دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے نائب ناظم مولانا سید محمد حمزہ حسنی ندوی کا انتقال

لکھنؤ: (نازش ہماقاسمی) معروف دینی ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے نائب ناظم مشہور عالم دین مولانا سید حمزہ حسنی ندوی کا آج شام لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔
مولانا سید محمد حمزہ حسنی ندوی ۱۵؍دسمبر ۱۹۵۰ء میں پیدا ہوئے۔ معہد، دار العلوم، ندوۃ العلماء میں ابتدائی تعلیم اور پھر دارالعلوم، ندوۃ العلماء سے ثانوی و عالی تعلیم کے بعد حدیث شریف میں تخصص بھی کیا۔ ان کے والد مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کے حقیقی بھانجے اور والدہ مرحومہ ان کی بھتیجی ہیں۔ اس طرح ان کو شروع ہی سے مفکرِ اسلام کی شفقت و توجہ حاصل ہوئی ندوۃ العلماء کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن منتخب ہوئے، اور ۱۹۹۹ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے لئے ان کی خدمات حاصل کی گئیں، اور ۲۰۰۰ء میں امین العام (ناظرِ عام) ندوۃ العلماء مقرر کئے گئے، اور پھر مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی کے انتقال کے بعد اس کے ترجمان ‘‘تعمیرِ حیات’’ کے نگراں مقرر کیے گئے اور ہنوز تھے ۔مولانا خواتین کے رسالہ ماہنامہ ‘‘رضوان’’، لکھنؤ کے بھی چالیس سال سے زائد عرصہ تک ایڈیٹر رہے اور مختلف اداروں کے ذمہ دار اور سرپرست بھی تھےـ رائے بریلی میں مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی سوسائٹی کے نام سے ایک رفاہی تعلیمی ادارہ قائم کیا جس کے تحت لڑکیوں کی تعلیم کا بڑا ادارہ جامعہ ام المومنین عائشہ للبنات قائم ہے ۔مارچ ۲۰۱۸ ء میں مجلس انتظامیہ نے بالاتفاق نائب ناظم منتخب کیا، اسی طرح مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ کے اسسٹنٹ سکریٹری بھی مقرر ہوئے۔