دارالعلوم دیوبند نے تعطیل کی اپیل مسترد کردی، صدر جمہوریہ کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مکتوب روانہ  

دیوبند:(ایس۔چودھری) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور لکھنؤ میں ندوۃ العلماکے طلبہ کے ساتھ پولیس جھڑپوں کے بعد ملک بھر کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا میں میں شدید غم و غصہ پایا جارہاہے ،جس کا اثر دیوبند میں بھی دیکھا جارہاہے حالانکہ یہاں پور ی طریقہ سے امن وامان ہے، شہریت ترمیمی قانون اور جامعہ ملیہ کے طلبہ کی حمایت میں طلباء کے مظاہرے ملک کے کئی حصوں میں جاری ہیں۔ ایسی صورتحال میں سہارنپور ضلع انتظامیہ کوئی خطرہ مول لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے دوسرے دن دیوبند میں اعلیٰ افسران ڈیرہ ڈالے رہے اور پولیس و فورسس کے گشت میں تیزی آگئی ہے۔ جہاں انتظامیہ نے ضلع میں گذشتہ دو دن سے انٹرنیٹ خدمات بند کررکھی ہیں وہیں بدھ کے روز سے اسکولوں اور کالجوں کو بھی چار دن کی تعطیل کر دی گئی ہے۔ دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدرسوں کی وجہ سے اہم سمجھے جانے والے دیوبند پر اعلیٰ انتظامیہ کی گہری نظر ہے۔ دارالعلوم کے علاقے میں چپہ چپہ پر پولیس فورس تعینات ہے۔ آر آر ایف کے دستہ کو بھی دیوبند بلایا گیا ہے۔ منگل کے روز کمشنرسنجے کمار ، ڈی آئی جی اوپیندر اگروال ، ڈی ایم آلوک پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پی نے دیوبند کے دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف دیوبند اور دارالعلوم زکریا دیوبند سمیت دیگر مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ میٹنگ کرکے قیام امن میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے،جس پر مدارس کے ذمہ داران کاکہناتھا دینی مدارس نے ہمیشہ امن وشانتی قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ میٹنگ میں افسران نے مدارس کے منتظمین سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ مدرسوں میں 15 دن کے لئے تعطیل کا اعلان کردیں۔ میٹنگ کے دوران تمام ذمہ داران مدارس نے انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔میٹنگ میں دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کے ذمہ داران کے علاوہ مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی نے شرکت کی۔ ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے کہا کہ مدارس کے ذمہ داران نے انتظامیہ کا مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، اسی دوران دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایا کہ انتظامی افسران نے مدارس کے ذمہ دارسے ملاقات کرکے مدارس میں پندرہ یوم کی تعطیل کرنے کی اپیل کی ہے، جس پر میٹنگ کے بعد غور کیا جائیگا۔ادھر شہریت ترمیمی ایکٹ کو لیکر پانچ روز قبل طلبہ اور شہر کے لوگوں کے ذریعہ شاہراہ پر ہونے والے مظاہرے کے بعد سے دارالعلوم اپنے طلباء پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جامعہ اور اے ایم یو و ندوۃ العلماء لکھنؤ طلباء کی حمایت میں پیر کی شام دارالعلوم دیوبند کے احاطہ میں طلبہ کے ذریعہ نعرے بازی کیےجانے کے بعد دارالعلوم دیوبندکے صدر دروازہ سمیت دوسرے گیٹ پر کافی سختی کردی گئی ہے، مین گیٹ بند کرکے چھوٹی کھڑکی کھولی ہوئی ہے، دارالعلوم دیوبند کے اندربغیر آئی کارڈ کے کسی کو بھی داخل نہیں ہونے دیاجارہاہے۔وہیں دارالعلوم دیوبند میں ظہر کی نماز کے بعد لائبریر ی میں ایک پروگرام کا انعقاد کیاگیا، جس میں مہتمم دارالعلوم دیوبند ،جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور دیگر اساتذہ نے طلبہ کوموجو دہ حالات کے مدنظر ضروری نصیحتیں کیں اور طلبہ کو سمجھایا،ذرائع کے مطابق طلبہ نے انتظامیہ کو تحریر دے کر چھٹی نہ کرنے کو کہا ہے ،وہیں ذرائع نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند نے آئندہ چار روز میں شوریٰ کاہنگامی اجلاس بھی بلالیاہے۔وہیں ضلع کے اعلیٰ افسران کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ سے پندرہ یوم کی تعطیل کرنے کا فیصلہ لینے کی بات کودارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ نے مجلس شوریٰ کے اوپر فیصلہ چھوڑ دیا، شہریت ترمیمی ایکٹ کو لیکر پورے ملک میں اعلیٰ تعلیم اداروں میں ہورہے مظاہروں کے مدنظر علی گڑھ مسلم یوینورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ندوۃ العلماء لکھنؤ سمیت دیگر اداروں میں بھی چھٹی کے اعلان کے بعد ضلع انتظامیہ دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کو بھی گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، اسی خیال سے دارالعلوم دیوبند سمیت دیگر مدارس میں چھٹیاں کردی جائیں تاکہ طلبہ کسی بھی طرح کے مظاہروں میں شامل نہ ہوسکیں، اسی کے مدنظر کمشنر سنجے کمار سنگھ،ڈی آئی جی اوپیندراگروال ڈی ایم آلو ک ،ایس ایس پی دنیش کمار پی دیوبند پہنچے اور ڈاک بنگلہ میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نعمانی سمیت دیگر مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ میٹنگ کی،جس میں ان سے اپنے تعلیمی ادارے میں پندرہ دن کی چھٹی کئے جانے کی اپیل کی ،اس کے بعد دارالعلوم دیوبند نے اس سلسلہ میں شام تک مطلع کرنے کی بات کہی تھی۔ ادھر دارالعلوم دیوبند نے شام کے وقت ذمہ داران کی میٹنگ ہوئی اور چھٹی کا اعلان کرنے یا نہ کرنے پر مشورہ کیا،بعد میں یہ فیصلہ مجلس شوریٰ کے ارکنان پر چھوڑ دیا ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ انتظامیہ کی اس منشاء کے سلسلہ میں شوریٰ کے ارکان کو مطلع کیا جائیگا، آئندہ پانچ دنوں کے اندر شوریٰ کی میٹنگ منعقد کی جائیگی ،یہ فیصلہ لیا جائیگا۔ادھر دارالعلوم دیوبند نے اپنے دروازوں پر سختی کردی ہے اور چھوٹی کھڑی سے طلبہ کو داخلہ شناختی کارڈ کے ساتھ ہورہاہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے دارالعلوم دیوبند میں طلبہ کی فوری چھٹی نہ کئے جانے کے فیصلہ کے بعد طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہر قسم کے احتجاج سے پرہیز کریں، لائبریری ہال میں جمع طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند اکابر علماء کی امانت ہے ،طلبہ کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے اس کے وجود پر اثر پڑے، مولانا نے کہاکہ ہمیشہ سے ہی اسلام مخالف طاقتیں دارالعلوم دیوبند کو نشانہ بناتی رہی ہیں، حال میں ملک بیحد نازک حالات سے گزر رہاہے، ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری ہے، کہ ملک کے امن وامان کو باقی رکھیں ،انہوں نے کہاکہ اس وقت مدارس کے طلبہ کی ذراسی لاپرواہی مدارس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، انہوں نے طلبہ سے ہاتھ اٹھاکر اس بات کا عہد لیا کہ وہ کسی بھی طرح کے احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گیں۔شہریت ترمیمی ایکٹ اور متوقع این آرسی کو لیکر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نےصدر جمہوریہ ہند اور چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب بھیجاہے ۔