دارالعلوم دیوبند اور ندوة العلماءلکھنؤ پر غموں کے بادل-مولانا عبد العلی فاروقی

اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی تو اس کائنات کے خالق ومالک رب ذوالجلال کا وجود ہے، جس پر انسان کے خود اپنے وجود سے لے کر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیران ہوں، ان آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں
لیکن کس قدر حیرت اور احسان فراموشی کی بات ہے کہ رب ذوالجلال کی اس کائنات میں اس کے پیدا کیے ہوئے ایسے بندے بھی ہر دور میں رہے ہیں جو اپنے ہی پیدا کرنے والے کے وجود کا انکار کردیتے ہیں، اورپھر یہ بھی نہیں بتا پاتے کہ انہیں وجود کس نے بخشا ہے؟ —— تاہم اس دنیا کی ایک سچائی ایسی بھی ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے—— حتیٰ کہ اپنے خالق و مالک کا انکار کرنے کی جسارت کرنے والے بھی اس سچائی اور حقیقت کا انکار نہیں کرپاتے۔ اور خواہی نہ خواہی وہ بھی اس ”کڑوی حقیقت“ کو تسلیم کرکے اس کے سامنے سپر ڈالنے پر مجبور ہوجاتے ہیں —— جس کا نام موت ہے۔
اس دنیا کی زندگی شاہی محلوں میں اور مخملی بستروں پر گذرے یا جھونپڑوں کے اندر چٹائیوں اور ٹاٹوں پر —— موت بہ ہرحال اس کا اختتام کرکے ہی رہتی ہے —— اور پھر ہر شخص کی موت کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس نے دنیا میں کامیاب زندگی گذاری یا ناکام؟ قانون قدرت کا نفاذ عالم برزخ اور عالم آخرت ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جیتے جی آنکھوں کے پاس ولحاظ یا اپنے آپ کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے جو دنیا والے اپنی زبانیں نہیں کھول پاتے ہیں، وہ بھی موت کے بعد بتانے لگتے ہیں کہ مرنے والا اس دنیا میں کامیاب زندگی گذار کر موت سے ہم آغوش ہوا ہے یا وہ ایک ناکام زندگی گذارنے والا بدنصیب شخص تھا؟
خلاصہ یہ ہے کہ اس دنیا اور دنیا والوں کے لیے موت نہ کوئی ان ہونی چیز ہے نہ ہی اس سے بچنے کا کسی کے پاس کوئی راستہ ہے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک دن موت سے ہم آغوش ہونا ہی ہے۔ کل نفس ذائقة الموت۔
ہماری اس فانی دنیا میں آجانے کا سلسلہ روز کا معمول ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی کا آنا، یا جانا لائق ذکر قرار پاتا ہے اور کوئی خاموشی کے ساتھ آتا اور واپس چلا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ اس دنیا سے رخصت ہوکر جانے والوں میں لائق ذکر وہی لوگ قرار پاتے ہیں جن کے موت سے ہم آغوش ہوکر چلے جانے سے اس دنیا میں باقی رہ جانے والوں کو کسی محرومی کا احساس ہو —— یہی وجہ ہے کہ جانے والی شخصیت جس حلقہ کے لئے نفع بخش ہوتی ہے اسی حلقہ کو اس کے منافع سے محروم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اور اسی حلقہ میں اس کا ذکر وچرچا (خواہ کتنے ہی وقفہ کے لیے ہو) بھی ہوتا ہے؟۔
یوں تو ہمارے ملک کے اندر پچھلے ایک سال کے عرصہ میں اتنی لائق ذکر شخصیات کی موتیں ہوگئیں کہ کوئی حلقہ، بلکہ اور سمیٹ کر کہا جائے تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ بچا ہوگا جس کے لئے کوئی نہ کوئی ”لائق ذکر“ ایسی شخصیت نہ ہو جس کی جدائی نے اسے اپنی محرومی کا احساس نہ دلا دیا ہو —— تاہم صرف مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے حوالہ سے پچھلاایک ماہ سے بھی کم کا وقفہ دارالعلوم اور وابستگان دارالعلوم کے لئے ”ایام الحزن“ کی حیثیت سے یاد رکھے جانے کے قابل ہے کہ تین ہفتہ سے بھی کم عرصہ کے اندر دارالعلوم نے اپنے تین بیش قیمت ہیرے کھودیے — ۲۰رمضان المبارک 1442ھ کو مولانا نورعالم خلیل امینی، پھر ۳۰رمضان کو مولانا حبیب الرحمن اعظمی (جگدیش پوری) اور ۸شوال کو مولانا قاری محمد عثمان صاحب کی تابڑتوڑ اموات نے حلقہ دارالعلوم کو غم گین و متفکر ہونے پر مجبور سا کردیا ہے۔
حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ، حضرت مولانا عبدالحق صاحب محدث اعظمیؒ اور حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوریؒ جیسے گہربارولائق فخر اساتذہ دارالعلوم کی وقفہ وقفہ سے وفات کے بعد اب درج بالا تین اساتذہ کی اتنی مختصر مدت کے اندر اس فانی دنیا سے رخصتی نے دارالعلوم میں ایک ایسا خلا پیدا کیا ہے جس کا پُر ہونا بہ ظاہر مشکل ہی نہیں، ناممکن سا نظر آرہا ہے۔ والا مر بید اللّٰہ و ھو علی کل شیءقدیر۔
مولانا نورعالم صاحب دارالعلوم کے شعبۂ عربی ادب کے ایک ممتاز استاذ، اور دارالعلوم کے عربی ترجمان ”الداعی“ کے مدیراعلیٰ ہی نہ تھے، بلکہ وہ دارالعلوم کے ان فرزندوں میں سے تھے جن پر ان کی مادر علمی اور اس کے وابستگان کو بجاطور پر ناز تھا۔ کم بولنے اور زیادہ کرنے کا جذبہ رکھنے والے مولانا نورعالم مرحوم نے اپنے اسم بامسمّیٰ استاذ حضرت مولانا ”وحیدالزماں “ کیرانویؒ کی وفات کے بعد یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ دارالعلوم عربی زبان وادب کے اپنے امتیازات سے محروم ہوگیا۔ یہ صحیح ہے کہ استاذ تو ”استاذ یگانہ“ تھے اور انہیں حق تعالیٰ نے ایسے امتیازات سے نوازا تھا کہ ان کا دائرۂ عمل تدریس و تحریر ہی تک محدود نہ تھا، ان کی خداداد ”مردم سازی“ کی صلاحیت نے اکیلے اپنے دم پر ایسے ایسے ہیرے وجواہر تراش خراش کر پیش کردیئے کہ آج ان کی وفات پر کم و بیش ۲۷برس کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود دارالعلوم اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے دارالعلوم سے وابستہ تمام دینی مدارس ان سے فیض یاب ہوکر سرخ روئی حاصل کررہے ہیں۔ مولانا نورعالم مرحوم بھی مولانا کیرانوی مرحوم کے تراشے ہوئے ان جواہر میں سے تھے جن پر ان کے بے مثل مربی واستاذ کو نہ صرف اعتماد تھا بلکہ ان سے انہیں بڑی توقعات وابستہ تھیں اور حق تعالیٰ کا مولانا نورعالم مرحوم پر یہ خصوصی انعام تھا کہ انہوں نے اپنے باکمال استاذ کی اپنے سے وابستہ توقعات کو پورا کرکے نہ صرف دارالعلوم اور حلقۂ دارالعلوم میں بلکہ عالم عربی میں بھی اپنے مؤثر و باوزن اسلوب نگارش کے ذریعہ پوری گھن گرج کے ساتھ یہ احساس دلایا کہ ایک عجمی ملک ہندوستان میں بھی عربی زبان کی تعبیرات و اصطلاحات اور لغت وانشاءکے ایسے ماہرین ہوسکتے ہیں جن کو عربی النسل علماءوادبا بھی مزے لے لے کر پڑھنے پر مجبور ہوں۔
انہوں نے اپنی عربی اور اردو تحریروں کے ذریعہ دارالعلوم اور اکابر دارالعلوم کی فکر اور دینی حمیت وغیرت کو عصر حاضر کے تناظر میں جس خوش اسلوبی کے ساتھ نشر کیا اس نے بہت سے بے خبروں کے ساتھ ہی ”باخبرحاسدوں“ کو بھی سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
فرحمة اللّٰہ علیہ رحمة واسعة

رمضان کے آخری دن ہماری اس فانی دنیا سے رخصت ہونے والی دارالعلوم کی صف اساتذہ سے وابستہ ایک دوسری ممتاز شخصیت مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمیؒ کی ہے۔ مولانا مرحوم اگرچہ مجھ سے عمر میں بڑے ہونے کے ساتھ ہی علم وعمل میں بھی اتنے فائق وممتاز تھے کہ میرا اور ان کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ لیکن یہ ان کی خوش اخلاقی و خوش مزاجی کے ساتھ ہی عالی ظرفی کی بات ہے کہ میرا ان سے دوستوں و ہم سروں جیسا بے تکلفی کا رشتہ تھا، جس کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ بنارس کے جامعہ اسلامیہ میں طبقہ علیا کے استاذ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب دارالعلوم کے موجودہ مہتمم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب بنارسی و دیگر ارباب مدارس واحباب کی دعوت پر میرا وہاں کے دینی جلسوں میں خطاب کے لیے برابر جانا ہوا کرتا تھا اور ایسے اکثر مواقع پر مولانا حبیب الرحمن صاحب قاسمی مرحوم سے بھی ملاقات ہواکرتی تھی۔ جب جب جامعہ اسلامیہ میں حاضری ہوتی تو سب سے زیادہ وقت مولانا مرحوم کی پرلطف صحبت ہی میں گذرتا۔
وہ نہ صرف پان کے شوقین تھے، بلکہ لباس اور وضع قطع کی طرح ان کے پان کھانے کا شوق بھی ان کی نفاست پسندی کا آئینہ دار ہوتا۔ وہ بازار کے بنے ہوئے پان نہیں کھاتے بلکہ تمام لوازم سے آراستہ ان کا اپنا پاندان ہوا کرتا، اور اپنے ہاتھوں سے بڑے اہتمام کے ساتھ پان بناکر کھاتے۔ ہمارے ”دوستانہ رشتہ“ کا ذریعہ بھی یہی پان خوری کا شوق بنا۔ چوں کہ ان دنوں میں بھی بہ کثرت پان کھاتا تھا اس لیے مولانا میرے لیے بڑے اہتمام کے ساتھ میری پسند کی رعایت کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے پان بنا بنا کر کھلاتے رہتے اور اپنی پرلطف گفتگو کے ذریعہ محفل کو زعفران زار بنائے رہتے۔ اگرچہ ہمارے درمیان قربتوں و بے تکلّفیوں کا یہی ”بنارسی دور“ اول و آخررہا، کیوں کہ مولانا کی دارالعلوم سے وابستگی کے بعد چندگنی چنی ملاقاتیں ہی ہوسکیں۔ اور ایک آدھ ملاقات کے سوا جس میں مولانا نے مجھے مدعو کرکے اپنے خوبصورت اور کتابوں سے آراستہ وسیع کمرہ میں کھانا بھی کھلایا تھا اور اپنی اپنائیت سے بھرپور پرلطف گفتگو کے ذریعہ مجھے یہ یقین کرنے پر مجبور بھی کیا تھا کہ بفضلہ تعالیٰ ان سے میرا ”بنارسی رشتہ“ آج بھی موجود ہے۔ اس ایک تفصیلی ملاقات کے سوا بقیہ چند ملاقاتیں سرسری اور رواں دواں انداز ہی کی ہوسکیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ میرا خود ہی دارالعلوم جانا برسوں میں کہیں ایک بار اور وہ بھی قلیل مدت کے لئے ہی ہوپاتا تھا۔
بنارس کی بہ کثرت ملاقاتوں اور دارالعلوم کی چندگنتی کی ملاقاتوں کے باوجود مولانا کے علمی رسوخ، علم الحدیث خصوصاً اس سے وابستہ علم اسماءالرجال میں ان کی مہارت سے مجھ کو شناسائی ان کے دارالعلوم کے دور میں ان کے لائق شاگردوں و مستفیدین ہی کے ذریعہ ہوئی۔ اور اب مولانا کی وفات کے بعد ان کے فیض یافتگان کی طرف سے جس جس طرح ان کے انداز تدریس، اور دوران درس ان کی فاضلانہ بحثوں کے چرچے ہیں ان سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ وقت میں دارالعلوم کی صف اساتذہ میں مولانا کو کس قدر وقار واعتبار کا مقام حاصل تھا، اور وہ اپنے طلبہ کے درمیان کس قدر ہردل عزیز تھے؟۔
مولانا مرحوم نے برسہا برس دارالعلوم کے اردو ترجمان کا ماہنامہ رسالہ ”دارالعلوم“ کی ارادت کی ذمہ داریاں بھی بہت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں۔ مولانا ازہرشاہ قیصر جیسے ممتاز وباوقار صحافی کے بعد ان کی جگہ پر رسالہ ”دارالعلوم“ کی ادارت کی ذمہ داریوں کو بہ حسن وخوبی انجام دے لینا، میدان صحافت میں مولانا کی مضبوط گرفت ہونے کی بجائے خود ایک روشن دلیل ہے۔ خاص خاص موضوعات پر ان کے تفصیلی ادارئیے بہت ہی چشم کشا اور مبنی بر حقائق ہوا کرتے تھے۔
خلاصہ یہ کہ اس دور قحط الرجال میں مولانا حبیب الرحمن قاسمی مرحوم کی شخصیت اپنے علم واخلاق، اور تدریس و ترسیل کے اعتبار سے اتنی اہم تھی کہ ان کا بدل تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کی رحلت دارالعلوم کی مشکلات میں اضافہ کرنے والی اور اس کے معیار تدریس کو متزلزل کردینے والی ہے۔ واللّٰہ علی ما نقول وکیل۔
حق تعالیٰ مرحوم کے بال بال کی مغفرت فرمائے اور دارالعلوم کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ (آمین)
تادم تحریر اس سلسلہ کی آخری کڑی (اللہ کرے کہ طویل عرصہ تک دارالعلوم کے لیے یہی آخری کڑی بنی رہے) دارالعلوم کے باوقار ومعتبر استاذ حدیث اور معاون مہتمم حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب کی وفات ہے۔
قاری صاحب مرحوم منصورپور ضلع مظفرنگر کے خاندان سادات کے ایک فرد فرید اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے داماد ہونے کے ساتھ ہی اپنی ذاتی خوبیوں وکمالات کی وجہ سے دارالعلوم کے ان اساتذہ میں سے تھے جن کا ثانی و بدل دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے۔ وہ بہ یک وقت ایک باکمال استاذ، ایک بہترین مربی، بہترین منتظم، دارالعلوم اور اس کے مسلک و منہج کے مؤثر و طاقتور ترجمان، اپنے بڑوں کے اعتماد یافتہ اور اپنے چھوٹوں کے لئے لائق تقلید نمونہ تھے۔ دارالعلوم کی طرف سے انہیں جو بھی تدریسی یا غیرتدریسی ذمہ داری دی گئی اسے انہوں نے پوری سنجیدگی و دیانت کے ساتھ انجام دیا۔ وقت کی قدر اور اس کی پابندی کے ساتھ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلہ میں وہ مثالی شخصیت کے حامل تھے۔ قادیانی فتنہ کے تعاقب و بیخ کنی کے لیے دارالعلوم میں ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا قیام عمل میں آیا تو اس کی سربراہی کے لیے مجلس شوریٰ کے بصیرت مند ارکان کی نگاہیں (دیگر کئی سینئر ولائق اساتذہ و ذمہ داران کی موجودگی میں) قاری صاحب ہی پر مرکوز ہوئیں، اور تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ انہیں اس مجلس کا سربراہ اعلیٰ بھی بنادیا گیا۔ اور انہوں نے اپنی اس عظیم ذمہ داری کا حق اس طرح ادا کیا کہ اس کے لئے ملک کے متعدد اور ”فتنہ قادیانیت“ سے متاثرہ علاقوں کے دورے بھی کیے، کانفرنسوں اور کیمپوں کے ذریعہ علماءو مسلم عوام کو بیدار بھی کیا، اس موضوع پر اپنے اکابر واسلاف کی بیش قیمت کتابوں کی بڑے اہتمام کے ساتھ جدید اشاعت بھی کی، قادیانیت کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہنے اور اس ”ارتدادی فتنہ“ سے ملت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے لٹریچر کی بھی بڑے پیمانے پر اشاعت کی، اور خود دارالعلوم میں بہت بڑے پیمانہ پر ”ختم نبوت کانفرنس“ کا انعقاد کراکے ملک و بیرون ملک کے علماءو اکابر کی تقریروں، تحریروں، اور ان کے تربیتی کیمپوں کے ذریعہ ملک بھر میں بیداری کی ایک ایسی لہر پیدا کردی کہ بہت سے قادیانیوں اور قادیانیت سے متاثرہ لوگوں کوتائب ہوکر دامن اسلام و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہونے کی توفیق ملی۔ اور بچے کھچے ختم نبوت کے منکر ”قادیانی امت“ سے وابستہ افراد کو راہ فرار اختیار کرکے اپنی سرگرمیوں کو خفیہ ومحدود کرنے پر مجبور کردیا۔ ”فتنہ قادیانیت“ اگرچہ محدود ہوا لیکن چوں کہ ابھی ملک سے پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے، اس لیے  قاری صاحب کی قیادت میں اس فتنہ کے تعاقب و بیخ کنی کا سفر جاری ہی تھا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے قاری صاحب کا بلاوا آگیا۔ حق تعالیٰ انہیں ان کی مساعی جمیلہ کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔
قاری عثمان صاحب مرحوم کی خصوصی تربیتی صلاحیت سے متعلق مجھے ایک کئی دہائی پہلے کا واقعہ یاد آگیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قاری صاحب جامع مسجد امروہہ کے مدرسہ کے استاذ تھے۔ امروہہ کے ایک دینی جلسہ میں شرکت کے لیے میرا جانا ہوا تو جامع مسجد میں بھی اپنے بڑوں سے ملاقات کے لیے حاضری دی۔ محترم قاری فضل الرحمن صاحب اس وقت مدرسہ کے ذمہ دار تھے، جن سے میرے والد ماجدؒ کے بہت بے تکلّفانہ و مخلصانہ مراسم تھے۔ ان سے قاری محمد عثمان صاحب سے، اور اپنے دوسرے کئی بڑوں سے ملاقات کے بعد وہیں سے ہمیں رات کے کھانے کے لیے جانا تھا۔ جہاں قاری عثمان صاحب بھی مدعو تھے۔ مسجد سے پہلے قاری صاحب اور ان کے بعد میں نکلا۔ قاری صاحب کسی فوجی کمانڈر کی طرح سب سے آگے اور ان کے پیچھے ان کے ، اور ان کے سالے سالیوں کے ۸-۱۰ بچے ایک ہی لباس اور ایک ہی وضع قطع میں چل رہے تھے اور ان سب کے پیچھے میں تھا۔ گوری گوری رنگت اور بھولے نورانی چہروں پر سفید و بے داغ اجلااجلا لباس دیکھ کر میرے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آسمان سے فرشتے اتر آئے ہیں۔ آج کے بڑے اور اس وقت کے خاندان کے یہ تمام کم سن بچے قاری صاحب کے پاس پڑھنے اور تربیت پانے کے لیے اسی وجہ سے بھیجے گئے تھے کہ ان کی اس خصوصی صلاحیت پر پورے خاندان کو اعتماد تھا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت اور روشن دلیل خود قاری صاحب مرحوم کے دونوں فرزندان گرامی مولانا مفتی محمد سلمان صاحب اور مولانا مفتی محمد عفان صاحب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں بھائیوں کو اپنی تمام تر علمی و عملی سرگرمیوں کے ساتھ سلامت رکھے اور وہ اپنے بے مثال مربی والد ماجدؒ کے سچے جانشین بن کر اپنے مثالی خانوادہ کی پایابیوں میں اضافہ کرتے رہیں۔ اور ملت کو ان کی سرگرمیوں سے مستفیض ہونے کے مواقع ملتے رہیں۔ و ما ذالک علی اللہ بعزیز۔
آخر میں دعا ہے کہ حق تعالیٰ ہمارے دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ان تینوں اساتذہ کرام، نیز ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہوکر دارالعلوم کو داغ مفارقت دینے والے تمام اساتذہ کرام و وابستگان کی مغفرت کاملہ فرماکر ان کو اعلیٰ علیین میں مقام مرحمت فرمائے اور دارالعلوم کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ (آمین)
وابستگان دارالعلوم ندوة العلماءلکھنؤ:
ہمارے ملک کے اہم اور مرکزی دینی مدارس میں دارالعلوم دیوبند کے بعد دارالعلوم ندوة العلماءکو حالیہ مدت میں سب سے زیادہ اپنے مخلص اساتذہ و کارکنان کی جدائی کے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔ حضرت مولانا محمد واضح رشید حسنیؒ کی وفات کا زخم ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوا تھا، اور ندوة العلماءکو ان جیسی ہمہ جہت و باکمال شخصیت کا کوئی متبادل بھی فراہم نہیں ہوسکا تھا کہ حالیہ دوماہ کے قلیل عرصہ میں ندوہ اور اس کے اہم ذمہ داروں کو مشیت ایزدی سے اپنے کئی چہیتوں و باکارافراد کی اس دنیا سے جدائی کے صدمے سے دوچار ہوناپڑا۔
دو ماہ قبل وسط شعبان میں حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی صاحب مہتمم دارالعلوم ندوة العلماءکو اس ضعف و پیرانہ سالی کے دور میں اپنی نہایت ہی وفاشعار رفیقۂ حیات کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ پھر ۲۱رمضان المبارک کو ندوة العلماءکے ایک سینئر و باکار اہل کار اور کلیة الشریعة کے ناظر اور ہردل عزیز شخصیت کے مالک پرانے ندوی فاضل، بہترین وباکمال شاعروادیب، اور ندوہ سے باہر ہم سب لوگوں کے لئے بھی انتہائی محبوب و قابل احترام مقرر، ادیب، وپرگو شاعر مولانا رئیس الشاکری ندوی نے داغ مفارقت دے کر عالم برزخ کی راہ لی۔ اس کے تین ہی دن بعد ناظم ندوة العلماءحضرت مولانا محمد رابع حسنی مدظلہٗ کے دست وبازو، ندوہ کے نائب ناظم، راقم الحروف کے بہت ہی خلیق وشفیق دوست مولانا محمد حمزہ حسنی نے 24رمضان المبارک کو عالم آخرت کی طرف رحلت کی۔
مولانا حمزہ حسنیؒ حضرت مولانا محمد رابع حسنی مدظلّہٗ کے داماد و بھتیجے اور ان کے برادر مکرم حضرت مولانا محمد ثانی حسنی مرحوم کے فرزند صالح اور اپنے حسنی خانوادہ کی صالح روایات کے امین، اور انتہائی خلیق، باوضع، ملنسار و متواضع انسان تھے۔ ان کی وفات کے کرب کو صرف ندوة العلمائ، حسنی خانوادہ اور اس کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا محمد رابع صاحب مدظلہٗ ہی نے نہیں، بلکہ ملک وبیرون ملک کے تمام دین پسند حلقوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا، وہ نہ صرف حضرت ناظم صاحب مدظلہ کے قابل اعتماد و بااخلاص معاون تھے بلکہ انہوں نے اپنی مادرعلمی کے لیے نہایت خاموشی و اخلاص کے ساتھ اپنے بڑوں کی رہنمائی اور اپنے چھوٹوں کے تعاون کے ساتھ تعلیم وترقی کے سلسلہ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ وہ دو میقات تک اترپردیش سنی سینٹرل بورڈ کے بہت ہی معزز ممبر بھی رہے اور اس دوران اوقاف کے تعلق سے وہ اپنی باوزن اور اہم آراءکے ساتھ شریک رہے۔
مولانا حمزہ اگرچہ بہت ہی سنجیدہ اور کم سخن تھے لیکن ان کا دائرہ احباب بہت وسیع تھا، جس میں علماءکے ساتھ ساتھ وکلائ، ڈاکٹر، اور تاجر طبقہ کے متعدد افراد شامل تھے۔ ان کی وفات نے سب ہی کو مغموم و محروم کیا۔ مگر کاتب تقدیر نے ان کی اس دنیا کی مدت عمر اتنی ہی لکھی تھی اور وہ اپنا وقت پورا کرکے اپنے اس مالک حقیقی کے پاس پہنچ گئے جو ان شاءاللہ ان کی حسنات کا بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔
پھر ابھی 7شوال 1442ھ کو دارالعلوم ندوة العلماءکے سینئر استاذ اور اس کے اردو ترجمان ”تعمیر حیات“ کے مدیر اعلیٰ مولانا شمس الحق ندوی صاحب کی اہلیہ صاحبہ نے عمر کے اس پڑاؤ پر انہیں داغ مفارقت دیا۔ مرحومہ نہایت ہی پاکباز، عبادت گذار، اور بامروت خاتون تھیں۔ ان کی رحلت مولانا اور ان کے تمام اہل خانہ وکنبہ کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے مگر ”مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ“ کہنے کے سوا کیا چارۂ کار ہے۔ اور ابھی کچھ ہی دیر قبل آج ۱۵شوال مطابق ۲۸مئی ۲۰۲۱ٔعیسوی روز جمعہ کو اچانک ندوہ کے ایک بہت ممتاز استاذ، عربی زبان وادب کے شناور، اور کلیة اللغة کے سربراہ مولانا نذرالحفیظ ندوی صاحب کی عین نماز جمعہ کے وقت وفات کی اطلاع ملی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
مولانا مرحوم اپنے گوناگوں کمالات، اپنی علمی فتوحات، اور مزاج کی سادگی وبے ریائی کی وجہ سے ندوة العلماءسے وابستہ ان اساتذہ، مربیوں، دانشوروں اور عربی واردو کے مصنفین میں سے تھے جن کی اچانک خبروفات نے راقم الحروف کے سارے وجود پر سناٹے کی کیفیت پیدا کردی۔ وہ مفکراسلام حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کے بہت ہی خصوصی شاگرد اور ان کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کی غالباً آخری مطبوعہ کتاب ”مجالس علم وعرفان“ ہے۔ جو مرحوم نے بڑے اہتمام و محبت کے ساتھ رمضان المبارک سے قبل مجھے میرا نام لکھ کر دی تھی۔ اس کتاب کے چند اوراق ہی کی ورق گردانی ہوسکی ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی ان مجالسی ملفوظات پر مشتمل ہے جو ماہ مبارک رمضان میں بعد نماز عشاءہوا کرتی تھیں۔ اسی کتاب کے ابتدائی اوراق میں انہوں نے اپنے علمی سفر کی جو مختصر داستان بیان کی ہے اس سے ان کے حضرت مولانا علی میاں کے ساتھ رشتۂ عقیدت ومحبت ہی نہیں، بلکہ حضرت مولاناؒکی ان کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار کا بہ خوبی علم ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم نے اپنے جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران دو مرتبہ اپنے مربی اور اپنی مادر علمی کی نمائندگی بھی کی، جس سے حضرت کے ان پر اعتماد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
مولانا مرحوم ندوی ہونے کے ساتھ ہی ”ازہری“ بھی تھے۔ وہ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں لکھنے پڑھنے پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ اور دونوں ہی زبانوں میں ان کی اہم وبیش قیمت کتابیں و مضامین ان کی علمی وراثت ہی نہیں ان کی بالغ نظری اور اسلام ومسلمانوں کی طرف سے ان کی فکرمندی کی روشن دلیلوں کی صورت میں موجود ہیں۔ دو دہائی قبل ان کی اردو زبان میں شائع ہونے والی کتاب ”مغربی میڈیا اور اس کے اثرات“ نے مقبولیت کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ اور اس کتاب کے انگریزی وعربی کے ساتھ دیگر کئی زبانوں میں تراجم بھی ہوکر پوری دنیا میں پھیلے۔ اس کتاب سے مولانا کی وسعت نظر، صحت فکر، اور قوت استدلال کا بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کی ایک عربی زبان میں لکھی ہوئی کتاب اپنے استاذ ومربی حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی تصانیف کے تعارف پر مشتمل بہ عنوان ”ابوالحسن علی الندوی کاتباً و مفکراً“ بھی علمی حلقوں خصوصاً عالم عرب میں بہت مقبول ہوئی۔
مولانا ندوی مرحوم کا تعلق صوبہ بہار کے ایک علمی و دینی خانوادہ سے تھا۔ ان کے والد ماجد حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب طویل عرصہ تک پرتاپ گڑھ سٹی میں واقع مدرسہ کافیة العلوم کے مہتمم رہے۔ یہیں ان کا بیعت و ارادت کا رشتہ حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاپ گڑھی سے قائم ہوا جن سے انہیں خلافت بھی ملی۔ مولانا کے دادا صاحب کا روحانی رشتہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ سے اور نانا صاحب کا رشتہ تلمذ وارادت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے تھا۔ اس طرح مولانا ندوی مرحوم کی پرورش وپرداخت اور تعلیم وتربیت ایک علمی ودینی ماحول میں ہوئی جس کا اثر ان کی شخصیت میں پوری طرح نمایاں تھا۔ وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل عربی زبان وادب کے ماہر اور اس زبان کی خدمت کے سلسلہ میں صدرجمہوریہ ہند سے سنداعزاز کے حامل ہونے کے باوجود انتہائی سادگی پسند، احکام شرعیہ کی سختی کے ساتھ پابندی کرنے والے، اپنے بڑوں کے اعتماد کے حامل اور اپنے شاگردوں وخردوں کے بہت ہی مشفق استاذ ومربی تھے۔ انہیں دیکھ کر اور ان سے مل کر یہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ حق تعالیٰ نے انہیں کن انعامات واعزازات سے نوازا ہے۔
مولانا بہ ظاہر پوری طرح صحت مند، چاق وچوبند، اور اپنے علمی وفکری کاموں میں مشغول تھے۔ راقم الحروف جیسے ان کی عنایتوں ومحبتوں سے بہرہ ور شخص کو بھی ان کی کسی قسم کی علالت کا علم نہیں ہوسکا۔ اور نماز جمعہ کی ادائیگی سے واپس آنے کے بعد مخلص گرامی قاری شمس الہدیٰ رحمانی صاحب نے فون پر اس حادثۂ فاجعہ کی اطلاع دی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مولانا کی وفات سے دارالعلوم ندوة العلماءکو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، جس کا سب سے زیادہ احساس اور فکر کرنے والے ندوہ کے دونوں کلیدی ذمہ دار حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی مدظلہٗ اور حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی مدظلہٗ ہیں۔ حق تعالیٰ ہمارے ان دونوںبڑوں کاظل عافیت تادیر قائم رکھے اور دارالعلوم ندوة العلماءکو ان دونوں اکابرکی رہنمائی و سرپرستی میں مزید ترقیات کے مراحل طے کرائے۔ (آمین)
درج بالا تمام شخصیات کا دائرۂ خدمت اور علمی وفکری مقام اتنا بلند ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لئے تفصیلی مضمون لکھ کر ان سے وابستگی اور ان کی وفات سے ہونے والے نقصانات کو بیان کرنے کا شدید تقاضا تھا۔ مگر مشیت ایزدی سے ان حضرات اور ان کے علاوہ ہماری اس فانی دنیا سے صرف سال ڈیڑھ سال کے اندر کوچ کرجانے والی اہم شخصیات کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ان کے سلسلہ میں ایسے تفصیلی مضامین لکھنے کی نہ تو راقم الحروف کے اندر فوری طور پر سکت ہے نہ ہی ”البدر“ کے دامن میں اس کی گنجائش ہے۔ اس لیے  ”کچھ بھی نہ ہونے سے کچھ ہوجانا بہتر ہے“ کا لحاظ کرکے فی الحال اسی تحریر پر اکتفا کرنے پر قناعت کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ حق تعالیٰ تمام مرحومین کے ساتھ اپنے شایان رحمت اکرام کا معاملہ فرماکر اپنے قرب خاص سے نوازے اور ان کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ نیز جن اداروں سے ان کی وابستگی رہی انہیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی، دینی وفکری کاموں کو انجام دینے کے لیے ان کے خردوں میں سے باکار افراد پیدا فرمائے۔ کیوں کہ:
یہ دنیا اس کا کیا ہے، ہے نہیں ہے
ہماری دولتِ جاوید دیں ہے