دارالعلوم ایک بار پھر قدیم ڈگر پر- احمد فریدی القاسمی

اکابر کا فیصلہ بسر وچشم قبول ہے۔بہت خوب فیصلہ لیا گیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرّسین حضرت الاستاذ مولانا سیّد ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند اور شیخ الحدیث حضرت مہتمم صاحب مفتی ابوالقاسم نعمانی زید مجدہ کو بنایا گیا ہے۔معاون مہتمم حضرت قاری عثمان منصورپوری ہیں۔حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کے بعد حضرت مہتمم صاحب کا درس سب سے زیادہ مقبول تھا ۔نیز حضرت کو بخاری پڑھانے کا تجربہ بھی ہے ۔صحاح ستہ پڑھا بھی چکے ہیں۔ شیخ الحدیث کے عہدے پر مولانا مدنی صاحب کو ہی رکھا جاتا ۔لیکن حضرت کو ملیّ خدمات، اسفار، بھاگ دوڑ کی وجہ سے شیخ الحدیث نہيں بنایا گیا ۔ میری ذاتی تمنا تھی کہ مولانا مدنی صاحب کو صدر مدرّس بنایا جائے ۔خواہ شیخ الحدیث کوئی بھی ہو ۔نظر مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب کی طرف جاتی تھی ۔یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ صدر مدرّس ہی شیخ الحدیث ہو۔یا دونوں عہدے ایک ہی فرد کے پاس ہوں،یہ ضروری نہیں ۔دارالعلوم میں اس سے قبل بھی ایسا ہوچکا ہے۔حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ کے زمانے میں ان کو صدر مدرّس بنایا گیا جبکہ شیخ الحدیث کوئی اور تھے ۔بعدہ ان کو شیخ الحدیث بنادیا گیا ۔خیر ۔ایسا کئی بار ہوا ہے کہ دونوں عہدے الگ الگ شخصیت کے پاس رہے ہیں۔آج بھی وہی ہوا ہے ۔باری تعالی اکابر کی عمر دراز فرمائے ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ کسی زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب تھے ۔وہ زمانہ بھی کوئی نہیں بھول سکتا ۔تعلیم کس معیار پر تھی ۔اساتذہ پر کنٹرول، بلارعایت معاملات، کڑی نگرانی وسختی سب امور پر غالب تھی ۔کسی کی بھی سفارش قابلِ قبول نہ تھی ۔اگر اصول و ضوابط کی زَد میں اپنا ہی فرزند آجائے تو بھی کوئی رعایت نہیں ۔مفتی عفاّن منصورپوری کا واقعہ سب کو یاد ہے۔شاید شادی بعدہ عمرہ وغیرہ کی وجہ سے ہفتم یا کسی سال میں حاضری اوسط ۷۵ فیصد سے کم ہوگیا تھا ۔اصولی اعتبار سے اعادہ سال لازمی تھا ۔والد صاحب قاری عثمان نائب مہتمم تھے ۔ماموں جان مولانا مدنی ناظمِ تعلیمات ۔تمام اساتذہ کی رائے یہ تھی کہ "عفاّن” پڑھنے میں اچھا ہے۔پوزیشن والا اعلی درجہ کا طالب علم ہے۔تعلیمی معیار بھی بلند ہے۔لہذا رعایت کرکے اعادہ سال نا کیا جائے ۔لیکن وہی "شیر” کی گرجدار آواز سنائی دی "نہیں، اعادہ کرنا ہی پڑےگا” ۔سو اعادہ کرنا پڑا ۔

اب صدر مدرّس مولانا ارشد مدنی حفظہ اللہ ہی ہیں ۔ناظم تعلیمات ومجلس تعلیمی صدر مدرّس کے ماتحت ہوتی ہے۔جبکہ دارالاقامہ اہتمام کے ماتحت ہوتا ہے۔سو مطلب یہ ہوا کہ مولانا ارشد مدنی بیک وقت صدر مدرّس اور ناظم تعلیمات بھی ہیں ۔وہی پرانا دَور لوٹ آیا…
"تلک الایاّم نداولھا بین الناس”
اب تعلیمی معیار بلند ہوتا جائےگا ۔طلبہ پر مکمّل گرفت اور بھرپور سختی ہوگی ۔جو اِن کو "ہیرا” بنائےگی ۔کیونکہ مولانا مدنی اصول کے بہت پابند ہیں ۔ یہ سختی بہت ضروری ہے۔کیونکہ پتھر کئی سو سال دھوپ میں تَپے تب جاکر "ہیرا” بنتا ہے۔ سو طلبہ کے لئے یہ بہت ضروری تھا ۔اور وہی ہوا… سچ ہے کہ خدا جو فیصلہ کرتا ہے ۔اچھا ہی کرتا ہے ۔بس یہی دعاء کیجئے کہ باری تعالی ان اکابر کی عمر دراز فرمائے اور ان کا سایہ عاطفت تادیر سروں پر قائم رکھے: آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*