Home قومی خبریں ڈاکٹر قدسیہ انجم کی کتاب ’’دبستان سہارنپور‘‘ کا اجرا

ڈاکٹر قدسیہ انجم کی کتاب ’’دبستان سہارنپور‘‘ کا اجرا

by قندیل

دبستان سہارنپور ایک ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے :جلال عمر

سہارنپور: پرچم تنظیم کے زیر اہتمام ۲ جون کو ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ کی کتاب دبستان سہارنپور کا اجرا راج محل ہوٹل میں کیا گیا جس کی صدارت ایم پی حاجی فضل الرحمن نے کی اور نظامت کے فرائض جاوید خان سروہا نے انجام دیے تقریب کی شروعات آصف شمسی کی نعت پاک سے ہوئی اسکے بعد ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ کی کتاب دبستان سہارنپور کا اجراء مہمانوں کے ہاتھوں کیا گیا افتتاحی خطبہ جلال عمر سابق پرنسپل اسلامیہ کالج نے پیش کیا اور کتاب کے حوالے سے یہ کہا کہ دبستانِ سہارنپور ایک ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ شعرو سخن ادب ،تنقید،صحافت،آرٹ اور کلچر کی دنیا میں سہارنپور کی ممتاز شخصیتوں نے جو قابلِ قدر کارنامے انجام دیے ہیں ان کو ڈاکٹرقدسیہ انجم نے اس کتاب میں بڑے سلیقہ کے ساتھ یکجا کردیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ا دب نواز لوگ اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیںگے۔آنے والی نسلیں جب اس کو پڑھیں گی تو انکو اندازہ ہوگا سرزمینِ سہارنپور علمی اعتبار سے کتنی زرخیز رہی ہے۔ ڈاکٹر قدسیہ انجم نے کہا کہ کتابِ کو لکھنے کا مقصد سہارنپور کے ادبا شعرا صحافیوں اور فنکاروں قلمکاروں کو ملک اور بیرون ممالک میں متعارف کرانا ہے کتاب کو لکھنے میں بہْت سی دشواریاں آئیں لیکن اس دشوار گزار کام کو مکمل کرنے میں بہت سے قلمکاروں نے تعاون کیا جن کی میں مشکور ہوں خواتین کی چولہا چوکا اور چار دیواری کے علاوہ بھی ایک دنیا ھے وہ ہے تخلیق کی دنیا جس میں اب خواتین آگے آکر دنیا سے اپنے ادب کے ذریعے متعارف ہو رہی ہیں ۔
،مہمان ذی وقار کے طور پر دہلی سے تشریف لائیں رخشندہ روحی مہدی ٹیچر جامعہ سینیئر سیکنڈری اسکول اور قلم کار نے کہا کہ عصرِ حاضر میں دبستانِ سہارنپور کتاب کی اہمیت ان معنوں میںہے کہ اب ادبی شخصیات کے علمی و ادبی کارناموں کو قلم بند کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے اس دور نفسا نفسی میں ڈاکٹر قدسیہ انجم نے سہارنپور کے ادبی افق پر چمکتے ستاروں کی کہکشاں کو اپنی کتاب میں جمع کر لیا ہے اس طرح سے ایک دستاویز کی شکل میں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرے گا دہلی سے تشریف لائیں مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر شمع افروز زیدی مدیرہ بیسویں صدی نئی دلی نے کہا کہ ڈاکٹر قدسیہ انجم نے دبستان سہارن پور میں سہارن پور شہر کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے ضلع سہارن پور کا تاریخی پس منظر اجاگر کرتے ہوئے یہاں کی علمی و ادبی اور معروف و غیر معروف گمنام شخصیتوں صحافیوں ادیبوں شاعروں نیز نسائی ادب کو اس خوبصورتی سے کتاب میں یکجا کیا ہے جس سے کتاب کی معنویت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے یقین ہے کہ اس کتاب کو ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا دہلی سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی جناب حقانی القاسمی مدیر انداز بیان نئی دلی نے کہا کہ ہر شہر کی اپنی ایک سائیکی اور ثقافت ہوتی ہے جس کا اثر وہاں کے تخلیقی اذہان پر بھی ہوتا ہے شہر کی سانسیں ہی تخلیقی شخصیت کی تشکیل و تعمیر کرتی ہیں سہارنپور سے ڈاکٹر قدسیہ انجم کا صرف مادی اور معاشی تعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد الطبیعاتی رشتہ ہے اس لیے دبستان سہارنپور کو انہوں نے اپنی تحقیق و تنقید کا مرکز و محوربنایا یہ کتاب سہارن پور کی ادبی و ثقافتی سوانح اور علمی دستاویز ہے سہارن پور کی علمی ادبی شخصیات کے آثار و کوائف کے تعلق سے ایک اہم عصری حوالہ جاتی کتاب ہے قدسیہ انجم نے اپنی مٹی کی محبت کا قرض بہت سلیقے سے اتارا ہے اس کے لیے وہ مبارکباد کی مستحق ہیں دہلی سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالباری اسسٹنٹ ایڈیٹر اردو دنیا بچوں کی دنیا فکر و تحقیق نے کہا کہ سہارن پور روحانی علمی اور ادبی اعتبارسے پوری دنیا میں منفرد شناخت رکھتا ہے یقینا سہارنپور اس لائق ہے کہ اسے ادبی دبستان قرار دیا جائے اردو کے جتنے اسالیب یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں کسی اور علاقے میں نہیں ملتے یہاں کی مٹی میں تنوع تخلیقیت ،رنگا رنگی اور روحانیت ہے ڈاکٹر قدسیہ انجم قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے سہارن پور کی علمی ادبی صحافتی اور ادبی شخصیات کی کہکشاں کو اس کتاب میں جمع کر دیا دہلی سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی راشٹریہ سہارا اردو کے سابق ایڈیٹر ڈاکٹر اسد رضا نے کہا کہ سہارن پور کی نامور شخصیات پر اس کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اس میں نامور علمی ادبی صحافتی سماجی اور فنی شخصیات کا ذکر ہے شعر و سخن تنقید صحافت آرٹ اور کلچر کی دنیا میں سہارنپور کی ممتاز شخصیتوں نے جو قابل قدر کارنامے انجام دیے ہیں ان کو ڈاکٹر قدسیہ انجم انجم نے اس کتاب میں بڑے سلیقے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے، علمی وراثت کی حفاظت انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس کام کو ڈاکٹر قدسیہ انجم نے بحسن وخوبی خوبی انجام دیا ہے واضح ہو کہ بہت پہلے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن دہلی نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں سے کہا تھا کہ علاقائی تاریخ نویسی اور تحقیق کو اولیت دی جائے تاکہ علاقائی ادب تہذیب وثقافت کی تاریخ لکھنے میں مدد مل سکے یہ کتاب بھی سہارنپور کے علمی اور تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے صدارت کرتے ہوئے ایم پی سہارنپور جناب فضل الرحمن نے کہا کہ دبستانِ سہارنپور ڈاکٹر قدسیہ انجم کی یہ ایک ایسی علمی
کاوش ہے جسے کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانا آسان نہ تھا انہوں نے یہ وقت طلب کام کا بیڑا اٹھا کر اس کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہم ان کے اس تاریخی کارنامے پر ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں نظامت کرتے ہوئے جاوید خان سروہا نے کہا کہ سہارنپور شہرعلم و ادب کا گہوارہ ہے دبستانِ سہارنپور میں ان ادبی شخصیات کے تخلیقی کمالات سے قارئین کو روشناس کرانے کی کوشش کی گئی ہے مہمانوں کو شال اوڑھا کر اور گل پوشی کر کے عزت افزائی کی گئی نصرت پروین نے پرچم اردو آنگن کی اردو کی خدمات پر روشنی ڈالی ۔شرکت کرنے والوں میں انوار احمد،طلعت سروہا،ہارون صابر، دانش کمال ، احمد فراز، فیاض ندیم، اسلم محسن مشتاق روشن ، خرم سلطان، حاجی الیاس انعم ،شفاعت عظیم سلیم قریشی قاضی شوکت شاہین سمینہ روبی شان الہی فرزانہ شیخ یسرا صدیقی راشدہ فیضان عائشہ شہید الیشا خان، خدیجہ شبانہ وغیرہ اس پروگرام میں موجود رہیں ڈاکٹر ایوب ڈاکٹر شاہد زبیری مطلوب قریشی دانش کمال آصف شمسی جمیل معنوی ،عروج امجد، نگہت خانم کا خاص تعاون رھا پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر ایوب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

You may also like