درد مند عالمِ دین، سحر طراز انشاپرداز حضرت مولانانور عالم خلیل امینی ـ مفتی عمران اللہ قاسمیؔ

استاذ شعبہ عربی ونگراں شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند

عربی زبان سےعشق کی حد تک تعلق رکھنے والے، صاحبِ طرز ادیب، سیکڑوں عشاقِ لسانِ نبوت کے مربیّ، سحر طراز صاحبِ قلم،اثر آفریں انشاء پرداز، اسالیب وتعبیرات کی جدت طرازی کے رسیا، فصیح و بلیغ عربی زبان بولنے اور لکھنے پر عربوں کی طرح قدرت یافتہ، عربی رسالہ ’’الداعی‘‘ کے ایڈیٹر، اہلِ زبان عرب کے مابین باوقار وممتاز، نمایاں عربی خدمات انجام دینے پر صدر جمہوریہ ہند ایوارڈ یافتہ، نیز اردو زبان کے شیریں انداز، منفرد و البیلے اسلوب کے خالق، بلند پایہ مصنف، معروف تذکرہ نگار، دارالعلوم کے قدیم ومقبول استاذ؛ کہ طلبہ اور نوآمیز عربی دانوں کی عربی کے لیے ان کی تصویب اور اعتماد باعثِ فخر ، متعدد اساتذۂ فن کے استاذ، جن کے جادوئی قلم کی مضمون نگاری نے سیکڑوں اکابر علماء کی زندگیوں کو پسِ مرگ تابندہ بنادیا۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ، ولادت کے تین ماہ بعد ہی والد کے سایہ سے محروم ہوگئے تھے، شفقت پدری کے بغیر زندگی کا سفر شروع ہوا، مشقتوں اور دشواریوں کے ساتھ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۶؍شوال ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۰؍ دسمبر ۱۹۶۷ء کو دارالعلوم دیوبند میںداخل ہوئے اور اُس وقت کے دارالعلوم میں اساطینِ علم وفن اساتذہ سے استفادہ کیا، خصوصی طور سے لاثانی استاذ، بے مثال مربی، مردِ رجال ساز حضرت مولاناوحید الزماں کیرانویؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، پھر چند ناگریز اسباب کی بناء پر دارالعلوم سے علاحدہ ہونا پڑا، تو دلی کے معروف ادارے مدرسہ امینیہ میں داخل ہوئے، یہاں حضرت شیخ الاسلام کے فیض یافتہ ، معتمد وفدائی حضرت مولانا سید مشہود حسن امروہویؒ اور سلطان القلم، معروف مؤرخ و فقیہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب علیہ الرحمہ ودیگر اساتذہ مدرسہ امینیہ کی تربیت اور فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے، اپنی محنت ویکسوئی کی بنا پر سیدالملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب کی محبت وتوجہ آپ پر منعطف ہوگئی، حضرت سید الملت ہمہ وقت آپ کی ذات کی تعمیر اور مستقبل کو سنوارنے کےلیے کوشاں رہتے، ایک درمند باپ کی طرح آپ کے آرام اور مستقبل کے لیے فکر مندی ان کی گفتگو اور طرزِ عمل سے ہویدا رہتی تھی، حضرت سید الملت اپنے متعدد خطوط میں حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ سےآپ کا ذکر خیر کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے مولانا علی میاں صاحبؒ غائبانہ طور پر ہی آپ سے متعارف اور آپ کی صلاحیتوں کے قائل ہوگئے تھے، پھر جب آپ سید الملت کے مشورے اور تجویز سے حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کے پاس پہنچے تو حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ نے آپ کی عربی انشاءپردازی، کام کی دھن اور یکسو مزاج ہونے کی وجہ سےآپ کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میںاستاذ متعین فرمالیا، محنت کے ساتھ بحیثیت استاذ، تدریس کے فریضے کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً دس سال تک جاری رہا، اس دس سالہ مدتِ تدریس میں متعینہ کتب پڑھانے کے ساتھ حضرت مولانا علی میاں صاحب کے مشورے اور رہنمائی سے متعدد کتابوں کی تعریب اور ترجمہ کا کام بھی آپ نے انجام دیا، ندوۃ العلماء میںآپ کی تدریس اورعربی دانی پر بہت اعتماد کیا جاتا تھا، اُسی زمانہ میں بعض مدارس کی طرف سے زائد تنخواہ کے ساتھ تدریس قبول کرنے کی پیش کش ہوئی مگر آپ نے ندوۃ العلماء کی ملازمت کو ہی ترجیح دی اور وہیں پر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔

جب ۱۹۸۲ء میں نئی انتظامیہ کے تحت دارالعلوم دیوبند دوبارہ کھلا، انتظام و انصرام کو از سر نو استوار کرنے اور تعلیم وتعلّم، اصلاح وتربیت اور دارالعلوم کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے مقصد سے متعدد باصلاحیت وتجربہ کار اساتذہ کو دیگر مدارس سے دارالعلوم دیوبند میں خدمت انجام دینے کے لیے مدعو کیاگیا، تو اُس وقت دارالعلوم کے عربی رسالہ ’’الداعی‘‘ کی ادارت اور عربی زبان وادب کی تدریس کے لیے اربابِ انتظام کی بابصیرت نظر نے آپ کا انتخاب کیا، چنانچہ حضرت مولانا وحید الزماں صاحب کیرانویؒ نے ۱۲؍ رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ مطابق ۷؍ جون ۱۹۸۲ء کو بطور حکم نامہ ایک خط آپ کے نام ارسال کیا، حضرت مولانا کیرانوی ؒنے اُس خط میں تحریر کیا:

’’میں ابھی دہلی کے لیے روانہ ہورہاہوں اور وہاں سے موریشس جاؤںگا، اس وقت بلاتمہید کہنا یہ ہے کہ دارالعلوم کو آپ جیسے ہونہار اور مخلص افراد کی ضرورت ہے ’’الداعی‘‘ اور تدریس کے لیے آپ کا انتخاب کیا گیاہے، اگر آپ کے لیے کوئی خاص مانع نہ ہو تو کوشش کرکے دارالعلوم آجانے کا فیصلہ کرلیں اور ماہ شوال میں آجائیں تو بہتر ہے‘‘۔ (وہ کوہ کن کی بات )

حضرت الاستاذ اور دیگر حضرات کے حکم کی تعمیل میں آپ دارالعلوم دیوبند حاضر ہوگئے، مجلس شوریٰ منعقدہ ۲۴؍۲۵؍۲۶؍ شوال ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۵؍ ۱۶؍ ۱۷؍ اگست ۱۹۸۲ء میں آپ کا باضابطہ تقرر عمل میں آگیا، اب آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا، جس میںجدو جہد، یکسوئی، انہماک و شغف کے ساتھ متعینہ کتابوں کی تدریس، عربی زبان وادب کی تعلیم، طالبان علوم نبوت کو کسی لائق بنادینے، ان کو عربی زبان کا نہ صرف آشنا بلکہ قادر بنادینے کی کوشش، دارالعلوم کے پیغام کو عام کرنے، مختلف مجالس، سیمینار اور کانفرنسوں میں دارالعلوم کی ترجمانی، اکابرِ دیوبند کے علوم ومعارف کو عربی زبان میںمنتقل کرنے، عربوں کو اُن سے استفادہ کے مواقع فراہم کرنے، مشہور اکابر وعلماء کے عربی اور اردو میں جامع اور مؤثر تذکرے تحریر کرکے ان کی زندگی کو تابندگی بخشنے، اردو اور عربی میں متعدد مؤثر مفید کتابیں تیار کرنے، رسالہ ’’الداعی‘‘ کومعیاری بنانے اور عالمی پہچان دلانے جیسے کارنامے آپ کی نمایاں خدمات ہیں۔

حضرت مولانا کیرانویؒ نے عربی زبان و ادب کے احیاء کا جو مشن شروع کیا تھا آپ نے نہ صرف اُس کو جاری رکھا بلکہ حسن، تہذیب و شائستگی کے ساتھ اس کو استحکام و ارتقاء سے آراستہ کیا، آپ نے اپنی عملی زندگی کا پورا دورانیہ تدریس اور تصنیف میں مشغولیت کے ساتھ ہی بسر کیا، دن و رات اسی میں مصروف رہتے، اپنے تمام تر اوقات اور پوری توانائی اِسی میں صرف کرتے تھے، کسی دوسری طرف بالکل متوجہ نہ ہوتے، شاید اس میں استاذِ محترم حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ کی نصیحت پر عامل تھے؛ کیوں کہ جن دنوں آپ ندوۃ العلماء میں استاذ تھے سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نے ایک خط میں آپ کو نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا:

’’حضرت الاستاذ شیخ الادب (مولانااعزاز علی صاحبؒ) نے احقر کو ہدایت فرمائی تھی کہ مدرس کا فرض درسی مشاغل میں انہماک ہے، اس کو ادارے کی سیاسیات میں دخل دینا چاہے، نہ اندرونی معاملات میں، حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی کامیابی بھی یہی ہے، ان سے منقول ہے کہ ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تھی لَاتُنَازِعِ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ امید ہے کہ آپ بھی یہی مسلک اختیار کریں گے۔ والسلام محتاج دعا: محمد میاں‘‘ ۔(پس مرگ زندہ،ص:۷۵)

مولانا نے اپنے استاذ محترم کی اس نصیحت پر گرہ باندھ لی، اس پر عمل کرتے ہوئے یکسو ہوکر زندگی گذاری، ہمہ وقت اپنے کام میں مصروف رہتے تھے، فضول ملاقات اور مجلسوں کے حاضر باشی سے گریزاں رہتے ہوئےعالمی جرائد و رسائل کی ورق گردانی، مطالعۂ کتب ’’الداعی‘‘ کی ترتیب وتہذیب یا پھر کسی نئی کتاب کی تصنیف میں ہی نظر آتے، انھوں نے رسالہ ’’الداعی‘‘ کو بلند معیار تک پہنچانے میں انتھک محنت کی، اُس کی ترتیب میں معروف اہلِ قلم کے مضامین کو شاملِ اشاعت کرتے، حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ مقالات شائع کرتے، اُن کا تحریر کردہ ’’کلمۃ المحرر‘‘ اور ’’کلمۃ العدد‘‘ بہت پسند کیا جاتا تھا، رسالہ کے آخر میں ’’اشراقہ‘‘ نامی کالم زبان و بیان اور پیغام کےاعتبار سے اچھوتا اور مثالی ہوتا تھا، وفات سے تقریباً ایک سال قبل آپ نے قدیم رسائل سے ’’اشراقہ‘‘ کی تمام اقساط حاصل کرکے نظر ثانی کے بعد اُن کو ’’من وحی الخاطر‘‘ کے نام سے ترتیب دے دیا، جو زیرِ طبع ہے، یہ اہلِ علم وفضل اور طلبہ کے لیے ایک خاصے کی چیز ہے۔

مدرسہ کے ماحول میں رہتے ہوئے بھی وہ عالمی حالات سے واقفیت رکھتے تھے، بی بی سی نیوز کا سننا، متعدد اخبارات کا مطالعہ کرنا ان کامعمول تھا جس کے ذریعہ وہ دنیا کی سیاسی صورتِ حال سے باخبر رہتے تھے، خبروں کا تجزیہ، حالات پر تبصرہ ان کی دلچسپی کے عناوین تھے، اس حوالے سے وہ اپنی مضبوط رائے بھی رکھتے تھے، عالم اسلام پر دشمن طاقتوں کی یلغار ،سیاسی غلبہ، عربوں کی دولت پر قبضہ جمانے کے لیےرچی گئی ان کی سازشوں کا پورا ادراک مولانا کو حاصل تھا، وہ اپنے قلم کی جولانی سے مسلمانوں کو اُن حالات سے آگاہ کرتے رہتے ، تقریباً چالیس سال سے زائد عرصے سے جب سے انھوں نے عربی لکھنا اور عالمِ عرب کے حالات پر نظر رکھنا شروع کیا تھا ان کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی رہی، وہ رسالہ ’’الداعی‘‘ میں اس پر مسلسل لکھتے رہتے تھے، قضیہ فلسطین سے متعلق رونما ہونے والے انقلابات، اتار چڑھاؤ، شدت، پیچیدگی، مسلم امت کی اس کے متعلق ہمدردی و تعاون، فلسطینیوں کی مزاحمت، ان کی تباہی، بربادی، شہادت، اسرائیل کی طرف سے اُن کی ناکہ بندی، اُن کی پناہ گزینی کی رحم انگیز زندگی، فلسطینیوں کی ثابت قدمی ، عرب حکمرانوں کی بے حسی، سرزمین فلسطین کو ہڑپنے کے لیے صلیبی سازشیں اجاگر کرتے رہتے تھے؛ تاکہ اُمّتِ مسلمہ فلسطین کی باز یافت، مسجد اقصیٰ کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے باخبر رہے اور تاریخ و دینِ اسلام میں اس کی اصل اہمیت سے آنے والی نسلیں غافل نہ رہیں اور یہ حالات تاریخ میں محفوظ ہوجائیں، فلسطین سے متعلق مولانا کی تحریروں میں دردمندی، پرسوزی، اثرپذیری اور واقعات کی سچائی کے ساتھ بہت سی معلومات ہوتی تھیں، مولانا نے فلسطین سے متعلق تمام تحریرات کو نظر ثانی کرکےایک کتابی شکل دے دی جو اردو اور عربی دونوں زبانوں میںشائع ہوکر مقبول ہوئی، یہ کتاب اپنے عنوان پر ایک تاریخی دستاویز ہے جو بیش بہا معلومات پر مشتمل ہے۔

۱۱؍ ستمبر کے واقعہ کے بعد عالم اسلام پر امریکہ اور یورپ کی طرف سے عسکری حملے اور فکری یورشیں بڑھ گئی تھیں، اِس سے قبل عراق کی تباہی، عراقیوں کا قتل عام کیاگیا، لاکھوں عراقی لقمۂ اجل بنادیئے گئے، لاکھوں کو بھوکے ننگے مرنے اور تڑپنے پرمجبور کیاگیا، اسرائیلی ایجنسی موساد کے ہاتھوں ہزاروں عراقی سائنسداں، انجینئرس، ڈاکٹرس، علماء واساتذہ میں سے چیدہ چیدہ افراد کو قتل کے گھاٹ اتاراگیا، لبنان میں خانہ جنگی کی آگ روشن کر کے عربوں کے مابین منافرت کو ہوا دی گئی، پھر ایک بہانے سےافغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، افغانیوں کو بدتر حالت میںپہچانے کے لیے مسلسل سازشیں رچی گئیں ان سب کے باوجود امریکہ اور اس کے ہمنوا یہ کہتے نہیں تھکتے کہ یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں، اخبارات، رسائل اور میڈیا پر اس جھوٹے دعوی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا؛ کہ یہ تہذیبی تصادم نہیںہے، حضرت مولانا نے ان طاقتوں کے پروپیگنڈے کو پھانپ لیا اور قلم سے ان کے دعوی کا پردہ چاک کیا، مضبوط شواہد کی روشنی میں واضح کیا کہ ۱۱؍ ستمبر کا واقعہ کِن طاقتوں کا برپا کردہ تھا؟ عراق میں قتل وخون کی ہولی، فرقہ واریت کا ننگا ناچ کس نے کھیلا؟ امریکہ اور یورپ کے لیڈران کے بیانات اور ان کی عملی کارروائی کے تضادات سے مولانا نے ثابت کیا کہ یہ اسلام کے خلاف صلیبی و صہیونی جنگ ہے۔

اس وقت کے حالات میںاہل ایمان کی طرف سےکی جانے والی دعاؤں کے اثرات بظاہر مرتب نہ ہونے اور اسلام مخالف، مسلم دشمن طاقتوں کے روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہونے کی وجہ سے بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں مایوسی اور زبان پر شکوہ سنجی پیدا ہوگئی تھی، ان کی زبانوں پر ایسے کلمات جاری ہونے لگے جو عقیدے کی پختگی میںکمی کو ظاہر کرتے تھے، حضرت مولانا نے اپنے قلم کے ذریعہ اس خلجان کو دورکرنے کی کوشش کی اور اپنی تحریرات میں مدلل طور پر بتایا کہ زمانہ حاضر کی موجودہ صورتِ حال، ماضی میں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آچکی ہے، اور آپ کے کردار و عمل میں اس سے نمٹنے کا تجربہ موجود ہے، اسلامی تعلیمات، نبوی ہدایات ، صحابہ و صالحین کے فکرو عمل میں ایسی تدبیریں پائی جاتی ہیں جن کے ذریعہ ان حالات سے ابھرنے اور ایمان وعقیدے کی پختگی کے ساتھ مستقبل میں اٹھنے والے کسی بھی فتنہ سے مقابلہ کی ہمت وجرأت پیداہوگی۔

عالمی منظر نامے پر بدلتے حالات سے مولانا بہت فکر مند رہتے تھے، نجی مجلسوں میں بڑے سوز کے ساتھ ان کو بیان کرتے، گفتگو اور تحریر سے ان کا اضطراب ودل سوزی اجاگر ہوتی رہتی تھی، اِسی وجہ سے انھوں نے اپنی تحریرات کے ذریعہ مسلمانوں کی خوابیدہ فکر کو جگانے، علماء کی فکرو نظر کو مہمیز کرنے کاکام کیا، مولانا عربی زبان میںاپنی فکر اور دلی احساسات کو ظاہر کرتے اور عربوں کو مخاطب بناکر اُن کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے تھے؛ کیوںکہ عربوں میں وہ صلاحیت ہے کہ آج بھی وہ پوری دنیا میں مسلم قیادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور پوری امت ان کی قیادت کو تسلیم کرسکتی ہے۔

ابتدا سے ایک طویل مدت تک آپ صرف عربی زبان میں لکھتے رہے، تمام مضامین، کتابیں عربی زبان میںہی تحریر کرتےرہے، مگر جب آپ کے مربیٔ خاص استاذ محترم حضرت مولانا وحید الزماں قاسمیؔ کیرانوی کی وفات ہوئی اورآپ نے اُن کے حالات و واقعات، اچھوتے طریقۂ تعلیم، اندازِ تربیت اور زندگی کے میدانوں میںان کے کارناموں پر مشتمل، شگفتہ وشیریں اردو زبان میںکتاب تیار کی، ’’وہ کوہ کَن کی بات‘‘ نامی یہ کتاب اردو میںآپ کی پہلی کاوش تھی، جو زبان کی شگفتگی، انداز کی برجستگی و بےساختگی کے اعتبار سے ایک ادبی شاہکار اور شہ پارہ تسلیم کی گئی، اہلِ زبان و ادب کےطبقہ میںاس کو توقع سے زیادہ پذیرائی ملی تو محبین کی طرف سے اردو میں لکھنے کا مطالبہ ہونے لگا، پھر آپ نے گاہے گاہے اردو میں بھی مضامین تحریر کیے، چند سال قبل آپ نے اردو داں طبقہ کو بھی عالمی حالات، صلیبی و صیہونی سازشوں سے باخبر کرنے کے مقصد سے اپنے قدیم وجدید عربی مضامین میں سے اکثر کو اردو زبان میں منتقل کرواکر شائع کرانا شروع کیا جنھیں علمی حلقوں میں کافی پسند کیا گیا، بعد میں آپ نے وہ مضامین ترتیب دے کر کتابی صورتوں میں بھی شائع کردیئے؛ چنانچہ ’’فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں‘‘، ’’اسلام کے خلاف صلیبی صیہونی جنگ‘‘، ’’کیا اسلام پسپاہورہاہے‘‘ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، اسی طرح وفات پاجانے والی معروف شخصیات پر آپ نے جو عربی زبان میںتذکرے اور مفصل مضامین تحریر کیے تھے ان کو بھی اردو جامہ پہنادیا’’پس مرگ زندہ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آنے والا مجموعہ اور ’’رفتگانِ نارفتہ‘‘، خاکی مگر افلاکی‘‘ زیر طبع مجموعے مولانا کے شاہکار قلم کے اردو نتائج ہیں۔

حضرت مولانا ایسے صاحبِ قلم تھے جنھوں نے اپنی زندگی میں ہزارو ں صفحات لکھے، اُن کا لکھاہوا ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے، زبان وبیان، اسلوب وتعبیر، فکر و درد ہر اعتبار سے مولانا کی تحریریں ایسی ہیں کہ تحریر و انشا پردازی کے طالب علم کو ان میں زبان کی چاشنی، تہذیب وشائستگی، اسلوب و تعبیر کی خوبصورتی، عمدہ الفاظ کا انتخاب ملے گا جن کو برتنے سے وہ ایک عمدہ اوراچھا قلم کار بن سکتاہے، اسی طرح عالمی حالات پر مشتمل مولانا کی تحریروں میں واقعہ نگاری، سچائی،واقعات کا تجزیہ و تحلیل، دقیقہ رسی، فکر انگیزی اور ایسی حقائق بیانی پائی جاتی ہے کہ پڑھنے والے میں قوم وملت کے مسائل سے ہمدردی جاگ اُٹھے گی، شخصیات پر لکھے گئے خاکوں اور تذکروں میں واقعات کی سچائی، صاحبِ تذکرہ کی نیکی و پرہیزگاری، پھر مولانا کا سحر انگیز اسلوب، قاری میں صلاح و پرہیز گاری کے اوصاف اُجاگر کرنے کا سبب بن سکتاہے،کسی تحریر میںایسی اثر پذیری اسی وقت ممکن ہے جب کہ لکھنے والے کے پہلومیں دل دردمند ہو اور وہ حساس طبیعت کا مالک ہو پھر وہ سچائی اور اخلاص کے ساتھ اپنے قلم کوجنبش دے۔

تقریباً ایک ماہ تک بیماری سے نبردآزما رہنے کے بعد حضرت مولانا دنیا سے رخصت ہوگئے، اب حضرت کے فیض یافتگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مولانا کے چھوڑے ہوئے نقوش کو اپنا کر قوم و ملت کی خدمت کا فریضہ انجام دیں۔