فوٹوجرنلسٹ دانش صدیقی کو جامعہ ملیہ اسلامیہ قبرستان میں کیاجائے گاسپردخاک

نئی دہلی: افغانستان میں ہلاک ہونے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش کو دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ قبرستان میں سپردخاک کیاجائے گا۔ یہ معلومات اتوار کے روز ایک بیان میں جاری کی گئیں۔یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے جسد خاکی کو یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن کرنے کی درخواست کو قبول کرلیا ہے۔یہ قبرستان خصوصی طور پر یونیورسٹی کے ملازمین، ان کی شریک حیات اور نابالغ بچوں کے لئے بنایا گیا ہے۔صدیقی نے اس یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی اور ان کے والد اختر صدیقی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین تھے۔ صدیقی نے اپنی تعلیم سال 2005-2007 میں ماس کمیونکیشن سینٹر (MCRC) سے حاصل کی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے لئے کام کرنے کے دوران صدیقی کو 2018 میں پلٹزر انعام سے نوازا گیا تھا اور جمعہ کے روز پاکستان کی سرحد سے متصل افغان قصبے اسپن بولدک میں ان کا قتل کردیا گیا تھا۔ قتل کے وقت وہ افغان اسپیشل فورسز کے ساتھ تھے۔