Home تجزیہ ڈبڈبائی، مگر فکرمند اور باحوصلہ نگاہیں

ڈبڈبائی، مگر فکرمند اور باحوصلہ نگاہیں

by قندیل

 

(ہر باعزت ہندوستانی کا درد، جسے بد نیت تخت نشین نظر انداز کرنے کی غلطی کر رہے ہیں۔)

محمد رضی الرحمن قاسمی
ینبع، مدینہ طیبہ

کندھے سے معصوم بچہ لگا تھا، اور وہ خاتون ڈبڈبائی آنکھوں سے مشہور ٹی وی صحافی رویش کمار سے بات کرتے ہوئے اس درد کا اظہار کر بیٹھیں، جو ہر باعزت ہندوستانی کا درد ہے کہ عوامی ووٹ سے منتخب ہونے والے کچھ بد نیت افراد کون ہوتے ہیں کہ کہ ایک سو کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کی بے عزتی کریں اور ان سے یہ پوچھیں کہ تم لوگ اسی مٹی سے ہو،اسے ثابت کرو۔
یہ واقعہ 5 جنوری 2020 کی سرد رات کا ہے، جب وہ اپنے معصوم بچے کے ساتھ ملکی آئین کے مخالف قوانین "سی اے اے، این پی آر اور این آر سی” کے خلاف بیس دن سے زیادہ سے شاہین باغ میں مسلسل چلنے والے احتجاج میں یہ درد لئے موجود تھیں۔
سی اے اے، این پی آر اور این آر سی جیسے قوانین میں "ہر سمجھ دار اور باعزت ہندوستانی فرد” کو جو باتیں بہت زیادہ چبھتی ہیں، ان میں سب سے پہلی بات "بے عزتی کا احساس” ہے کہ عوامی ووٹ سے منتخب مٹھی پر بد نیت تخت نشین افراد (جن میں سے کئی پر متعدد جرائم کا الزام ہے اور کیس چل رہے ہیں اور کئی کورٹ سے سزا یافتہ بھی ہیں) باعزت ہندوستانیوں سے اپنی مٹی سے رشتے کا اور اس سے محبت کا ثبوت مانگ رہے ہیں۔
دوسری بات جو چبھتی ہے، وہ ایک جمہوری ملک میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کر کے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی بد ترین کوشش ہے۔
تیسری بات جو چبھتی ہے، وہ ہندوستانی دستور کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلی لانے کی کوشش ہے، جس سے ملک کا جمہوری کردار ہی مخدوش ہو جائے گا اور اگر اس کو نہیں روکا گیا، تو آئندہ اور بھی بدترین اور عوام مخالف قوانین لانے کا راستہ کھل جائے گا۔
جامعہ ملیہ سے چلنے والی "سی اے اے، این پی آر اور این آر سی مخالف تحریک” نہ صرف پورے ہندوستان کے سمجھدار طلبۂ و طالبات کی آواز بن گئی ہے؛ بلکہ پورے ملک کے ہر انصاف پسند اور باعزت شہری کی آواز اور دل کی صدا بن گئی ہے، تسلسل کے ساتھ روزانہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاج اس کا واضح ثبوت ہیں، بلکہ شاہین باغ دہلی میں ہونے والا احتجاج (جس میں اکثریت خواتین کی ہے، جن میں سے بہتوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی ہوتے ہیں۔)اور اس جیسے بعض احتجاج ایسے بھی ہیں، جو پچیس دنوں سے زیادہ سے مسلسل چل رہے ہیں۔
یہ ملک گیر مسلسل ہونے والے احتجاج ہمیں ایک حقیقت بتاتے ہیں اور ساتھ ہی ان احتجاجات نے ہمیں بہت کچھ سکھایابھی ہےـ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قانون’ ملک اور ملک کے باشندوں کے لئے ہوتا ہے، جب ان تینوں قوانین کو ملک کے عوام نے رد کر دیا اور شدت سے ان پر نا پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں، اس کے باوجود بھی تخت نشین بد نیت ٹولےکو ان قوانین کے نفاذ پر اصرارہے، جو صاف اس بات کا پتا دیتا ہے کہ اس بد نیت ٹولے کا مقصد ان قوانین سے وطن اور اہل وطن کی بہتری نہیں ہے؛ بلکہ ان سے غلط مقاصد کا حصول اور اپنے سیاسی فائدے کی ناپاک فکر ہے۔
اگر مقصد وطن اور اہل وطن کی بہتری ہوتا، تو عوام کی اس متحد آواز کو اہمیت دیتے ہوئے تخت نشین افراد فوری طور پر ان قوانین کو دستوری انداز میں ختم کرنا اپنی ذمے داری سمجھتے اور کرتے، نہ کہ یوں بے حسی اور انانیت دکھاتے کہ چاہے جو ہو، ہم اپنے فیصلے سے نہیں ہٹیں گے۔
ان ملک گیر مسلسل ہونے والے احتجاجات نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور بھولی باتیں یاد دلائی ہیں:
ان میں سے ایک یہ ہے کہ بد نیت ارباب اقتدار کے ٹولے کی کھلی ہوئی دستور مخالف حرکتوں نے ہر باعزت اور سمجھ دار ہندوستانی کو ہندوستان کاایک ذمے دار شہری ہونے کا احساس دلادیا۔
دوسرے یہ کہ یہ شعور بیدار کیا کہ آگ اپنے کسی بھی پڑوسی کے گھر میں لگے، اسے اپنا نقصان سمجھ کر اسے بجھانے کی کوشش کرنی ہے، یہی انسانیت ہے، ورنہ اس آگ کا شعلہ ہمارے گھر پہنچ کر ہمارے آشیانےکو بھی خاکستر کر دے گا۔
تیسرے یہ کہ ہندوستان کی خوبصورتی مختلف مذاہب و ادیان اور مختلف سوچ اور فکر کے لوگوں کے ایک ساتھ ہونے اور محبت سے رہنے میں ہے۔
چوتھے یہ کہ ووٹ دینا جمہوری ملک میں ایک بہت بڑی ذمے داری ہے، جس میں کی جانے والی نا سمجھی پورے وطن کو چند بد نیتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنادیتی ہے اور جس نا سمجھی اور جذباتیت کا درد اوراس سے ہونے والے نقصانات کی کسک وطن اور اہل وطن کو برسوں جھیلنی پڑتی ہے۔
پانچویں یہ کہ نوجوان نسل کی رہنمائی ضرور کی جائے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قیادت میں اُن کو اُن کا صحیح مقام دیا جائے کہ ایک بہتر، متوازن اور نڈر قوم کی تشکیل ہو سکے۔
ان ہونے والے احتجاجات نے ان اسباق و پیغامات کے ساتھ ساتھ ہم ہر باعزت ہندوستانی کو ایک بڑے امتحان میں کھڑا کردیا ہے، وہ امتحان ہے ہمت و حوصلہ کا، عزیمت کا، ڈٹے رہنے کا۔ ہم ہندوستانیوں کو اس امتحان میں کامیاب ہونا ہے، نہ ہمیں گھبرانا ہے، نہ پیچھے ہٹنا ہے، بس اپنے مشن کو لئے ہوئے ڈٹے رہنا ہے، یہ یاد رکھیں کہ جیت حق کی ہی ہوتی ہے، گو کبھی فاصلے تھوڑے لمبے ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اقتدار کے نشے میں چور نا عاقبت اندیش تخت نشینوں کو اکثر نوشتۂ دیوار نہیں دکھائی دیتا ہے۔
ہندوستانی نوجوانو، طلبۂ و طالبات، باعزت اور انصاف پسند (مرد و خواتین )ہندوستانیو! ڈٹے رہو، اگر حکومت سمجھداری کا ثبوت دے گی تو ان ملک مخالف قوانین کو واپس لے گی کہ ملک کی سالمیت اور باشندوں کی بہتری سے بڑھ کر ان کی اَنا نہیں ہے، ورنہ جیسے ان سے پہلے کے مغرور و متکبر اور عوامی آواز کو نظر انداز کرنے والے نشانِ عبرت بن گئے، یہ بھی بن جائیں گے اور – ان شاء اللہ- ایسا ہی ہوگا، بس شرط ہے منزل پر نگاہ رکھ کر ڈٹے اور جمے رہنے کی۔

You may also like

Leave a Comment