Home نقدوتبصرہ دربار حق و ہدایت:ایک جائزہ -ریحان غنی

دربار حق و ہدایت:ایک جائزہ -ریحان غنی

by قندیل
اس ترقی یافتہ  لیکن چیلنج بھری دنیا میں ہم آج بھی چند مذہبی اصطلاحات کو بحث و مباحثے کا موضوع بنا کر خود بھی الجھ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی الجھا رہے ہیں۔ جبکہ یہ وقت مل بیٹھ کر یہ سوچنے کا ہے اور غور کرنے کا ہے کہ لارنس آف عربیہ کون تھا اور اس نے کس طرح تنہا سلطنت عثمانیہ کو تاراج کرنے میں کامیابی حاصل کی؟ سعودی عرب میں” نیوم” ( NEOM) کے نام سے  جدید ترین شہر کیوں  بسایا جا رہا ہے؟ واقعہ رجیع کیا ہے ؟ واقعہ بابری مسجد کیوں اور کیسے پیش آیا؟ اس کے علاوہ ماضی میں ہمارے خلاف کیا کیا سازشیں کی گئیں اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر آج کیا کیا سازشیں کی جا رہی ہیں؟ ہم میں اخلاقی گراوٹ کیوں آرہی ہے؟ ہمارے ملی ، مذہبی اور تعلیمی ادارے زبوں حالی کے شکار کیوں ہیں؟ ہماری قیادت روز بروز کیوں کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے؟ ہمارے پاس ایک بھی ایسا  کوئی اسپتال کیوں نہیں ہے، جس پر ہم فخر کرسکیں؟  اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن پر ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے  اور اس  کا حل نکالنا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس ہم متنازعہ باتوں اور  مسلکی اختلافات کو ہوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔  ایک دوسرے کو بد مذہب ،جہنمی اور کافر تک کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ جو فیصلہ اللہ کو کرنا ہے وہ فیصلہ ہم خود کر رہے ہیں ۔ یہ باتیں میں اس کتاب کے مطالعے کے بعد مجھ پر جو کیفیت طاری ہوئی، اس کے پس منظر میں کہہ رہا ہوں۔ اس کتاب کا نام ” دربار حق و ہدایت ” ہے جو  125 سال پہلے 1318ھ میں مطبع حنفیہ ،عظیم آباد پٹنہ سے شائع ہوئی تھی ۔ اس کے مولف قاضی عبد الوحید فردوسی عظیم آبادی ہیں ۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیب سجادہ خانقاہ معظم ،بہار شریف شاہ امین احمد فردوسی علیہ الرحمہ کے مرید خاص اور امام احمد رضا خاں قدس سرہ  کے خلیفہ اور مجاز تھے ۔ اس کا دوسرا ایڈیشن معروف عالم دین اور قاضی شریعت ادارہ شرعیہ مولانا ڈاکٹر محمد امجد رضا  امجد کے طویل مقدمے کے ساتھ بزم رفاقتی،درگاہ امین شریعت اسلام آباد ،مظفر پورنے بہ موقع عرس رضوی شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں اس جلسے اور اس تحریک کی  روداد ہے جو قیام ندوۃ العلما کے خلاف عظیم آباد پٹنہ میں چھیڑی گئی تھی۔ اس کے روح رواں اس کتاب کے  مولف  مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی ہیں، جو مشہور محقق قاضی عبد الودود کے والد ہیںِ جو  اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ کی صالحیت کے سایے سے محروم رہ گئے ۔ کیا ان پر ” دیو بندیت”  اور”ندویت” کے اثرات مرتب ہوئے ؟یہاں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ 125 سال پہلے کی اس کتاب کو 2023 میں دوبارہ چھپوانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ہر چندکہ مولانا ڈاکٹر امجد رضا امجد نے  اپنے مقدمے میں اس کا جواب دینے کوشش کی ہے لیکن اس سے وہ صالح فکر رکھنے والوں اور مسلکی اتحاد کی بات کرنے والوں کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ میں ان کی بہت قدر کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کا نفس ابھی موٹا نہیں ہوا ہے۔ انہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ میرے خیال میں اس چیلنج بھری دنیا میں جہاں مختلف طرح کے فتنے سر اٹھا رہے ہیں "گڑے مردے” اکھاڑنا مناسب نہیں ہے۔  میں صرف یہ جانتا ہوں کہ 125 سال کے دوران دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔حالات نے نہ جانے کتنی کروٹیں لیں۔ پہلے کے حالات اور آج کے حالات میں نمایاں تبدیلی آ گئی ۔تمام تر مخالفتوں کے باوجود دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ، اور دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ساتھ اس ملک میں  تمام  مدارس دینیہ  پھل پھول رہے ہیں ، نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں اور ان کے ہزاروں فارغین ملک اور بیرونی ممالک میں اپنا دینی فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔
اس پس منظر میں یہ فیصلہ کیجئے کہ 125 سال پہلے پٹنہ میں "ندویت” کے خلاف جو تحریک شد و مد کے ساتھ چھیڑی گئی تھی اس کے مثبت اثرات  مرتب ہوئے یا منفی ؟ تھوڑی دیر کے لئے اس سوال کو بھی چھوڑیے اور سوچیے کہ بدلے ہوئے حالات میں اس کتاب کی دوبارہ اشاعت سے امت کو کیا فائدہ ہوگا ؟ پھر یہ صلح کلیت کیا ہے؟ یہ کتاب یعنی ” دربار حق وہدایت”  محض اس تحریک اور اس جلسے کی مکمل روداد ہے جو” تحریک ندوہ” کے خلافِ 7 رجب المرجب سے 13رجب المرجب 1318ھ تک پٹنہ  میں منعقد ہوا تھا ۔ اس میں کثیر تعداد میں علمائے اہل سنت جمع ہوئے تھے ۔ یعنی اس زمانے میں ایک طرف مولانا سید محمد علی مونگیری کی تحریک ندوۃ العلما چل رہی تھی اور  دوسری طرف اس تحریک کو توڑنے کے لئے  قاضی عبد الوحید فردوسی سرگرم تھے ۔ ان دونوں بزرگوں کی نیت اور اخلاص پر مجھے یا کسی کو بھی شک کرنے کا حق نہیں ہے اور کرنا بھی نہیں چاہیے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ پہاڑ کو تل بنانے کے بجائے تل کو پہاڑ بناتے رہے ہیں، جس سے معاشرے میں خلفشار پیدا ہوتا ہے۔آج ضرورت ان فتنوں پر غور کرنے اور متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنے کی ہے جو ہمارے درمیان تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس کتاب کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت نہیں تھی۔ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ اس کتاب کے تازہ ایڈیشن میں پہلی تقریظ ڈاکٹر  سید شاہ مظفر بلخی ( سجادہ نشیں خانقاہ بلخیہ فروسیہ ،فتوحہ ) کی ہے جن کے والد جید عالم دین تھے اور دارالعلوم ندوۃ العلما سے فارغ تھے۔ ڈاکٹر مولانا امجد رضآ امجد کو اس کا قدیم نسخہ خانقاہ بلخیہ فروسیہ فتوحہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ کتاب آج کے اس پر فتن دور میں کسی بھی طرح مفید نہیں ہو سکتی؛ بلکہ اس کے منفی اثرات ہی مرتب ہوں گے۔اللہ ہم لوگوں کے حال پر رحم فرمائے آمین ۔

You may also like