دامودر ساورکر اور’ لو ک ناتھ مولوی احمد اللہ شاہ‘-ارشد مسعود ہاشمی

صدر شعبۂ اردو،جے پرکاش یونیورسٹی، چھپرہ

ہند اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے ذریعہ مجاہد آزادی مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کے نام کو زندہ کرنا اس لیے ایک مستحسن قدم ہے کہ نسل نو کی اکثریت اس بے مثل شخصیت کے کارناموں سے آگاہ نہیں ہے۔اس مضمون میں مولوی احمد اللہ شاہ کے متعلق برادران ملک کے ایک طبقے میں معروف ونایک دامودر ساورکر کے خیالات کو پیش کیا جا رہا ہے جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں، ساورکر جیسے شخص کی نگاہوں میں بھی ان کی شخصیت کتنی عظیم تھی۔
ہندو مہا سبھا کی تشکیل سے قبل لندن میں زیر تعلیم ونایک دامودر ساورکر نے لندن کی انڈیا آفس لائبریری اور برٹش میوزیم لائبریری میں موجود دستاویزات کی مدد سے 1908 میں مراٹھی زبان میں اپنی کتاب ’1857 کا سوتنترا سمر‘ لکھی تھی۔ اس کتاب کی تین واضح خصوصیات ہیں: 1908 سے 1946 تک اس کی خفیہ اشاعتیں ہوتی رہیں اور اسے مشمولہ اردو، ہندی، انگریزی اور فرانسیسی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ اپریل 1946 تک اس کی اشاعت اور تقسیم پر ہندوستان میں پابندی عائد تھی۔ اس کا دوسرا وصف یہ ہے کہ 1857 کے انقلاب سے متعلق اہل ہند کے دیگر روزنامچوں، یاد داشتوںاور تاریخوں کے بر عکس اس کی تصنیف کا واضح مقصد ہندوستانی غازیوں، مجاہدوں اور شہیدان وطن کے کارناموں، اور برطانوی سامراج کی وحشت وبربریت کا ذکر کرتے ہوئے عوام الناس کے ذہن میں غیر ملکی اقتدار سے شدید نفرت پیدا کرنا تھا۔ اس کتاب کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے سرفروشانہ جذبوں ، ان کی حب الوطنی، ان کے اشتراک و اتحاد عمل کا برملا اعتراف کیا گیا ہے اور یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ محمود غزنوی کے حملوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے متحد ہو کر اس غیر ملکی اقتدار کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی اور اس نے قومی انقلاب کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ہندو مسلمانوں کی قیادت تسلیم کر رہے تھے اور مسلمان ہندوؤں کی رہنمائی پر لبیک کہہ رہے تھے۔ ’دین دین‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کا ملک شگاف نعرہ لگا کر دشمنوں کو تہہ تیغ کرنے والے اپنے تمام تر آپسی اختلافات فراموش کر چکے تھے۔
1857 کے انقلاب نے غیر متحد ہندوستان کو دفعتاً متحد کر دیا تھا۔ اس انقلاب کی پسپائی کے بعد انگریزوں نے اپنی ساری حکمت عملی اس اتحاد کو ختم کرنے میںصرف کر دی۔ یہاں تک کہ ہندو مسلم اختلاف کو تند کرنے کے لیے جھوٹے الزامات اور دروغ گوئیوں سے بھری ہوئی کتاب ’تاریخ ہند‘ شائع کر دی گئی۔ ساورکر کو، کم از کم اپنی اس تصنیف کے دوران، یہ احساس تھا کہ انقلاب ستاون کے اصل ہیرو مسلمان تھے جنھوں نے نہ صرف اپنے بلکہ ہندوؤں کے مذہب کے دفاع کے لیے بھی جہاد کے نعرے بلند کیے۔ اس جنگ آزادی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ’ کارتوسوں کا خوف ہی انقلاب کی اصل وجہ ہے، یہ بات صداقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی دور یہ بیان کہ انقلاب کا سبب اودھ کا چھن جانا تھا‘۔ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو ہتھیلی پر سر لیے کھڑے تھے، جو مادروطن کو اپنے خون کا نذرانہ دینے کے لیے بیتاب تھے، جن کا اودھ کے معاملوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ’پنجاب سے بنگال تک صرف بادشاہ کا لشکر ہی نہیں، صرف ایسی پلٹنیں ہی نہیں بلکہ ہر اصل ہندوستانی اپنی شمشیر تانے کیوں کھڑا تھا‘؟یہ سوال قائم کرنے کے بعد ساورکر نے انڈیا آفس لائبریری میں موجود ایک ہندو مصنف کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان میں ’بے شمار لوگ ایسے ہیں جنھوں نے اودھ کے نواب کو نہ تو کبھی دیکھا ہے اور نہ اسے دیکھنے کی ان میں امید ہے، وہ بھی اپنی جھونپڑیوں میں نواب کے مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے زار زار روتے ہیں۔ انگریز نہیں جانتے کہ ان آنسوؤں سے ہر روز کتنے انقلابی جنم لے رہے ہیں جو واجد علی شاہ کی بے حرمتی کا بدلہ لینے کے لیے عہد کر چکے ہیں‘۔ اسی مضمون سے ساورکر نے ایک اقتباس نقل کیا ہے جو خود اس زمانہ کے اس کے ذہنی رویہ کا پتہ بھی دیتا ہے۔ اس نے مغل حکمرانوں کا دفاع کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ لٹیرے نہیں تھے اور نہ ہی برطانوی اقتدار کی مانند سخت گیر اور متشدد تھے۔انھوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنایا تھا جبکہ انگریزوں کا مقصد حکمرانی صرف ہندوستان کو لوٹنا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’مغل بادشاہ تھے لیکن انھوں نے ہندوستان کو غلام نہیں بنایا تھا۔ وہ اس ملک کا حصہ بن گئے تھے۔ اس لیے اس بادشاہت سے وابستہ ہر ایک فرد کسی بھی ہندوستانی کی مانند انگریزوں کی حکومت کو ہندوستان کے سوراج پر حملہ تصور کرتا تھا‘۔ ساورکر مزید لکھتا ہے کہ بہادرشاہ ظفر کے جہاد ناموں اور اودھ کے جنگ کے اعلان ناموں کا یہی پس منظر بھی تھا۔ بقول پروفیسر خلیق احمد نظامی، بہادر شاہ ظفر ڈوبتا ہوا سورج سہی، ایک ایسی صبح کی شام بھی تھا جس میں ہندوستان نے اپنے سیاسی وقار اور تمدنی عظمت کے نادر جلوے دیکھے تھے۔
ساورکر نے ان جہاد ناموں اور جنگی اعلان ناموں کا مفصل تذکرہ کیا ہے اور بہادر شاہ کی حب الوطنی، ہندوستان کے تئیں اس کی ہمدردی، اور ہندوستانیوں سے اس کی محبت کو ساورکر نے بارہا تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’وہ نحیف و نزار بادشاہ بھی اپنے ملک کو غیر ملکی اقتدار سے آزاد کرانے کے لیے ان ہزاروں سپاہیوں کی مانند ہی بے قرار تھا، اور اس کا یہ اضطراب اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ اس نے جے پور، الور، جودھ پور، بیکانیر وغیرہ کے ہندو راجاؤں کو یہ پیغام بھیجا کہ مادر وطن کی آزادی کے لیے ان فرنگیوں کو سرحدوں کے پار بھگانے میں اگر وہ سب راجا متحد ہو کر جنگ میں شامل ہو جائیں تو ہندوستان کے رجواڑوں کے ذریعہ منتخب کیے ہوئے کسی بھی راجا کے حق میں وہ اپنی سلطنت سے دستبردار ہو جائیں گے‘۔ ’دین اسلام کے داعی دلی کے بادشاہ‘ کے ذریعہ ہندو راجاؤں کو روانہ کیے اس بے نظیرپیغام کو ساورکر نے سوراج، حب وطن، بین مذہبی ملت اور قومی اتحاد کا نقطۂ عروج تصور کیا ہے۔
عبداللطیف نے اپنے روزنامچہ میں گیارہ مئی کے حالات قلمبند کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جب بغاوت شعار گروہ نے بادشاہ کے لشکر کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بادشاہ کو چاروں طرف سے حلقہ کر بارگاہ کی جمیعت کو پریشان کیا اور بیہودہ گوئی اختیار کی تو بادشاہ نے فرمایا کہ ’مجھ گوشہ نشیں کے ساتھ یہ سب بے بنیاد باتیں آخر کیوں کی جارہی ہیں اور بلاوجہ یہ شورش کیوں برپا ہے؟ ہمارا آفتاب زندگی تو لب بام آچکا ہے۔ یہ ہمارا آخری وقت ہے۔ اب تو مجھ بوڑھے کو ایک خلوت گاہ ہی کافی ہے‘۔ جبکہ ساورکر لکھتا ہے کہ میرٹھ سے دلی پہنچنے کے بعد ان انقلابیوں نے محل میں آکر اکیس توپوں کی سلامی دی اور اس کے غیض و غضب سے اس بوڑھے بادشاہ کا شاہی تیور جاگ اٹھا۔ سپہ سالار نے فرنگیوں کے خون سے سنی تلوار’اس باوقار اور قابل صد احترام مجسمے‘ کو دکھائی اور کہا کہ میرٹھ میں انگریزوں کو شکست مل چکی ہے، دلی اپنے ہاتھ میں ہے، اور پیشاور سے کلکتے تک سارے سپاہی آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔ انگریزوں کی غلامی کی بیڑیاں توڑ کر اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے سارا ہندوستان جاگ اٹھا ہے۔’ ایسے وقت میں یہ آزادی کی علامت اپنے ہاتھ میں لیں تا کہ ہندوستان کے تمام جیالے اس کے وقار کے حصول کے لیے مرنے کو تیار ہو جائیں‘۔بالفاظ ساورکر، ان سپاہیوں کے ہندو اور مسلمان رہنماؤں نے جب بیک زبان یہ باتیں کہیں تو بادشاہ نے ذرا بھی تامل نہ کیا۔ بادشاہ نے کہا، ’میرے پاس خزانہ نہیں ہے اور تمھیں تنخواہ بھی نہیں ملے گی‘۔ تب وہ سپاہی بولے ہم انگریزوں کا خزانہ لوٹیں گے اور آپ کے خزانے بھریں گے۔ بادشاہ نے کہا، ’تو پھر آپ کی قیادت تسلیم کرتا ہوں‘۔ ساورکر نے اسے گیارہ مئی کا واقعہ بتایا ہے۔
مولانا امداد صابری نے گیارہ مئی کے حوالے سے ’قیصرالتواریخ‘ میں جو معاملات رقم کیے ہیں ان سے بھی ساورکر کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔ ’یوں تو گیارہ مئی کو دن کے تین بجے سہ پہر کے قریب بادشاہ کی حکومت کا شہر دہلی میں بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔اس کو ضابطہ میں لانے کے لیے رات کو مجاہدین نے بادشاہ سے عرض کیا کہ قوت ایمانی و دینی کی وجہ سے سب ہندوستانی فوج انگریزوں سے منحرف ہو گئی ہے۔ اب ہم سب جاں نثاروں کی آپ سے درخواست ہے کہ حضور کی اطاعت کر کے استیصال نصاریٰ کریں۔ بادشاہ نے فرمایا ، تمھیں اختیار ہے۔ میں بھی شریک حال ہوں۔ ساورکر نے بہادرشاہ ظفر کو اس جنگ آزادی کی موثر اور مرکزی قوت تسلیم کیا ہے۔
ساورکر نے الہ آباد کے ان ہزاروں مسلمانوں کی حب الوطنی کا بھی اعتراف کیا ہے جو ’دین اور دیش کی حفاظت کے لیے میدان جنگ کو اپنے پرجوش خون سے سینچنے کے لیے بے قرار تھے‘۔ ان کی اس بے قراری میں، بقول ساورکر، انگریزوں کے لیے کچھ نیا نہیں تھا۔ انھیں یقین تھا کہ سارا ہندوستانی مسلمان ان کا دشمن ہی رہے گا۔ الہ آباد میں مسلمانوں کے قدم ہندوؤں سے بھی آگے بڑھ رہے تھے اور یہی نہیں، زیادہ تر جگہوں پر وہی انقلاب کی قیادت بھی کر رہے تھے۔ ’ستاون میں پورے ہندوستان میں جتنے انگریز مرد، عورت اور بچے قتل نہیں ہوئے، اتنے نیل نے تنہا صرف الہ آباد میں کیے تھے۔ ایسے سیکڑوں نیل ہزاروں گاؤں میں مقامی لوگوں کو سر عام قتل کر رہے تھے۔ انگریزوں کے ایک ایک آدمی کے لیے ہندوستانیوں کا یک ایک گاؤں زندہ جلایا جارہا تھا۔
ساورکر نے جہاں ہندوستانی غازیوں اور مجاہدوں کے کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہیں انگریزوں کی سفاکیوں، بہیمت، ان کی کمینگی، دروغ گوئی اور کورٹ مارشل کے نام پر ان کی بہتان تراشیوں کی تصویریں بھی پیش کی ہیں۔ ایسے مقامات پر اس کا اسلوب اشتعال انگیز اور جارحانہ ہو جاتا ہے۔ ایسا بظاہر اس لیے ہے کہ اس کا مقصد حب وطن اور مذہب کے دفاع کے نام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد کرنا تھا۔ ہندوؤں کے منہ میں گائے کا گوشت ٹھونس کر انھیں پھانسی دینا ہو یا گولیوں سے چھلنی کرنا، یا درختوں سے الٹا لٹکا دینا، اس کے لیے اتنا ہی کریہہ اور نفرت انگیز ہے جتنا کہ زندہ مسلمانوں کو سور کی کھال میں سی کر آگ میں جھونک دینا۔
بہادر شاہ ظفر، واجد علی شاہ، بیگم حضرت محل، خان بہادر خاں، نظام علی خاں، عظیم اللہ خاں، مولانا لیاقت علی، مولوی احمداللہ شاہ یا مہر علی، وارث علی، علی کریم اور دیگر مسلم قائدوں اور مجاہدوں کے متعلق اس کے تبصروں سے علم ہوتا ہے کہ وہ ان کی بھی اتنی ہی قدر کرتا تھا جتنی تانتیا ٹوپے، کنور سنگھ یا لکشمی بائی کی۔ اس نے سالارجنگ کی انگریز دوستی پر انگشت نمائی کی کی تو سکھوں کی بے غیرتی پر انھیں بھی ملعون کیا اور پوین کے راجا کے خلاف بھی نفرتوں کا اظہار کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے ہزاروں ہندستانیوں کی قربانی لینے والا وہ انقلاب کامیاب نہیں ہو سکا۔
پیر علی کے تذکرہ کے دوران ساورکر نے برطانوی تاریخ نویس کی یہ عبارت دہرائی ہے کہ کوئی بھی حق پسند بہ خوبی جان سکتا ہے کہ انگریزوں کے ذریعہ کیے جانے والے گھناؤنے کام جو زیادہ سے زیادہ ایک سازش کہلائے، انھیں ہی اگر کوئی مسلمان انگریزوں کے خلاف کرتا تو اسے کوئی اور نام دے دیا جاتا۔ پیر علی کے انقلابی تیوروں اور اس کی جانبازیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس نے سکھوں کی ملامت کی ہے۔ اس کے الفاظ دیکھیے: ’تین جولائی کو پٹنہ شہرکے پیر علی نامی شخص کے گھر کی طرف مسلمان جانے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس گھر سے یکے بعد دیگرے سبز پرچم لیے مجاہدین باہر نکلنے لگے اور دین دین کا نعرہ گونجنے لگا۔ کوئی دو سو مجاہدین نے ان سبز پرچموں کے ساتھ ایک گرجا گھر پر حملہ کر دیا۔ ’اسی اثنا ایک گورا، لائل،کچھ سکھوں کے سامنے آیا جسے پیر علی نے گولی سے مار گرایا اور پھر اس گورے خون کی پہلی بلی گرتے ہی بقیہ مسلمانوں نے اس پر اتنے وار کیے کہ اس کا چہرہ مسخ ہو گیا۔ لیکن جب رینیر نے اپنے سکھ سپاہیوں کے ساتھ چڑھائی کی ، جب ان سامراج کے غلام سکھوں نے وطن پرست مجاہدوں پر زوردار حملہ کیا اور اپنے ہندوستان کے پیٹ میں سکھوں نے جب اپنی تلواریں گھسیڑیں اور جب سکھوں کے جسم بھارت ماتا کے خون سے رنگین ہونے لگے تب اس حملے کے ساتھ ان مٹھی بھر مجاہدوں کی بھیڑ بکھر کر ادھر ادھر ہو گئی‘۔ انگریزوں نے انقلابیوں کے رہنماؤں کو فوراً قید کر لیا۔ ان میں لائل کو مارنے والا پیر علی بھی تھا۔
ساورکر کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق پیر علی لکھنؤ کا رہنے والا تھا اور کچھ دنوں سے پٹنہ میں کتب فروشی اور جلد بندی کا کام کر رہا تھا۔ فروخت کی جانے والی کتابیں پڑھتے پڑھتے اسے ملک کی آزادی کی چاہ ہو گئی۔ دلی اور لکھنؤ کی انقلابی جماعتوں سے تعلقات بنا کر وہ انگریزی سامراج کے سلسلے میں اپنے دل میں چھپے ذلت و رسوائی کے کانٹے دوسروں کے دلوں میں چبھونے لگا۔پٹنہ کی انقلابی جماعتوں میں اس کے رسوخ اتنے بڑھے کہ ان جماعتوں میں شامل ہونے والوں کو وہی انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کے لیے حلف دلاتا۔ اسے پھانسی کی سزا ہو گئی۔ ساورکر نے ٹیلر کا بیان رقم کیا ہے کہ پیر علی جوانمرد اور پختہ ارادوں والا شخص تھا۔ گرچہ اس کی شکل بے ڈھنگی تھی اور اس کے چہرے سے ہی سفاکی اور سختی جھلکتی تھی، اس کے باوجود وہ پھانسی کے دوران بہت خاموش اور پر سکون تھا۔ بول چال اور برتاؤ میں وہ مہذب تھا۔ ’اس قسم کے لوگ اپنے غیر متزلزل ارادوں کی وجہ سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں لیکن ان کی خودداری انھیں قابل تعریف بھی بنا دیتی ہے۔پیر علی کو پھانسی دیے جانے والا منظر پیش کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ اس کے ہاتھوں میں وزنی ہتھکڑیاں ہیں، جسم کے سارے کپڑے زخموں کے خون سے سنے ہیں اور وہ اتنا پر سکون ہے کہ موت بھی تھرا رہی ہے۔ انگریز افسر نے اس سے کہا کہ اگر وہ دوسرے انقلابیوں کا نام بتا دے تو اس کی سزا ٹل سکتی ہے۔ انگریز کو گھورتے ہوئے وہ کہتا ہے، ’زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب اپنی حفاظت کرنی ہی اہم ہوتی ہے لیکن کچھ ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ جب جان دے دینا ہی زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ تم مجھے پھانسی دو گے، میرے جیسے دوسرے لوگوں کو بھی پھانسی دو گے لیکن تم ہمارے مقصد کو پھانسی پہ نہیں چڑھا سکتے۔ میں مرا تو میرے خون سے ہزاروں نئے انقلابی پیدا ہوں گے اور تمھارے سامراج کو خاک میں ملا دیں گے‘۔ ساورکر کہتا ہے کہ اس شہید کے آخری الفاظ رائگاں نہیں گئے کیونکہ اس کی شہادت کی خبر سنتے ہی انگریزوں کی وفادار سمجھی جانے والی دانا پور کی نیٹو فوج نے پچیس جون کو انگریزوں کے خلاف مورچہ سنبھال لیا تھا۔
ساورکر نے اپنی کتاب میں مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کا ذکر کئی مقامات پہ کیا ہے۔مولوی احمد شاہ کے عنوان سے کتاب میں ایک علاحدہ باب بھی لکھا گیا ہے۔پروفسیر خلیق احمد نظامی نے لکھا ہے کہ جہاں تک انفرادی ا ور شخصی صلاحیتوں کا تعلق تھا، ہندوستان میں شجاعت اور تہور کی کوئی کمی نہ تھی۔ رانی لکشمی بائی، بخت خان، حضرت محل، تانتیا ٹوپے،خان بہادر، احمد اللہ شاہ، کنور سنگھ وغیرہ برطانوی نمائندوں کیننگ، لارنس، روز، نکلسن وغیرہ سے کسی حیثیت سے کم نہ تھے۔ مولوی احمد اللہ شاہ ان علما اور مشائخ، مثلاً حاجی امداد اللہ، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولونا فیض احمد بدایونی، مولانا لیاقت علی، مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا عبدالقادر وغیرہم کی صف میں شامل تھے جو اپنے سرفروشانہ جذبات میں بے مثل تھے۔ یہ وہی احمد اللہ شاہ ہیں جن کی تقریروں میں ہزاروں آدمی، ہندو اور مسلمان جمع ہو جاتے تھے، دس دس ہزار کا مجمع ہوا کرتا تھا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے لکھا ہے کہ ستاون کی جنگ آزادی کی قیادت اور رہنمائی کرنے والوں میں مولانا احمد اللہ شاہ فیض آبادی کی شخصیت بڑی ممتاز تھی۔وہ شمالی ہند میں انگریزوں کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ہالے سن نے ان کے سلسلے میں کہا تھا کہ مولوی ایک بڑا ہی حیرت انگیز انسان تھا۔ غدر کے دنوں میں سپہ سالار کی حیثیت سے اس کی قابلیت کے کئی ثبوت ملے۔ کوئی بھی دوسرا آدمی فخر کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں نے دو بار سر کولن کیمپ بِل کو میدان میں شکست دی۔ احمد اللہ شاہ سچا محب وطن تھا۔ اس نے کسی نہتے کا خون بہا کر اپنی تلوار کو ناپاک نہیں کیا۔ بہادری کے ساتھ ڈٹ کر کھلے میدان میں ان بدیسیوں کے ساتھ جنگ کی جنھوں نے اس کے وچن کو چھین لیا تھا۔ ہر ملک کے بہادر اور سچے لوگوں کو چاہیے کہ مولوی احمد اللہ شاہ کو عزت کے ساتھ یاد رکھیں۔ ساورکر نے ان کی شجاعت، عسکری صلاحیتوں اور سپہ سالار کی حیثیت سے ان کی قیادت کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وہی احمد شاہ ہیں جن کے متعلق لکھنؤ میں حضرت محل کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ اگر ان کی مدد سے اقتدار قائم ہو ا تو سنیوں کا کا غلبہ ہو جائے گا۔ لیکن احمد شاہ نے انھیں کبھی تنہا اور بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ مولانا احمد اللہ شاہ انقلابی جماعتوں اور انگریزوں کے درمیان مولوی کے نام سے معروف تھے۔
بقول ساورکر، اس سیاسی جہاد کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی خاطر بڑے بڑے مولوی قیادت کر رہے تھے۔ وہ گاؤں اور شہروں میں خفیہ جلسوں میں اور بسا اوقات جلسۂ عام میں عوام کو اس مقدس جنگ میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کر رہے تھے۔ لکھنؤ کی مسجدوں میں مولوی جہاد کے لیے کھلے عام تقریر کیا کرتے تھے۔ پٹنہ اور حیدر آباد میں رات میں اجتماع ہوتا اور مختلف علما و مشائخ ہر طبقہ کے لوگوں کو ملک اور مذہب کے تحفظ کے نام پر جنگ میں شامل ہونے کی تلقین کرتے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے مبارک اور مقدس ناموں سے اپنے ملک میں ہندوستان کی تاریخ کے اوراق سنور گئے۔ ان میں ہی وطن دوست مولوی احمد شاہ بھی ہیں جنھیں ہندوؤں اور مسلمانوں کو فرنگیوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی۔ انہیں ساورکر نے ایسے جانباز وطن پرست کی شکل میں دیکھا ہے جس کے اندر عسکری تنظیم و قیادت کی مکمل صلاحیتیں تھیں، جس کی زبان سے نکلے لفظ سے تلواریں میانوں سے باہر آ جاتی تھیں، جس نے مادر وطن کو ناپاک غیر ملکی اقتدار سے آزاد کرنے کے لیے کئی قصبوں اور شہروں میں مجاہدین کی فوجیں تیار کر دیں۔
مولوی احمد اللہ شاہ فیض آباد کے تعلقدار تھے۔ ساورکر کی نگاہوں میں ان کا نام ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ و پائندہ رہے گا کیونکہ ’یہ وہ نام ہے جو دیش بھکتوں اور دیش ویروں کی مالا میں گھر گھر میں نتھا جانے والانگینہ ہے۔ اس نام نے اپنے ضلع کی تعلقداری ہی نہیں، اپنے دیش کی حفاظت کرنے کا کنگن بھی اپنے ہاتھ میں باندھا تھا۔ اس نام نے دیش کے دروازوں پر پہرہ دینے کے لیے رت جگا کیا تھا ، اور اس دروازے سے دیش میں سیندھ مارنے والی غیر ملکی حکومت کو روکنے کے لیے اس نے ہاتھ میں تلوار تھام لی تھی‘۔انگریزوں کے اودھ پر قابض ہونے کے بعد مولوی احمد اللہ شاہ نے اپنی زندگی کے شب و روز ملک کی آزادی کے حصول کے لیے وقف کر دیے اور ملک بھر میں گھوم گھوم کر ہندوؤں اور مسلمانوں کو انقلاب کے لیے بیدار کرتے رہے۔ اس ’سیاسی سنیاسی‘ کے پاکیزہ قدم جس خطۂ ارض پر پڑتے وہ عزم و حوصلہ اور جوش عمل کی زندہ تصویر بن جاتا۔ انقلاب کے مختلف قائدین سے اس نے اپنا ربط بھی بحال رکھا۔ اس نے آگرہ میں خفیہ جماعتوں کی تشکیل کی تو انگریزی اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے لکھنؤ میں سر عام تقریریں بھی کیں۔ جسم و جاں اور قول و فعل سے اپنے ملک کی آازادی کا پیغام لے کر وہ مسلسل لوگوں کو جگانے میں مصروف رہا اور خفیہ جماعتوں کا جال بننے کے بعد اس نے قلم بھی اٹھایا اور انقلابی مضامین لکھ کر پورے اودھ کو شعلہ بنا دیا۔ اودھ میں موجود انگریزی سپاہ اس ’لوک ناتھ‘ کو زیر نہ کر سکی تو فوج منگا کر اسے قید کیا گیا اور بغاوت کا الزام لگا کر پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ ساورکر نے لکھا ہے کہ فیض آباد کی جیل میں اسے قید کرتے ہی اس کی اور انگریزی حکومت کی ایک دوسرے کو پھانسی دینے کی قواعد تیز ہو گئی کیونکہ مولوی کو وہاں قید کر کے انگریزوں نے اپنے لیے ہی پھانسی کے ستون کھڑے کر لیے تھے۔ صوبہ دار دلیپ سنگھ کی قیادت میں انقلابیوں نے جیل توڑ کر مولوی کو رہا کر لیا اور پھر دس دنوں کے اندر یہ محسوس ہوا کہ اودھ میں فرنگیوں نے کبھی قدم ہی نہیں رکھے۔
کتاب کے دوسرے باب میں محمد حسین، راجا ارادت خان، اشرف بخش خان، ٹوپے وغیرہ کی سرگرمیوں کے ذکر کے بعد ساورکر پھر مولوی احمد اللہ شاہ کو اپنا موضوع بناتے ہوئے کہتا ہے کہ، ’لیکن ان سب میں افضل اور اہم ترین وہ فیض آباد کا جاں نثار مرد آہن احمد شاہ مولوی کہاں ہے! انقلاب اور جنگ کی مشعل ہاتھ میں لیے جب وہ ہندوستان میں آگ لگائے جا رہا تھا تب لکھنؤ کے انگریز افسروں نے اسے پکڑ کر پھانسی کی سزا دء دی تھی۔ لیکن ستاون کی آندھی اسے فیض آباد کے جیل خانے سے اٹھا کر سوراج کے تخت کی سیڑھیوں پر لے آئی۔ وہ سرفروش، مادر وطن کا وہ جیالا سپوت احمد اپنے ملک کی آزادی اور اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے میدان جنگ کا حصہ بن گیا تھا‘۔
مولوی احمد اللہ شاہ کی زبان کے سحر کے ساتھ ہی ان کی شعلہ بیانی اور ان کے عسکری جوہر و تدبر، ان کے عزم اور استقامت کا تذکرہ ساورکر نے بار بار کیا ہے، اور انھیں کئی ہندوؤں سے بھی بہتر تصور کیا ہے۔عالم باغ میں موجود انگریزی سپاہ پر ہندوستانیوں نے جب بھی حملہ کیا ایسے ہر موقع پر مولانا کی روحانی شخصیت سب سے آگے جھلکتی تھی۔ پندرہ جنوری 1858 جو مولانا کی قیادت میں ہونے والی جنگ کے ذکر کے دوران ساورکر کہتا ہے کہ جس طرح مولوی سیاست میں چمکتا تھا اسی طرح میدان جنگ میں بھی بے مثل تھا۔ اس جنگ کے دوران اس کے ہاتھ میں گولی لگی تھی اور جب وہ زخمی ہو کر گرا تو اسے قابو میں کرنے کے لیے انگریزوں میں ہوڑ مچ گئی تھی۔ لیکن انقلابی اسے ڈولی میں چھپا کر لکھنؤ لے آئے۔ بقول ساورکر، ’بارہا جان ہتھیلی پر لے کر میدان جنگ میں کود پڑنے والا کوئی اور نہیں مولوی احمد اللہ شاہ ہی تھا‘۔ زخم ابھی مندمل بھی نہ ہوا تھا کہ اسی برس پانچ فروری کو اس نے فرنگیوں کے خلاف پھر اعلان جنگ کر دیا۔اس جنگ کے متعلق انگریز مورخ کے حوالے سے ساورکر کہتا ہے کہ،’ گرچہ انقلابیوں میں بڑی تعداد ہمت ہار جانے والوں کی تھی پھر بھی ان کا سپہ سالار اپنی وفاداری، جاں نثاری، خلوص اور بہادری کی وجہ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا، اور اس کی قیادت قابل تعریف تھی۔ یہ کوئی اور نہیں فیض آباد کا مولوی تھا‘۔پانچ مارچ کو انگریزوں نے شمال مشرق کی جانب سے لکھنؤ کا محاصرہ شروع کر دیا۔ دس مارچ تک لکھنؤ اپنے دشمنوں سے مقابلہ کرتا رہا اس کے باجود انگریزی فوج چودہ مارچ کو لکھنؤ کے محل میں داخل ہو گئی اور بیگم مدافعت کرتی ہوئیں اپنے وفاداروں کے ساتھ محل سے ہی نہیں، لکھنؤ سے بھی باہر نکل آئیں۔ بیگم کی اس حالت اور لکھنؤ کی شکست نے مولوی کو مضطرب کر دیا۔ وہ اپنے مٹھی بھر مجاہدین کے ساتھ لکھنؤ کے گوشے گوشے میں موجود انگریزوں کی ا س عظیم فوج سے مقابلہ کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ شہادت گنج میں ایک بند کوٹھی میں دو توپیں لے کر وہ انگریزوں کا مقابلہ کرتا ہوا وہیں ڈٹا رہا۔ نیو گارڈ نے اکیس مارچ کو بیگم کی کوٹھی پر قبضہ جما لیا تھا۔ اسی فوجی دستہ نے مولوی سے بھی مقابلہ کیا لیکن پسپا ئی ملی۔فوجی دستہ کے کئی سپاہی مارے گئے یہاں تک کہ مولوی وہاں سے باہر نکل آئے۔
لکھنؤ کی شکست نے مولوی کو زخم خوردہ بنا دیا تھا۔ اودھ کے انقلابی رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ فرنگیوں کی فوج سے بالمقابل جنگ نہ کی جائے کیونکہ ان کی طاقتیں زیادہ ہیں۔ ان پہ شب خون مارنے کا فیصلہ لیا گیا۔ تب بیگم حضرت محل چھ ہزار لوگوں کے ساتھ مورچہ سنبھالے ہوئی تھیں اور مولانا لکھنؤ میں اپنی مٹھی بھر فوج کے ساتھ موجود تھے۔انھوں نے وہاں سے چار میل کی مسافت پہ ایک گاؤں اپنے حصار میں لے لیا اور انگریزی فوج پہ شب خون مارنے کی منصوبہ بندی بھی کی جو بعض مجاہدین کی عجلت کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔اس ناکامی کے بعد مولانا شاہجہاں پور میں پناہ گزیں ہوئے جہاں نانا صاحب بھی موجود تھے۔ مولانا کو زیر کرنے کے لیے سر کولن کیمپ بل نے اپنی فوج کے ساتھ شاہجہاں پور کا محاصرہ شروع کیا تو دونوں وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ان کا رخ اب بریلی کی جانب تھا جہاں خان بہادر خان نے ابھی تک انگریزوں کو اپنی ریاست پر نہیں قابض ہونے دیا تھا۔ کیمپ بل کی نظر اس ریاست پر تھی ہی، مولانا کی وہاں موجود گی خبر ملتے ہی اس نے فوج کے ایک دستہ کو شاہجہاں پور کی نگرانی کے لیے تعینات کر کے بریلی پر حملہ کر دیا۔ جب خان بہادر اس کے مقابلے کے لیے نکل آئے تو مولانا نے ایک دوسرا منصوبہ بنا یا اور شاہجہاں پور کا قصد کیا۔وہ وہاں موجود انگریزی فوج کو اپنے نرغے میں لینے کی فکر میں تھے اور وہاں پہنچتے ہی انھوں نے قلعہ ہی نہیں، سارا شہر اپنے قبضے میں لے لیا اور آٹھ توپوں سے اس جیل پر گولا باری شروع کر دی جہاں ساری انگریزی فوج خوف سے چھپی بیٹھی تھی۔یہ خبر ملتے ہی کیپمپ بل پھر شاہجہاں پور کی طرف کوچ کرنے لگا۔ گیارہ سے چودہ مئی تک مولانا کے غازیوں اور انگریزی لشکر کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔ اسی درمیان مجاہدین کے قافلے مولانا کی مدد کے لیے پہنچنے لگے تھے۔ ان میں اودھ کی بیگم بھی تھیں، مرزا فیروز شاہ بخت، نانا صاحب بھی۔ کیمپ بل کو پسپائی ملی اور مولانا لڑتے لڑتے شاہجہاں پور سے باہر نکل آئے۔ یہ ان کی آخری جنگ تھی۔ اس واقعہ کے بیان کے بعد ساورکر جذباتی انداز میں لکھتا ہے کہ ’اپنے ملک کے دشمن سے، اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اپنے ملک کے باشندوں کی جانب سے یہ دیش بھکت مولوی آمادۂ جنگ تھا تب اسے ختم کرنے کا مشکل کام کون کر سکتا تھا! جس نے کولن کی تلوار کو نڈھال کر دیا اسے اب کس کی تلوار مار سکتی تھی! انگریز حوصلہ رکھیں کیونکہ سر کولن کی تلوار کو بے آب کرنے والے اس مولوی کا جسم، یہ ہندوستانی فولاد، بالآخر ایک ہندوستانی ننگ ملک، ننگ مذہب نے پھاڑ پھوڑ کر جلا ڈالا‘۔ اودھ اور روہیل کھنڈ کے درمیان پوین کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ مولانا نے یہ تدبیر اختیار کی کہ اگر اسے بھی اپنا حامی بنا لیا جائے تو انگریزوں کے خلاف جہاد میں انھیں سہولت ہوگی۔ ’ہاتھ بھر کی ریاست کا یہ راجا جسم سے سانڈ تو تھا ہی، عقل کا مارا ہوا بھی تھا۔ عیاشی اور بے حسی نے اسے مادر وطن کا دشمن بنا دیا تھا۔ مولانا نے دو چار ساتھیوں کے ساتھ فصیل شہر کے پاس پہنچتے ہی دیکھا کہ شہر کے دورازے بند ہیں اور دیوار شہر پر اسلحہ کے ساتھ لوگ کھڑے ہیں۔ وہ موٹا، بھدا راجا جگن ناتھ سنگھ اپنے بھائی کے ساتھ ان کے درمیان کھڑا ہے۔ اس صورتحال کو مولانا نے گرچہ بخوبی بھانپ لیا پھر بھی میدان جنگ میں کھیلا ہوا وہ جیالا اس منظر سے گھبرایا نہیں۔ اس نے دیوار کے باہر سے ہی اس راجا کو اپدیش دینا شروع کر دیا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے راکھ ہوتے تک تلوار نیچے نہیں رکھوں گا، یہ جس مادر ہند کے سپوت کا عہد تھا، اس کا وہ قوم پرستانہ بیان اس دیوار پر کھڑے الو کو بہت خوفناک لگنا ظاہر تھا۔ جب مولوی نے دیکھا کہ اب اس ڈرپوک کو ڈرائے بغیر وہ کامیاب نہیں ہو سکتا تو اس نے فیل بان کو حکم دیا کہ وہ شہر کا دروازہ توڑنے کے لیے ہاتھی کو آگے بڑھائے۔ جس ہاتھی پر وہ بیٹھا تھااس کا سر اس دروازے سے دھڑا دھڑ ٹکرانے لگا۔ اسی اثنا اس کے بھائی نے بندوق چلائی’ اور اس گولی نے مولوی احمد شاہ۔۔۔ مولوی احمد شاہ کو ایک ہندوستانی حرامزادے نے گولی چلا کر مار ڈالا۔ پھر فوراً دونوں بھائی دوڑے آئے اور انھوں نے مولوی کا سر گردن سے اتار لیا۔ اسے ایک رومال میں باندھا اور تیرہ میل دور شاہجہاں پور دوڑتے گئے۔ انگریز افسر کھانا کھا رہا تھا تبھی وہ راجا وہاں پہنچا۔اس نے اپنے ہاتھ کا رومال کھولا اور خون سے سنا ہوا مولوی کا سر انگریز کے پیروں کے پاس لڑھک گیا۔ دوسرے دن انگریز نے شہر کی کوتوالی پر وہ سر ٹانگ دیا اور اس بہادری کے لیے پوین کے راجا کو بچاس ہزار روپیوں کا انعام بھی دیا‘۔
مولانا کی شہادت کے ساتھ ہی انگریزوں نے کہا کہ شمالی ہندوستان کا ان کا بدترین دشمن ختم ہو گیا۔ ساورکر نے لکھا ہے کہ مولوی احمد شاہ کا قد اونچا، جسم اکہرا، گٹھا ہوا، ہندوستان کے ہاتھ کی کسی آبدار تلوار جیسا تھا۔ اس کی ناک سیدھی، بھنویں کمان جیسی تھیں۔اسے انگریز تو نہیں مار سکے، ہاں برطانویوں کے ایجنٹ، ایک ہندوستانی دغاباز نے اس کی جان لے لی۔