دارالعلوم دیوبند کے معاون مہتمم، استاذِ حدیث و جمعیت علماے ہندکے صدر قاری عثمان منصور پوری کا انتقال

دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے،استاذِ حدیث، معاون مہتمم اور جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری کا انتقال ہوگیا ہے، گذشتہ 6 مئی کو قاری محمد عثمان منصورپوری کی کورونا رپورٹ پازیٹو آئی تھی جس کے بعد سے وہ دیوبند میں واقع اپنی رہائش گاہ پر قرنطینہ میں تھے اور گھر پر ہی ان کا علاج چل رہا تھا۔ لیکن طبیعت زیادہ بگڑجانے کی وجہ سے انہیں علاج کی غرض سے گڑگاﺅں کے میدانتا میڈیسٹی ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا تھا، مگر آج صبح انھیں وہاں سے ڈسچارج کردیا گیا تھا، جس کے بعد انھیں دیوبند لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیاـ

قاری صاحب کا تعلق شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے خانوادے سے تھا،وہ مولانا مدنی کے داماد تھے اور معروف علما و اساتذۂ حدیث مفتی سلمان منصور پوری اور قاری عفان منصورپوری ان کے صاحبزادے ہیں۔ قاری صاحب کی پیدایش منصور پور ضلع مظفر نگر میں ۱۹۴۴ کو ہوئی،فارسی و عربی کی مکمل تعلیم دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی،۱۹۶۵ میں فضیلت کی تکمیل کرنے کے بعد ۱۹۶۶ میں تکمیل فنون،تجوید و قرائت اور عربی ادب کا کورس کیا۔ عملی زندگی کا آغاز جامعہ قاسمیہ،گیا(بہار)سے کیا اور وہاں پانچ سال مدرس رہے،گیارہ سال جامعہ اسلامیہ ،جامع مسجد امروہہ میں تدریسی خدمت انجام دی اور انقلاب کے بعد ۱۹۸۲ میں دارالعلوم دیوبند میں استاذ مقرر ہوئے،یہاں مشکوۃ شریف،موطا امام مالک اور اسالیب الانشا وغیرہ ان کے زیرِ درس رہیں،۱۹۹۹ میں انھیں نائب مہتمم بنایا گیا اور ۲۰۰۸ میں جمعیت کے اختلاف اور ایک گروپ کے صدر بنائے جانے تک وہ اس عہدے پر برقرار رہے۔ ابھی ۲۰۲۰ میں انھیں دوبارہ معاون مہتمم بنایا گیا تھا۔ ان کی تنظیمی صلاحیت معروف و متعارف تھی اور اپنی نیابت اہتمام کے دور میں انھوں نے دارالعلوم کے نظم و نسق کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح ان کی تربیتی ہنر مندی بھی مثالی تھی،انھوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں سمیت خاندان کے تمام بچوں اور بہت سے شاگردوں کی مثالی تربیت کی۔
اس موقعے پر قاری عثمان منصورپوری کے دونوں بیٹوں مفتی سلمان منصورپوری اور قاری عفان منصورپوری نے سبھی لوگوں سے قاری صاحب کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی ہے۔