دارالمصنّفین کی مجلس انتظامی کی میٹنگ، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نئے ناظم منتخب

اعظم گڑھ: گذشتہ دو برس سے ’’ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی‘‘ کے ڈائریکٹرپروفیسر اشتیاق احمد ظلّی کی طبیعت مستقل خراب چل رہی ہے ۔عدم صحت کے باوجود وہ ادارے کے انتظا م وانصرام سے وابستہ رہے اور اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔ سے دار المصنفین بر صغیر کا قدیم ترین معتبر ریسرچ ادارہ ہے جسے ۱۹۱۵سنہ میں علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے قائم کیا تھا۔

۲۰؍ستمبر ۲۰۲۱ء کو اکیڈمی کی مجلس انتظامیہ کی میٹنگ بذریعہ زوم ہوئی جس میں تمام ممبران شبلی اکیڈمی ٹرسٹ بشمول اس کے صدر جناب حامد انصاری سابق صدر جمہوریہ شریک ہوئے۔ اس میٹنگ میں پروفیسر ظلّی نے اپنی خرابیٔ صحت کے سبب دارالمصنّفین کی نظامت سے استعفا کا اعلان کیا ۔ پروفیسر ظلّی کی صحت ، حالا ت اور ضرورت کے پیش نظر ارکانِ انتظامیہ نے بادلِ ناخواستہ ان کااستعفا منظور کرلیا اور بارِ نظامت عالمی شہرت یافتہ اسکالر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے کندھوں پر ڈال دیا جس کو انھوں نے منظور کر لیا ۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام سنہ ۲۰۰۷ سے شبلی اکیڈمی ٹرسٹ کے ممبر اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے بعد اس کی مجلس عاملہ کے سنہ ۲۰۰۹ سے صد ر تھے۔ وہ اکیڈمی کے مشن اور انتظا می امور و معاملات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔دینی وعصری دونوں طرح کے اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے ۔انھوں نے جامعہ ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے حصول علم کیا ہے۔ لیبیا کی وزارت خارجہ میں بحیثیت مترجم و ایڈیٹر کام کیا ہے ۔مسلم انسٹی ٹیوٹ لندن کے سینئر ریسرچ فیلو (ایسو سی ایٹ پروفیسر ) رہ چکے ہیں ۔ انھوں نے اسلامی مطالعات میں مفہوم ہجرت کے موضوع پر مانچسٹر یونیورسٹی (برطانیہ) سے سنہ ۱۹۸۷ میں ڈاکٹریٹ کیا ۔ انھوں نے اردو، عربی اور انگریزی کی پچاس سے زیادہ کتابوں کی تالیف و ترجمے کیے ہیں جو قاہرہ، بیروت، لندن اور دہلی سے شائع ہوئی ہیں۔’’ہجرہ ان اسلام‘‘ اور ’’ پیلسٹائن ڈاکیو منٹس‘‘ ان کی مشہور کتابوں میں شامل ہیں۔ہندوستانی مسلم موضوعات پر ان کے آٹھ مقالے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (لیڈن) میں شامل ہیں ۔عربی مجلہ ’’مجلۃالتاریخ الاسلامی‘‘ اور انگریزی رسائل ’’مسلم اینڈ عرب پرسپکٹیوز‘‘ ، ’’مسلم انڈیا ‘‘ اور ’’ملّی گزٹ‘‘ کے مدیر بھی رہے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر صاحب کی ادارتی ذمہ داریوں اور صحافتی و تألیفی تجربات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ فی الحال پچھلے گیارہ سال سے قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ و تفسیر تیار کر رہے ہیں جو اب آخری مرحلے میں ہے اور جلد ہی شائع ہو گا۔اس کے علاوہ وہ مسلم مجلس مشاورت کے صدر، اکیڈمک کونسل آف ہمدرد یونیورسٹی کے ممبر، نیز انٹرنیشنل ایسو سی ایشن آف مسلم اسکالرز قطر اور ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ ریاض جیسی اہم انجمنوں کے ٹرسٹی اور دہلی مائیناریٹی کمیشن کے چیر مین رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام کو پرائیویٹ اور سرکاری دونوں قسم کے علمی وملّی اداروں کی سربراہی کا تجربہ حاصل ہے ۔

دارالمصنفین کے بہی خواہوں کو توقع ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام اپنے انتظامی ، تالیفی و صحافتی تجربات اور دارالمصنّفین کی دیرینہ اور قدیم روایات کی روشنی میں ملک وملت کے اس مایۂ ناز ادارہ کی عظمت رفتہ کی بحالی، ترقی اور اس کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔