Home خاص کالم دارالعلوم ندوۃ العلما: امیدوں کا مرکز-ابو فہد ندوی

دارالعلوم ندوۃ العلما: امیدوں کا مرکز-ابو فہد ندوی

by قندیل

 

۲۶؍ ستمبر ۱۸۹۸ء میں جب دارالعلوم ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا تھاتوبدلے ہوئے حالات کا ساتھ دینے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ مگرآج ایک سو پچیس سال بعدندوۃ العلماء جو کچھ بھی اور جیسا کچھ بھی ہمارے سامنے ہے، آج کے بدلے ہوئے حالات کا ساتھ دینے والا بالکل بھی نہیں ہے۔ آج اکیسویں صدی کے جوحالات، تقاضے، مسائل اور ضروریات ہیں وہ بیسویں صدی کے ابتدائی نصف برسوں کی ضروریات، مسائل، تقاضوں اور حالات سے بالکل مختلف ہیں۔

گزشتہ صدیوں میں زمانہ صدیوں تک ایک ہی حال اور چال پر برقرار رہتا تھا مگرآج یہی زمانہ اپنی برق رفتاری کے باعث چند دہائیوں میں ہی کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ چیزیں بدل جاتی ہیں، خیالات کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں، جغرافیے تبدیل جاتے ہیں اورتمدن کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے تو ایسی صورت حال میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ مسلمان بھی اور ان کےادارے بھی، بلکہ سب سے پہلے ان کی نیتیں اورارادے بھی زمانے کے ساتھ ساتھ رہیں، قدم بہ قدم ،دوش بدوش اور پہلو بہ پہلو۔اور محض ساتھ ہی کیوں رہیں، اس سے آگے بڑھ کر زمانے کی قیادت کرنے والے بنیں، جیسا کہ وہ ماضی میں تھے۔

جب ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا تھا تواس وقت کہا گیا تھا کہ ندوہ قدیم صالح اورجدید نافع کا سنگم ہوگا بلکہ اس کا داعی اور محرک ہوگا۔ مگرآج ایک سو پچیس سال بعد جب ہم ندوۃ العلماء کے درودیوار پر نظر ڈالتے ہیں اور نیتوں اور ارادوں کودیکھتے ہیں، منصوبوں اور سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں توکسی حد تک درودیوار تو چمکتی ہوئی نظر آتی ہیں مگر صدی بھر کی جدوجہد کے جو روشن نتائج سامنے آنے چاہئے تھے وہ نظر نہیں آرہے ہیں۔ ندوۃ العلماء کی کارکردگی اور سرگرمیاں بے شک بڑھی ضرورہیں، شہرتیں بھی یقینا بڑھ گئی ہیں اور ندوی ہونا فکر وعمل کی صالحیت، اعتقادات اوراعمال میں اعتدال پسندی اور دانشمندی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ تاہم ندوے کی کل کائنات اور اس کے زمین وآسمان یہی تو نہیں ہیں کہ اسے جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے۔ آج ندوہ میں قدیم صالح تو کچھ نہ کچھ نظر آجائے گا مگر جدید نافع بہت کم نظر آئے گا۔ ایک صدی اپنی برق رفتاری کے ساتھ اور اپنی تمام تر تباہ کاریوں کے ساتھ گزرگئی مگر ندوہ کا نصاب وہی ہے جو ایک صدی پہلے تھااوردرس وتدریس کاطریق کاربھی وہی ہے جواس وقت تھاجب مسلمان انگریزوں سے برسرپیکار تھے۔

پھر بھی ہم کہیں گے کہ ندوہ جیسا بھی ہے وہ ہماری امیدوں کا مرکز ہے وہ قوم کا نگہبان ہے،میر کارواں ہے، حجازی قافلوں کا ہدی خواں ہے، وہ اندھیری اور تاریک راتوں میں اذان ِبلال ہے، وہ نسیم سحری ہے اور موسوموں کی گھٹن زدہ فضاؤں میں بادِ بہاری ہے۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ کی وفات حسرت آیات کے بعد ندوہ اوراہل ندوہ اپنے آپ کوبے سہارا محسوس کررہے ہیں،جیسے ریگستان کی کڑی دھوپ میں ان کے سروں پر ایک سائبان تھا، نہ رہا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری امت سوگوارہے، کیا عرب اور کیا عجم ہرجگہ مولانا مرحوم کے جانے کا سوگ منایاگیا۔ اب ان کے بعد انہی کے خاندان کے چشم وچراغ حضرت مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی کواتفاق رائے سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی نظامت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید عبدالعلی ندوی کے پوتے ہیں۔ اورحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ؒ آپ کے چچا لگتے ہیں۔ مولانا بلال حسنی صاحب مثبت سوچ کے حامل انسان ہیں اور متحرک وفعال شخص ہیں، اہل ندوہ وانتظامیہ اور طلبہ، سب کے سب پہلے ہی سے ان کے بہت مداح رہے ہیں۔ اگر لیاقت کی بات ہے تو مولانا اس کے بالکل اہل ہیں، صالحیت اور صلاحیت ہردو خصوصیات سے متصف ہیں۔ مولاناکو اہتمام ونظامت کے کاموں کا بھی اچھا تجربہ ہے، ملک میں ان کی پہچان بھی ہے، تصنیف وتالیف اور درس وخطابت کا بھی اچھا ذوق رکھتے ہیں، اب تک درجنوں کتابیں ان کے قلم سے نکل چکی ہیں۔ قرآن سے مولانا کو خصوصی شغف ہے، وہ گرچہ حافظ قرآن نہیں ہیں مگر کثرت تلاوت کی وجہ سے قرآن کا بڑاحصہ انہیں زبانی یاد ہے۔ قرآن کی ترجمانی کا بھی انہیں شرف حاصل ہوا ہے، چنانچہ ان کے ترجمۂ قرآن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ مولانا کو برسوں حضرت علی میاں ندوی اور پھر حضرت محمد رابع حسنی ندوی رحمہمااللہ کی رفاقت نصیب رہی ہے، وہ ان کے کام کو بھی سمجھتے ہیں اورمزاج کو بھی اوراس بات کو بھی کہ بدلے ہوئے حالات میں بلکہ دگر گوں ہوتے ہوئے حالات میں ندوہ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے کو کس طرح اپ چلانا ہے اورکس طرح اس کی کارکردگی کو بڑھاناہے۔

مولانا کے خلاف بعض دوسرے حوالوں سے تنقید کرنا بجا ہوسکتا ہے، بعض لوگ انہیں ناظم بنائے جانے کے طریق کار پر بھی بات کررہے ہیں اور بات کرنا غلط نہیں ہے، تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ کافی اہم ہے کہ ندوے کی مجلس شوریٰ، دیگراسٹاف اوراساتذہ وطلبہ کی طرف سے کسی طرح کی کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی ہے۔ موروثیت اپنے آپ میں لاکھ بری صحیح، جیسا کہ میں اپنے بعض مضامین میں اس کو اجاگر کرتا رہا ہوں مگرکسی عہدے کے لیے نامزد فرد کا استحقاق محض اس لیے ختم نہیں ہوجاتا کہ وہ اسی عہدے پر فائزشخص کا بیٹا، بھائی، داماد یا پوتا ونواسہ ہے۔ استحقاق بہرحال میں باقی رہتا ہے،غالبا اسی اصول کے تحت امت کے متفقہ فیصلے سے حضرت حسنؓ کو حضرت علیؓ کی جانشینی ملی تھی۔ البتہ اگرکوئی بوبکروعمررضی اللہ عنھما کا اسوہ اپنانا چاہے اور اپنی اولاد کے استحقاق کوکلعدم قراردیدے توتقویٰ وپرہیزگاری اورامت کے لیے خیرخواہی کی اس سے بڑی مثال ناممکن ہے کہ کوئی دوسری ہوسکتی ہے۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء کو کم وبیش ایک صدی سے اس خاندان کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے والد مولانا حکیم سید عبدالحئی حسنیؒ سے لے کر حضرت مولاناؒ کے بڑے بھائی ڈاکٹرعبدالعلی حسنیؒ، خود حضرت مولانا اور پھرحضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی ؒ تک جو دور نظامت ہے یہ تقریبا ایک صدی کومحیط ہے۔ حکیم سید عبدالحئی حسنیؒ کو دسمبر۱۸۹۵ میں مددگار ناظم اور پھر ۱۹۱۵ء میں ناظمِ ندوۃ العلماء مقرر کیا گیا تھا، درمیان میں چند سالوں کے لیے حسن علی خاںؒ نظامت کے عہدے پرفائزہوئے، پھرحکیم صاحب کے بڑے صاحبزے ناظم بنے اور پھر فخرعرب وعجم حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندویؒ ناظم ندوہ ہوئے، پھر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اوراب حضرت مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی مدظلہ العالی کے نام قرعۂ فال نکلا ہے۔ ندوۃ العلماء کے قیام کے وقت سے اب تک جسے بھی ندوے کی نظامت کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ اس ذمہ داری کا پوری طرح اہل تھا اوراتفاق رائے سے اس عہدے پر فائز ہوا تھا۔ یہی دووجوہات رہیں کہ ندوے میں نظامت کے خلاف اختلافات سامنے نہیں آئے۔ پھراس خاندان کے افراد میں جو اخلاص وللٰہیت ہے، ملنساری اور خوش گفتاری ہے اور پھر چھوٹے بڑے کا لحاظ ہے اورادب واخلاق ہیں وہ ان کی دیگر تام کسبی صلاحیتوں پر مستزاد ہیں۔

اس خاندان کی شہرت وعظمت تنہا دارالعلوم ندوۃ العلماء اوراس کی نظامت کی وجہ سے نہیں ہے، یہ خاندان تو ندوۃ العلماء کے وجود سے صدیوں پہلے سے عظمت وشہرت کا حامل رہا ہے۔ اوراس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ بعد کے زمانے میں اگر دارالعلوم ندوۃ العلماء، پرسنل لابورڈ اور دیگر اداروں کواس خاندان کے معزز اور قابل افراد کی قیادت نصیب ہوئی تو یہ ان اداروں کی خوش بختی تھی۔

اب جب حضرت مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مقرر کیے گئے ہیں توطلبۂ ندوہ کی یہی خواہش ہے کہ مولانا کی باکمال شخصیت اوران کاعلم واخلاص دارالعلوم کے حق میں مفید ثابت ہو۔ اورندوہ آج کے بدلے ہوئے حالات میں بہتر سے بہتررہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے۔ مذکورہ ساری صورت حال کے پس منظر میں حضرت ناظم صاحب سے بجا طورپر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ندوۃ العلماء میں انتظامی امور کے ساتھ ساتھ، تدریسی معاملات پر بھی توجہ دیں گے، نصاب پر بھی کچھ نیا کریں گے، سائنس اور دیگرعصری موضوعات کو بھی شامل نصاب کریں گے اورطلبہ کو انٹر کی سرکاری ڈگری دلانے کی بھی کوئی نہ کوئی سبیل نکالیں گے۔ بہتر ہوگا اگر ناظم صاحب ندوے کی تمام شاخوں کو یہ میسیج بھجوادیں کہ وہ آخری درجات کے طلبہ کو انٹرکی سرکاری ڈگری دلانے کے انتظامات بھی کریں اور ندوۃ العلماء میں صرف انہی طالب علموں کو لیا جائے گا جن کے پاس انٹر کی سرکاری ڈگری بھی ہوگی۔

ابتدائی درجات کے نصاب میں بہت زیادہ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا نصاب بڑی حد تک اسکولوں کے نصاب جیسا ہی ہونا چاہیے۔ تاکہ جو بچے درمیان میں ہی ڈراپ آؤٹ کرجاتے ہیں وہ اپنی اسی تعلیم کی بنیاد پرآسانی سے اسکول وکالج کی لائن پکڑ سکیں، کچھ نہیں تواوپن اسکولنگ سسٹم ہی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ جو طلبہ حفظ کرکے آتے ہیں اوران میں جن کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے، انہیں خصوصی درجات میں داخلہ دیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ عمر کے حساب سے مختلف درجات میں داخلہ ہو۔ ہر برانچ میں کم از کم تین چار زبانیں سکھانے کا بند وبست ہونا چاہیے۔ ندوہ کے موجودہ نصاب تعلیم میں نحو وصرف کی کتابیں بہت زیادہ ہیں، نحوو صرف پڑھانے کا مقصد عربی سکھانا ہے مگر نحو وصرف میں مہارتیں حاصل کرلینے سے عربی نہیں آتی، یہ سب جانتے ہیں۔ اس لیے نحو وصرف کی کتابیں کم کرکے دوسری کتابیں شامل نصاب کی جاسکتی ہیں۔ ندوے میں فضیلت تک کی تعلیم ہوتی ہے، پی ایچ ڈی کے انتظامات بھی ندوے میں ہی ہوں تو بہت اچھا ہوگا۔ اسی طرح ندوے میں دیگر شعبہ جات بھی کھولنے کی ضرورت ہے۔ طلبہ کوعربی انگلش ٹرانسلیشن سکھانے کے لیے اوران دونوں زبانوں میں مہارتیں پیدا کرنے کے لیے ڈپلومہ کورسس کے لیے بھی اسپیس نکالنا ضروری ہے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ سب چیزیں زیادہ اہم نہیں ہیں یا پھران کا امپلیمینٹیشن مشکل ہے۔ مشکل تو ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے بس ارادہ اور انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔

You may also like

Leave a Comment