ڈرکی وجہ سے ہم اپنا مذہب اور مذہبی تشخص نہیں چھوڑ سکتے:اویسی

نئی دہلی: اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اتوار کی رات دیر گئے مسلمانوں کے مذہب کی تبدیلی سے متعلق ایک خبر پر ردعمل کا اظہار کیا۔ اویسی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’’ پہلے مسلمانوں کو سماجی ، سیاسی اور معاشی دھارے سے خارج کیا گیا اور اب انھیں مذہب ترک کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے‘‘۔ انہوں نے ہندوتوا کو بھی نشانہ بنایا۔ اویسی نے مزید لکھا: "ہم خوف کے سبب اپنے مذہب ، اپنی شناخت اور اپنی عبادت (عبادت) کو ترک نہیں کریں گے۔ کسی بھی طرح کا زبردستی” شدھی کرن "ہمیں آزادانہ طور پر منتخب کردہ مذہب ترک کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ہے۔ انشاء اللہ۔ ”
کچھ دن پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اویسی نے تبلیغی جماعت کے ممبروں کے معاملے میں اترپردیش حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ” یوپی حکومت مسلمانوں اور غریبوں کے ساتھ بے رحمی کا کوئی موقع کیوں نہیں چھوڑتی؟ اگر کورونا ٹیسٹ میں منفی آئے تبلیغی جماعت کے ممبران کو دہلی اور مدھیہ پردیش میں چھٹی دی جا رہی ہے تویوپی میں انھیں رہنے پر مجبور کیوں کیا جارہا ہے؟ یہاں تک کہ اس نااہلی اور فرقہ واریت کی قیمت پیدا ہونے والے بچوں کو بھی چکانی پڑ رہی ہے۔ "