درد کا اہتمام کم کم ہے ـ زہرا شاہ

درد کا اہتمام کم کم ہے
یعنی تجھ سے سلام کم کم ہے

حرمتِ لفظ کھو نہ جائے کہیں
اس لئے بھی کلام کم کم ہے

صبحِ نو کا ستارہ کہتا ہے
میرے سر پہ یہ شام کم کم ہے

تجھ سے آنکھیں ادھار لیتی ہے
روشنی کا نظام کم کم ہے

حیلہ کچھ بھی نہیں روابط کا
اس سے پڑتا بھی کام کم کم ہے

جانے کس سے ہوا مخاطب وہ
خط میں میرا تو نام کم کم ہے

کچھ پسِ مرگ خواہشیں رکھ لیں
زندگی کا دوام کم کم ہے

اب یہ سنتا ہے اپنی مرضی سے
دل تمہارا غلام کم کم ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*