دارالعلوم دیوبند ازہرِ ہند ہے؟ ـ عبداللہ ممتاز

بعض فضلاء "ازہرِ ہند” دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں، مجھے آج تک اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آسکی.
مشبہ اور مشبہ بہ میں مشبہ بہ کا وجہِ تشبیہ میں افضل واقوی ہونا ضروری ہے، جیسے زید کو شیر سے تشبیہ دی جائے تو مشبہ بہ (شیر) وجہ تشبیہ (شجاعت) میں زید سے افضل واقوی ہے.
کسی ادارے کی عظمت اس کی خدمات سے ہوتی ہے نہ کہ رقبہ اور طلبہ کی تعداد سے.
دارالعلوم دیوبند کو "ازہرِ ہند” سے تشبیہ دینے میں وجہِ تشبیہ جامعہ ازہر کی قدامت، طلبہ کی تعداد یا رقبہ ہے تو ظاہر ہے یہ علت غلط ہے؛ چوں کہ تقدمِ زمانی، طلبہ کی بڑی تعداد اور بڑے رقبے پر مشتمل بڑی بڑی عمارتوں کا ہونا کوئی فضیلت کی چیز نہیں ہے، اگر یہ فضیلت کی چیز ہوتی تو ازہر سے بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں اور ازہر سے قدیم ادارے ہیں ان سے تشبیہ دی جانی چاہیے.
اور اگر دارالعلوم دیوبند کو "ازہرِ ہند” جامعہ ازہر مصر کے خدمات کی وجہ سے کہا جاتا ہے/ جامعہ ازہر سے تشبیہ دی جاتی ہے یعنی وجہ تشبیہ "خدماتِ دینیہ” ہیں تو پھر دارالعلوم دیوبند کی خدماتِ دینیہ جامعہ ازہرِ مصر سے کہیں فائق ہیں. پھر افضل (دارالعلوم) کو مفضول (جامعہ ازہر) سے تشبیہ دینا غلط ہوگا.

اس اجمال کی تفصیل سنیے! جامعہ ازہر ایک عالمی اور قدیم ترین یونیورسٹی ہے، وہاں طلبہ کی تعداد بھی لاکھ سے متجاوز ہے؛ لیکن اسلامیات کے حوالے سے اس کی تعلیمی، تدریسی، تصنیفی وتبلیغی خدمات دارالعلوم دیوبند کی بہ نسبت بہت ہی محدود ہیں. آپ دنیا کے کسی بھی اسلامی کتب خانے میں چلے جائیں وہاں جامعہ ازہر کے منتسبین کی جتنی تصنیف ملیں گی اس سے دس گنا زائد دارالعلوم دیوبند کے منتسبین کی تصنیفات ملیں گی، دنیا کے کسی خطے میں چلے جائیں، خال خال ہی جامعہ ازہر کے فضلاء دینی واسلامی خدمت انجام دیتے ملیں گے، جب کہ دارالعلوم کے منتسبین ہر جگہ اور ہر خطے میں دینی واسلامی خدمت انجام دیتے ملیں گے. اصلاح وتبلیغ کا میدان ہو یا وعظ وتقریر کا فکری یلغار سے مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہو یا مسلمانوں کے سیاسی استحکام کا معاملہ ہو ہر میدان میں دارالعلوم دیوبند کے منتسبین کی کی خدمات جامعہ ازہر سے کئی گنا زیادہ پائیں گے.
ایک وقت تھا جب دارالعلوم دیوبند ہندوستان میں مسلمانوں کے عظمتِ رفتہ کی بازیابی اور ان کے ایمان ایقان کے تحفظ کے لیے فکری وسیاسی میدان میں کوششیں کر رہا تھا اسی وقت جامعہ ازہر جمال عبدالناصر جیسے ڈکٹیٹر کا سپورٹ کر رہا تھا، جب دارالعلوم دیوبند ناموسِ رسالت کی جنگ لڑ رہا تھا، احمد حسن زیات جیسا نامور ادیب جامعہ ازہر کے جریدے میں شائع کر رہا تھا کہ "جمال عبدالناصر کا انقلاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب سے بڑا انقلاب ہے”، دارالعلوم خلافت عثمانیہ کے بقاء کے لیے چندے اکٹھے کر رہا تھا، تحریکیں چلا رہا تھا؛ لیکن احمد حسن زیات نے اس خلافت کو توڑنے اور سلطان اور ان کے خانوادے کو ذلت کے ساتھ فرانس کی گلیوں میں جلا وطن کرنے والے مصطفی کمال اتاترک پاشا کو ہیرو بنا کر پیش کیا.
بلا شبہ دارالعلوم دیوبند اپنی چھوٹی سی عمر میں طلبہ کے تھوڑے تعداد اور چھوٹے سے رقبہ پر ہونے کے باوجود جو دینی، علمی، تصنیفی، اصلاحی وتبلیغی خدمات انجام دی ہے وہ عدیم المثال اور فقید النظیر ہے، جامعہ ازہر دور دور تک اس کے مقابلے میں نظر نہیں آتا. اس کے باوجود دارالعلوم دیوبند کو "ازہرِ ہند” کہنا سمجھ سے بالاتر ہے.