دارالعلوم دیوبند نے سعودی حکومت کے ذریعے تبلیغی جماعت پر پابندی کی مذمت کی،فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ

دیوبند:دارالعلوم دیوبند کے مہتم و شیخ الحدیث مولا نا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مملکت سعودی عربیہ کے ذریعہ تبلیغی جماعت کے خلاف مہم جوئی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت مولانامحمد الیاس دار العلوم کے صدرالمدرسین شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن کے تلامذہ میں سے تھے ،انہوں نے تبلیغی جماعت قائم کی جس کے تحت اکابر کی مخلصانہ جد و جہد دینی وملی اعتبار سے مفید رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جز وی اختلافات کے با وجود جماعت اپنے مشن پر کام کر رہی ہے کم و بیش تمام عالم میں اس کا کام پھیلا ہوا ہے اس سے وابستہ افراد اور جماعت کے مجموعی مزاج پر شرک و بدعت اور دہشت گردی کا الزام قطعی بے معنی اور بے بنیاد ہے۔ مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا کہ دار العلوم دیوبند اس کی مذمت کرتا ہے اور حکومت سعودی عربیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور تبلیغی جماعت کے خلاف اس قسم کی مہم سے اجتناب کرے ۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ۶؍ دسمبر کو سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور کے ذریعے وہاں کی مساجد کے خطبا کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ تبلیغی جماعت کی مبینہ گمراہیوں کے خلاف خطبہ دیں۔ اس حکم نامے میں اس جماعت اور اس کی دعوت کو دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ بھی قرار دیا گیا تھا۔ وزارت نے اس کی تفصیلات اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بھی شیئر کی تھیں جس کے بعد یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور ہندوستان کے مین سٹریم میڈیا میں بھی اسے زور و شور سے اچھالا جارہا ہے۔