دربھنگہ کے طالب علم نے NEETسینٹر تک پہنچنے کے لیے 700کلومیٹر کی مسافت طے کی،دس منٹ تاخیر کی وجہ سے امتحان میں شرکت سے محروم رہ گیا

کولکاتا:بہار کے دربھنگہ کے NEET کے امیدوار سنتوش کمار یادو نے امتحان میں شرکت کے لئے کولکاتہ پہنچنے کی خاطر 24 گھنٹے میں 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا،پھر بھی امتحان میں شریک نہیں ہوسکا۔ اس نے اس امتحان میں شرکت کے لئے،جس کے لیے وہ مہینوں سے تیاری کر رہا تھا، دو بسیں تبدیل کیں۔ تاہم قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا اور محض دس منٹ کی تاخیر کی وجہ سے وہ امتحان نہیں دے سکا۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق دس منٹ کی تاخیر کی وجہ سے اسے سالٹ لیک میں واقع ایگزام سینٹر میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ یادو نے ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں نے ذمے داران سے التجا کی لیکن انہوں نے کہا کہ دیر ہو چکی ہے۔ امتحان دوپہر 2 بجے شروع ہوا۔ میں 1.40 کے قریب سینٹر پہنچا۔ سینٹر میں داخل ہونے کا آخری وقت ڈیڑھ بجے تھا‘‘۔ اس نے دکھ کے ساتھ کہا کہ’’میرا ایک سال ضائع ہوگیا‘‘۔
NEET کے امتحان دہندگان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کووڈ 19 کے بحران کے دوران سیکیورٹی اور صحت کی جانچ پڑتال کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحان کے آغاز سے تین گھنٹے قبل ایگزام سینٹر پہنچیں۔ یادو نے بتایا کہ اس نے ہفتہ کی صبح 8 بجے دربھنگہ سے مظفر پور کے لئے بس لی۔ وہاں سے دوسری بس لے کر پٹنہ پہنچا۔ لیکن پٹنہ جاتے ہوئے ٹریفک جام کی وجہ سے چھ گھنٹے کی تاخیر ہوگئی۔ پٹنہ سے یادونے رات 9 بجے کولکاتا کے لئے ایک بس لے کردوپہر 1.06 پر سیالدہ اسٹیشن پہنچا۔ وہاں سے ایک ٹیکسی لے کر ایگزام سنٹر گیا ، لیکن 10 منٹ تاخیر کی وجہ سے امتحان سے محروم رہ گیا۔
اس سے قبل سندربن کے گوسابا سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ لڑکے دگانتا موندل نے JEE کا امتحان دینے کے لئے 75 کلومیٹر دور شہر کے مضافاتی علاقے میں امتحانی مرکز تک پہنچنے کے لئے چھ گھنٹے تک سائیکل کی سواری کی تھی۔ سالٹ لیک سیکٹر بائیس میں واقع امتحانی مرکز تک پہنچنے کے لئے اسے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے مزید دو گھنٹے سفر کرنا پڑا۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں وبائی بحران کے دوران ہونے والا داخلہ امتحان بحث کا موضوع رہاہے۔ سماجی کارکنان ، طلبا اور متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے طلبا کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے امتحان کی مخالفت کی تھی۔ لاک ڈاؤن اور سیلاب کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی کمی نے طلبا کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا۔ کچھ دن پہلے مدورئی کی ایک 19 سالہ طالبہ اور تمل ناڈو میں دو دیگر میڈیکل امیدواروں نے خودکشی کرلی تھی ، جس کی وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتیں نیٹ کے امتحان کی مخالفت کر رہی تھیں۔