائی مناسب اور ضروری تھا کہ آج کل سوشل میڈیا پر لوگ اسلام واسلامی تعلیمات پر غیر ضروری حملہ کرنے کے در پے رہتے ہیں جس کے لئے اس نظام کو پاسورڈ کے ذریعہ محفوظ کیا گیا مزید ڈاونلوڈنگ اور شئیرنگ کو بند رکھ کر اس کو تحفظ فراہم کیا گیا، یہ یقینا بڑی دور رسی اور بصیرت پر مبنی عمل ہے۔
۴۔ تعلیم وتعلم کے لئے اساتذہ وطلبہ کے درمیان ربط باہمی نہایت اہم ہوا کرتا ہے اگرچہ مکمل طور پر اس کا تدارک ان احوال میں ممکن نہیں تھا ؛لیکن اس کے حتی الامکان حل کے لئے ہر کتاب کا واٹس ایپ گروپ متعلقہ استاذ کو شامل کرکے بنایا گیا؛ تاکہ طلبہ بروقت استفسار کرسکیں اور استاذ اگلے دن ان سوالات کی روشنی میں جواب پیش فرمادیں، اس میں کسی حد تک باہمی ربط قائم کرنے کی کوشش کی گئی، ظاہر ہے اس سے زیادہ فی الحال کوئی اور صورت ممکن بھی نہیں تھی۔
دارالعلوم وقف دیوبند کی طرف سے شروع کیا گیا یہ نظام تقریبا ایک سال سے کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے اور ان دنوں وہاں کے طلبہ آن لائن سالانہ امتحانات کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور ان ہی امتحانات کے رزلٹس اور نتیجے کی بنیاد پرطلبہ کے درجات میں ترقی بھی دی جائے گی، گویا کہ دارالعلوم وقف دیوبند نے اپنے طلبہ کے گزشتہ تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچالیا؛ لیکن روایتی طرز تعلیم پر مصر اکثر اہل مدارس پورے سال منتظر رہے کہ شاید اب، شاید تب مدارس کھولنے کی اجازت مل جائے ؛ مگر سب کچھ کھلنے اورکھولنے کے باوجود مدارس نہ کھل سکےاور انہوں نے طلبہ کے سال کو ضائع کردیا ، اس لحاظ سے جہاں ایک طرف دارالعلوم وقف دیوبند اور اس کی انتظامیہ بھر پور مباکباد کی مستحق ہے وہیں دوسری طرف ان کا یہ اقدام ؛ بلکہ کارنامہ اس بات پر بھی دال ہے کہ وہ نونہالان قوم و ملت کی تعلیم و تربیت کے تئیں کافی فکرمند رہتے ہیں ، حالات اور ان کے تقاضوں سے باخبر رہتے ہیں اور وقت کے چیلنجز کو قبول کرتے ہیں اور ان کے تدارک کی کامیاب سعی بھی کرتے ہیں ۔
لہذا میں دیگر اہل مدارس سے بصد احترام یہ گزارش کروں گا کہ دارالعلوم وقف دیوبند کی طرح مرتب و منظم اور Systematic انداز میں تعلیمی مرحلے کا آغاز فرمائیں ، طلبہ کے سال کو ضائع ہونے سے بچائیں ، وقت کی آواز پر لبیک کہیں اوراپنے مسائل کے تدارک کے لیے ذہنی بیداری کا ثبوت دیں!
دارالعلوم وقف دیوبند کی انتظامیہ کو یہ بیدار مغزی ،قوم و ملت کی خدمت کا یہ جذبہ ، قائدانہ صلاحیت ، عملی نمونہ پیش کرنے کا یہ ہنر ، اپنے اجداد سے ورثہ میں ملا ہے ، چنانچہ ” خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی دوربین نگاہوں نے اپنی وفات سے تقریبا چار دہائی قبل ہی اس ضرورت کا اور آج کے اس تقاضے کا ادراک کر لیا تھا اور اپنے ایک خطبہ میں فرمایا تھا کہ دینی جامعات اور مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ انٹر نیشنل وسائل علم و خبر ” کمپیوٹر "اور انٹر نیٹ ” کو تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کریں ؛ کیوں کہ ان کے ذریعہ سے اپنی تعلیمی و تربیتی جد جہد کی افادیت کو عام کرنے میں اور صحیح فکر و عقیدہ کی نشر و اشاعت میں ان کو بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے اور اس سے ملت و امت کو کافی مستفید کر سکتے ہیں ۔
اسلاف نے اپنے زمانے میں پیدا شدہ فتنوں کا بھر پور تعاقب کیا ہے اور ہر چیلنج کو قبول کرکے ان کا دندان شکن جواب بھی دیا ہے ، تقریریں کیں ، تحریریں لکھیں ، مناظرے کیے ، تحریکیں چلائیں ، لٹریچر شائع کیے اور ضرورت پڑی تو میدان میں بھی آئے ؛ لیکن آج کے تقاضے کچھ اور ہیں ، آج تقاضہ اس بات کا ہے کہ ہم نئے چیلنج کو قبول کریں اور جن راستوں اور واسطوں سے باطل طاقتیں اسلام اور اہل اسلام پر حملہ آور ہیں ہم ان ہی راستوں سے ان پر پلٹ وار کریں ـ (خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی رحمہ اللہ حیات، افکار وخدمات، ص: ۵۸۰، ناشر: حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف دیوبند)
ایک اہم بات یہ کہ آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو اب ا پنانا تو ہوگا ہی کہ اب وہی تنہا متبادل ہے ؛ لیکن اہل مدارس کو چاہئے کہ بہت غور و خوض کرکے مفید سے مفید طریقہ اپنائیں ؛ تاکہ اپنے مقاصد میں کامیابی مل سکے ۔
اخیرمیں اساتذہ کرام سے بھی میں عرض کروں گا کہ وہ صرف اپنا ٹاسک مکمل کرکے مطمئن نہ ہوجائیں؛ بلکہ طلبہ کوسوالات و جوابات کے ذریعے اوردیگر ضروری تعلیمی ذمہ داریوں کا پابند بنا کر مستعد رکھیں تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت حصول علم میں صرف کریں اور بےجا سرگرمیوں میں مشغول ہوکر اپنی زندگی کا بیش قیمتی لمحہ یوں ہی ضائع نہ کرپائیں ،آن لائن ٹیچنگ اور فزیکلی ٹیچنگ میں کافی فرق ہے، دونوں میں کچھ آسانیاں ہیں تو کچھ دشواریاں بھی ہیں ، اس لیے کہ اتنے بڑے پیمانے پرآن لائن ٹیچنگ کا تجربہ ساری دنیا میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔
اور بالکل اخیر میں یہ بات بھی میں ضرور کہوں گا کہ موجودہ وقت میں تعلیمی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے اور کسی حد تک اس کی بھرپائی کے لیے جن چار اجزاء کا کلیدی کردار ناگزیر ہواکرتا ہے وہ سب مکمل مستعدی کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ، جیسے والدین یا گارجین ،ادارہ کی انتظامیہ ، اساتذہ کرام اور طلبہ عزیز ، اگر وقت رہتے اپنی ذمہ داریوں کے استحضار کے ساتھ ایسا کر لیا گیا تو یہ آن لائن ایجوکیشن سسٹم ہمارے لیے ایک بہتر متبادل ثابت ہوسکتا ہے ؛ بلکہ ہوا بھی ہے ، جیسا کہ دارالعلوم وقف دیوبند نے عملی نمونہ پیش کر کے ہمارے تذبذب اور شش و پنج کو دور کردیا ہے اب صرف فیصلہ لینے کی دیر ہے اور بس ۔