دبستانِ عظیم آباد کی تاریخ قابل ذکر ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

عظیم آباد کی ادبی خدمات قابل فخر ہیں: فاروق ارگلی
دبستان عظیم آباد کی شناخت کا ضامن یہاں کے ادب کا معیار ہے: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی
شعبہ اردو،سی ایم کالج دربھنگہ کے زیر اہتمام ـ’ دبستان عظیم آباد کی ادبی خدمات‘کے موضوع پر یک روزہ قومی ویبینار
دربھنگہ:دبستان عظیم آباد کی تاریخ قابل ذکر ہے اور یہاں کے شاعروں ادیبوں کی اتنی زیادہ خدمات ہیں کہ ان کے ذکر کے بغیر اردو زبان و ادب کی کوئی بھی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔یہاں کے شاعروں، ادیبوں و ناقدین کو اپنے اپنے میدان میں اولیت حاصل رہی ہے۔یہ باتیں شعبہ اردو سی ایم کالج دربھنگہ کے زیر اہتمام منعقدہ یک روزہ قومی ویبینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور صدر شعبہ اردو پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں علاقائی ادب کی تاریخ مرتب کرنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے دبستان عظیم آباد کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شاید بہار میں ہی سب سے پہلے اردو اکیڈمی کا قیام ہوا تھا۔بہار میں اردو کا بول بالا رہا ہے اور ہمیں اس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانا ہوگا اور ریاستی حکومت سے بھی اس سلسلے میں درخواست کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں اردو کے ساتھ سوتیلا برتائو نہ ہو اور اردو کو اس کا جائز حق دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ آج معیاری ادب کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ ادب کہیں کا ہو۔
ویبینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معروف ادیب و شاعر ومحقق جناب فاروق ارگلی نے کہا کہ دبستان عظیم آبادکو سبھی دبستانوں میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔عظیم آباد کی ادبی خدمات قابل فخر ہیں۔انھوں نے آفتاب آفاقی صاحب کے کلیدی خطبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اتنی مبسوط گفتگو کے بعد کچھ بولنے کو باقی نہیں رہ جاتا۔ اس ویبینار سے دبستان عظیم آباد کی خدمات پر ایک تفصیلی گفتگو کا آغازہوگا۔
ویبینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ دبستان عظیم آباد میں معیار کی بلندی کا خیال ہمیشہ سے رکھا گیا ہے اور دبستان عظیم آباد اسی لیے دیگر دبستانوں میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔پروفیسر آفاقی نے دبستان عظیم آباد کی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ شاد عظیم آبادی، قاضی عبدالودود اور کلیم الدین احمد کی تثلیث اردو تنقید میں ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت رکھتی ہے۔قاضی عبدالودود، امداد امام اثر،سہیل عظیم آبادی اور دبستان عظیم آباد سے تعلق رکھنے والے دیگر شاعروں و ادیبوں کی خدمات کا بھی انھوں نے احاطہ کیا۔
اس سے قبل سی ایم کالج کے پرنسپل اور معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد نے سبھی مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ دبستان عظیم آباد کی خدمات پر آج اس ویبینار کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ ہم یہاں کے ادیبوں شاعروں کی خدمات پر تفصیلی گفتگو کریں اور عظیم آباد کی ادبی خدمات پر پھر سے ایک گفتگو کا آغاز ہو۔ آج ہماری گفتگو چند گنے چنے ناموں تک محدو د رہ جاتی ہے جبکہ اردو زبان و ادب کی خاموشی سے خدمات انجام دینے والوں کا بھی ذکر ہونا چاہئے۔اس ویبینار کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم دوسرے دبستانوں کو آئینہ دکھائیںیا انھیں کم تر دکھائیں۔ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ نئی نسل کے اردو اسکالر اور نئے قاری جب ادب کا مطالعہ کریں تو دبستان عظیم آباد کی بھی ادبی خدمات سے انھیں واقفیت ہو اور وہ اس دبستان کی اہمیت کو بھی تسلیم کریں۔
انھوں نے سی ایم کالج کا مختصر تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ کالج 1938 میں قائم ہوا تھا اور یہ شمالی ہند کے آکسفورڈ کے طور پر مقبول رہا ہے۔ آزادی ہند کے متوالوں کا بھی یہ مرکز رہا ہے۔آنجہانی کرپوری ٹھاکر،للت نارائن مشرا، یوگیندر جھا جیسے لوگ اس کالج کے طالب علم رہے تھے۔اردو زبان و ادب کے حوالے سے اگر دیکھیں تو مظہر امام، علقمہ شبلی، منظر شہاب، منظر کاظمی، پروفیسر لطف الرحمان،قمر اعظم ہاشمی جیسے نامور ادیبوں و شاعروں نے کالج کا نام روشن کیا ہے۔کالج کے 27 طالب علموں کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ مل چکا ہے اور17 لوگوں کو پدم شری جیسا باوقار اعزاز حاصل کیا ہے۔صدرشعبہ اردو،سی ایم کالج، دربھنگہ ڈاکٹر ظفر سعید نے افتتاحی سیشن میںکلمات تشکر ادا کیے جبکہ نظامت عبدالحی نے کی۔
ویبینار کے پہلے تکنیکی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد علی جوہر نے کہا کہ یہ ویبینار عظیم آباد کی تاریخ مرتب کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔تکنیکی اجلاس میںجتنے بھی مقالے پڑھے گئے وہ معیاری تھے اور کچھ سوالات بھی قائم کیے گئے ہیں ان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس سیشن میں ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی پٹنہ یونیورسٹی،خورشید حیات، بلاسپور،ڈاکٹر احمد صغیر،ڈاکٹر سید احمد قادری، گیا، ڈاکٹر حنا شمائم، بہار شریف نے مقالے پیش کیے۔سید احمد قادری نے اپنے مقالے میں یہ سوالات اٹھائے کہ بہار کے شاعروں، ادیبوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، جوہر عظیم آبادی، بسمل عظیم آبادی، انجم مانپوری، علی محمود جیسے ادیبوں ،شاعروں پر بہت کم گفتگو کی گئی ہے جب کہ ان کی خدمات ایسی نہیں کہ انھیں نظر انداز کیا جائے۔سیشن کی نظامت ڈاکٹر مسرور صغریٰ نے کی جبکہ کلمات تشکر پروفیسر سیدمحمد احتشام الدین نے ادا کیے۔
دوسرے تکنیکی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر آفتاب اشرف نے کہا کہ جب ہم دبستان عظیم آباد کا تذکرہ کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ واقعتا یہاں کے ادیبوں و شاعروں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔انھوں نے سیشن میں پڑھے گئے تمام مقالوں پر بھی اظہار خیال کیا۔ دوسرے سیشن میں پروفیسر سید محمد احتشام الدین، دربھنگہ، ڈاکٹر شبانہ آفرین جاوید، کولکاتا اور ڈاکٹر علا ء الدین خاں ، چھپرہ نے مقالے پیش کیے۔ شکریے کی رسم ڈاکٹر نفاست کمالی نے انجام دی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ارشد حسین سلفی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
ویبینار میں گوگل میٹ کے ذریعہ ڈنمارک سے جناب نصر ملک اور ملک کے مختلف مقامات سے ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر مشرف علی، گلشن عزیز، صوفیہ محمود، استوتی اگروال، ڈاکٹر عبدالرافع اور للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے کئی ریسرچ اسکالر جڑے رہے۔ویبینار کے لیے تکنیکی تعاون ڈاکٹر ارشد حسین سلفی نے فراہم کیا۔