ڈبل انجن سرکارمزدوروں کاکرایہ کیوں نہیں اداکرتی؟:تیجسوی یادو

پٹنہ:بہارکے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادونے مرکزی اور ریاستی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاہے کہ ‘2008میں جب کوسی دریانے شدید تباہی مچا ئی،لاکھوں کی زندگی متاثر کی تھی، تب اس وقت کے وزیر ریل لالو پرساد جی نے مفت میں ٹرین چلائی تھی۔بہارکے صرف 4-5 اضلاع کے لیے صرف 1000 کروڑ کا پیکیج دلایا۔ریلوے سے بہارکے وزیراعلیٰ راحت فنڈمیں 90 کروڑ دلایا۔ خود 1 کروڑ روپے دیے تھے۔ وزیراعلیٰ اس وقت بھی نتیش کمار جی تھے اور اب بھی، لیکن اب مرکزاور بے شرم ریاستی حکومت کا غریب مخالف چہرہ سامنے آگیاہے۔انھوں نے مزیدکہاہے کہدونوں جگہ ڈبل انجن حکومت ہے لیکن کوئی بھی غریب مزدوروں کا کرایہ برداشت کرنے کے لیے تیارنہیں ہے۔ غریب بہاریوں کوواپس لانے میں شروع سے وسائل کی کمی کا رونا رو رہی حکومت اب ایک اور بہانہ تلاش کررہی ہے۔مزدوروں کی قابل رحم صورتحال ہے۔لوگ بھوک کے شکار ہو رہے ہیں۔تیجسوی یادو نے آگے کہاہے کہ حکومت ایک طرف 1000 روپے دینے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اوردوسری طرف ریاستی حکومت کے پاس غریبوں کا کرایہ دینے کاپیسہ نہیں ہے۔بہارحکومت اخلاقیات اور انسانیت کاساراوقار بھول چکی ہے۔بہار حکومت کے محکمہ آفات مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری امرت نے بہار آنے والے مزدوروں سے ٹرین کا کرایہ وصول کیے جانے پرصاف کیاہے کہ ایسا مرکزی حکومت کی ہدایات میں ہے کہ مسافروں کو اپنے کرایہ کا پیسہ دینا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ طالب علموں کے لیے چلنے والی خصوصی ٹرین کا خرچ ریاستی حکومتیں کیوں برداشت کر رہی ہیں اورمزدوروں سے پیسہ کیوں لیا جا رہاہے۔