دانش عامری بھی ہم سے روٹھ گئے۔ حشیم احمد صدیقی

مولانا عامر عثمانی نے اپنے دور میں اردو شاعری اور نقد کی دنیا میں اپنا ایک نام اور مقام پیدا کیا تھا، اور بلاشبہ آپ نے شاعری پر اپنی ایک الگ ہی چھاپ چھوڑی ہے۔آپ کی نثری خدمات بھی ڈھکی چھپی نہیں. آپ کی ناقدانہ قابلیتوں کا ہر کوئی معترف ہے. ایک اعلی خاندان کے فرد ہونے کے ساتھ اپنی ذات میں بھی با کمال، بلکہ بے مثال تھے. سرزمین دیوبند نازاں ہے کہ اس نے آپ جیسے ایک فرزند کو جنما تھا. دیوبند ہی نہیں، ملک بھر کے علمی حلقوں میں آج تک آپ کی شاعری و علمی باقیات کا شہرہ ہے. آپ کی وفات کو دہائیاں گزر گئیں، پھر بھی آپ کا آوازۂ قلم آج تک زندہ و جاوید ہے، آپ کے علم کی صداۓ باز گشت آج تک سنائی دیتی ہے۔انہی مولانا عامر عثمانی کے فرزند دانش عامری تھے، جنہوں نے حال ہی میں وفات پائی اور اپنے والد بزرگوار سے ہم آغوش ہوگئے۔ آپ نے عمر کی چھ دہائیاں بھی مکمل نہیں کی تھیں کہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔آپ کی وفات آپ کے اہل خانہ، آپ کے محبین و مخلصین کے لیے کسی صدمۂ جانکاہ سے کم نہیں۔ گو کہ عرصے سے مہلک پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے، لیکن سانس تھی تو آس بھی تھی، لیکن آخر الامر آپ کا مرض جان لیوا ثابت ہوا، اور آپ نے اپنے سبھی چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے دیا. مولانا عامر عثمانی کا تو انداز ہی سب سے جدا تھا اور علمی قد بے حد اونچا. لیکن دانش عامری بھی انہی کا خون تھے تو کہیں نہ کہیں تو جھلک آنی تھی اور وہ آئی، جی ہاں، دانش عامری بھی شاعری کے میدان کے شناور تھے، اور متعدد عمدہ اردو اشعار کہنے کا سہرا آپ کے سر ہے. اردو زبان کی محبت میں آپ کا کہا ہوا شعر:
وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جہاں سے بھی گزرتا ہے، سلیقہ چھوڑ جاتا ہے
اردو داں حلقے میں بے حد مقبول ہوا. اردو شاعری میں بلا شبہ اس شعر نے دانش عامری کو متعارف کرایا، اور دنیاۓ شاعری میں آپ کے لیے شہرت دوام کا ضامن بن گیا. گرچہ بہتیرے لوگ آج بھی اس شعر کے کہنے والے سے ناواقف ہیں، اور اس شعر کے ساتھ بجاۓ شاعر کے نام کے نامعلوم کا لاحقہ لگاتے ہیں، لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اس شعر کا خالق کوئی اور نہیں بلکہ دانش عامری ہی ہیں. دانش عامری پچپن سے ذہین اور طباع تھے. ذکی الحسی آپ کو ورثے میں ملی تھی. والد بزرگوار کا سایہ اس وقت سر سے اٹھا کہ ابھی آپ پر آگہی کا سورج طلوع نہ ہوا تھا، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود سے لینے میں نابلد و غیر اہل تھے. نتیجتاً مذکورہ ذہانت و فطانت کھیلوں کی نذر ہوئی. اور کھیلوں میں آپ نے وہ وہ نام کماۓ کہ دیوبند کے لوگوں کے آج تک زبان زد ہیں. اور دانش عامری کا ذکر آتے ہی ان کی کرکٹ کی قابلیت ہو یا کہ شطرنج کی ان کے ہم عصروں کے لاشعور کے پردے پر پھر جاتی ہے، اور خواہی نخواہی ان کے کمالات کی داد دیے بنا نہیں رہتے. بہر حال، دانش عامری کی جوانی کا ابتدائی دور ان کے مختلف النوع کھیلوں کی دنیا میں نمایاں اور امتیازی شان رکھنے اور ہر اس فیلڈ میں خود کو منوانے سے عبارت ہے جس میں انہوں نے طبع آزمائی کی تھی. وہ بلاشبہ فطری صلاحیتوں کا پیکر تھے، اور قدرت کی عطا کردہ قابلیتوں کو سلیقے سے برتنا جانتے تھے. یہی وجہ ہوئی کہ جب انہوں نے شاعری کا میدان سنبھالا تو اس میں بھی اپنی ہنرمندی و فراست کا ثبوت دیا، اور دانش عامری کے قلم نے کچھ ایسے فطری اور برجستگی سے لبریز اشعار زبان اردو کو دیے جو صرف انہیں کا حصہ تھے. اگر کہا جاۓ کہ آپ کو "سلیقے” سے محبت تھی تو شاید بے جا نہ ہو، کیونکہ اسے آپ اپنے ہر زندگی کے کام میں برتتے دیکھے گئے۔ آپ کی اردو تحریر غضب کی تھی، بقول شخصے: جب لکھتے تو لگتا تھا موتی ٹانک رہے ہوں۔ اسی طرح گفتگو میں بھی کمال دلکشی کا نمونہ تھے، کسی محفل میں جب گویا ہوتے تو شرکا کان لگا کر سنتے، کیونکہ قدرت نے آپ کو گفتگو کا بھی قرینہ وافر دیا تھا، اور آواز بھی ایسی دل آویز کہ بس سنتے ہی رہیے. آرٹ کی دنیا کے بھی شیدائی رہے، رسالوں اور کتابوں کے عمدہ سر ورق تیار کرنا عرصۂ دراز تک مشغلہ رہا، اور اس میں بھی اپنی ہنرمندیاں خوب دکھائیں. پہلے دیوبند میں اپنے آبائی مکان میں رہتے تھے، لیکن اب کچھ عرصے سے دہلی کو مسکن بنا لیا تھا، اور وہیں مقیم تھے. دہلی رہنے کے آپ کے لیے محرکات جو بھی رہے ہوں، لیکن دیوبند سے آپ کی محبت دیدنی تھی، اور یہاں کی فضائیں ہی آپ کے لیے راحت جاں تھیں. ایک عرصے تک دیوبند سے دوری نے بھی کچھ آپ کے دل کو وطن سے قریب تر کر دیا تھا. جس کی واضح مثال آپ کی زندگی کا آخری زمانہ ہے، کہ جس میں وطن سے دوری آپ کے لیے شدید بے چینی کا باعث تھی، اور ان دنوں جب بھی دیوبند آکر رہتے تو اس دل میں پنہاں وطنی شوق و محبت کا اظہار کسی نہ کسی طرح ہوا ہی کرتا. حتیٰ کہ جب موت کو اپنا آپ سپرد کیا تب بھی دیوبند ہی کے لیے عازم سفر تھے اور سانس کی تکلیف سے بے چین. آپ کا نصیب تھا کہ جب دیوبند لاۓ گئے تو چار کاندھوں پر تھے. کہا جا سکتا ہے کہ قدرت بھی آپ کے وطنی جذبے کی معترف ثابت ہوئی کہ اس نے آپ کو بعد از مرگ خاک وطن اوڑھ کر چین سے سو جانے دیا. کچھ بھی کہیے، آخری زمانہ آپ کا بڑا کربناک تھا، لاغری کا عالم غیر ہو چلا تھا، شدت مرض نے مانو چوس ہی ڈالا ہو، اپنی قوت سے اٹھنے بیٹھنے کے بھی لالے تھے، حتیٰ کہ چین سے لیٹ کر سو بھی نہیں سکتے تھے، بیٹھے بیٹھے ہی کمر لگا کر سونا پڑتا تھا، لیٹنے سے سانس میں بے چینی کی کیفیت آ جاتی تھی. یہ کبھی کے وہی دانش عامری تھے جن کی جوانی کو ایک دنیا رشک کی نظر سے دیکھتی تھی، لیکن آج وہ دانش عامری کوئی دبلا پتلا شخص تھا جسے وہ لوگ شاید پہچان بھی نہ پاتے جنہوں نے انہیں صرف ان کے زمانۂ شباب میں دیکھا تھا. دیکھا گیا کہ اس غیر حالت میں بھی آپ بیٹھے بیٹھے شاعری سے شغل کیا کرتے اور شاعری یا کسی بھی ادبی یا علمی موضوع پر جب اپنے مخصوص انداز میں بولتے تو دیر تک بے تکان بولتے چلے جاتے، اور کچھ دیر کو یہ تصور ہی ذہن سے چلا جاتا کہ آپ کسی مرض کے بھی شکار ہیں. خیر، دانش عامری اپنی شاعری و آرٹ کے حوالے سے ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہیں گے، گرچہ اب ان کا وجود اپنے اس طبعی انجام سے دوچار ہو چکا ہے جس کا ہر ایک جاندار خواہی نخواہی منتظر ہے. اللہ ان کو وہاں کی راحتیں دے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔