کووڈ – 19 کے دوران بعض مدارس اور مساجد کا اساتذہ ، ائمہ اور مؤذنین کے ساتھ غلط سلوک

امداد الحق بختیار
دیگر ممالک کا یقینی اندازہ تو ممکن نہیں لیکن انڈیا میں کووڈ – 19 کا داخلہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ، پورا ملک سناٹے اور ہو کے عالم میں بدل گیا ، ہر طرف ڈر اور خوف کی ایک دبیز چادر تن گئی ، ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہر ایک کو اپنی زندگی کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا سامنا تھا ، ہر انسان موت کی دہشت میں تھا ، ذرا سی کھانسی یا بخار سے کلیجہ منہ کو آجاتا تھا ۔
جب زندگی ہی تھم گئی، تو کاروبار زندگی کا کیا پوچھنا ، ملک کا ایک بڑا طبقہ کرونا وائرس سے پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہوکر موت کی کھائی میں جاگرا، اس سے بھی بڑا حصہ ابھی ان لوگوں کا ہے ، جن کا مستقبل بالکل تاریک ہوچکا ہے ، بہت سے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں تذبذب کے شکار ہیں ، بے شمار لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں ، بہت سی کمپنیوں ، کارخانوں ، فیکٹریوں اور دکانداروں نے اپنے عملہ سے معذرت کر لی ۔
وہیں مدارس اسلامیہ کا بڑا نقصان ہوا ، کیوں کہ اکثر مدارس کے سالانہ بجٹ کا انتظام رمضان المبارک کے چندے پر ہی منحصر ہوتا ہے ، یہ بھی لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا ، بہت سے علاقوں میں مساجد کے صرفہ کے لیے رمضان المبارک میں اہل محلہ سے سالانہ چندہ ہوتا ہے ، اس میں بھی بڑی حد تک کمی آئی ہوگی۔
اس کے باوجود مدارس اور مساجد کی ایک بڑی تعداد نے اپنے مدرسین ، ائمہ اور مؤذنین کا پورا خیال رکھا، برابر ان کی تنخواہیں دیتے رہے ، دیگر ضروریات کی تکمیل کی بھی کوشش کی ، جو قابل تعریف اور لائق تقلید عمل ہے ، اللہ تبارک وتعالی ایسے تمام نظماء مدارس اور متولیان مساجد کو اپنی شایان شان جزا عطا فرمائے ، کہ انہوں نے خدمت گزاری کا حق ادا کیا ، وفاداری کے نمونے پیش کیے ، انسانیت کا سر بلند کیا اور اسلامی اور شرعی حکم کی بالادستی کو قائم رکھا۔
بعض مدارس نے مدرسین کے سامنے واضح کردیا کہ موجودہ پریشانی کی وجہ سے وہ مکمل تنخواہ ادا نہیں کرسکتے ، لیکن حالات صحیح ہونے کے بعد سابقہ باقی تنخواہ کی بھی ادائیگی کردی جائے گی، ان کا یہ عمل احتیاط پر مبنی ہے اور اسے غیر درست نہیں کہا جاسکتا ، کیوں کہ پریشانی کے عالم میں اساتذہ کو بھی مدرسے کا اتنا تعاون کرنا ہی چاہیے اور وہ ماشاء اللہ کر رہے ہیں ۔
لیکن بعض مدارس اور مساجد کے ذمہ داران نے اساتذہ ، ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہ میں "تکمیل کے وعدہ کے بغیر ہی ” کٹوتی کردی ہے ، بلکہ بعض نے صراحت بھی کردی ہے کہ مثلاً صرف آدھی تنخواہ ملے گی اور بقیہ آدھی بعد میں بھی نہیں ملے گی ، بعض نے ہوشیاری کوکام میں لاتے ہوئے اخیر کے جملے کو مبہم رکھا ہے ، مساجد اور مدارس کے خدمت گزاروں کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اور آدھی ہونے کے بعد کتنی رہ جائے گی ، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
تنخواہ میں تکمیل کے وعدہ کے بغیر کٹوتی کرنا یا بالکل ہی تنخواہ نہ دینا ، دونوں ہی صورتیں نہ اخلاقی اور انسانی اقدار کی رو سے درست ہیں اور نہ ہی شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہیں ، کسی بھی دار الافتاء سے رجوع ہوکر یہ مسئلہ معلوم کیا جاسکتا ہے ، جب کہ بعض مفتیان کرام نے اس کی طرف توجہ بھی دلائی ہے اور اس حوالے سے تفصیل کے ساتھ حکم شرعی واضح کیا ہے ، کیا مدارس اور مساجد میں شرعی حکم کی بالادستی رہے گی یا ذمہ داران کی مرضی کی؟ یہ سوال بھی ان کے طرز عمل سے حل ہوجائے گا۔ اللہ کرے شرعی حکم کی ہی بالادستی رہے۔
اس بابت دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا فتوی پیش خدمت ہے:
استحقاق اجرت یا تنخواہ کا مستحق ہونے کے لیے مدرس کا وقت مقررہ پر تسلیم نفس کافی ہے؛ لہذا جو مدرس قواعد مدرسہ کے مطابق تسلیم نفس پر راضی ہے وہ تنخواہ کا مستحق ہونا چاہیے ؛ اگرچہ لاک ڈاؤن یا موجودہ صورت حال کی وجہ سے مدرسہ میں نیا داخلہ نہ ہو رہا ہو یا تعلیمی سلسلہ بند ہو ؛ کیوں کہ اصل معقود علیہ تسلیم نفس ہے نہ کہ عمل اورکام ۔
(فتوی دارالعلوم کراچی ، 19/ رمضان 1441ھ مطابق 13/ مئی 2020ء، نمبر 28792)
جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد کا فتوی بھی پڑھتے جائیں:
جب ملازمین و مدرسین کی طرف سے کوئی تعدی نہیں ہوئی ہے، تو عرف کے مطابق وہ لوگ تنخواہ کے مستحق ہیں، مرادآباد میں 1980ء کے فساد کے موقع پر دو تین مہینہ تک مرادآباد کے بڑے بڑے مدارس بند رہے مثلاً جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی ، مدرسہ امدادیہ ، مدرسہ جامع الہدی وغیرہ بند رہے لیکن ملازمین و مدرسین کی تنخواہیں وضع نہیں کی گئیں، برابر تنخواہ دی گئی۔
(فتوی نمبر : 23/ 611)
اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر بعض ذمہ داروں نے بالکل بھی تنخواہ نہ دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے ، ظاہر ہے کہ یہ بڑا ظلم ہے اور مملکت خدا داد کے مالک کچھ نظماء مدارس اور متولیان مساجد نے تو تمام ہی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنے اساتذہ ، ائمہ اور مؤذنین کو ملازمت سے برخواست کردیا ہے ، جن اساتذہ اور خدام مساجد نے اچھے حالات میں اپنے خون پسینے سے مدارس اور مساجد کی خدمت کی ، برے حالات میں انہیں پیٹھ دکھادی گئی ، اس سے بڑی بے وفائی ، ابن الوقتی ، مفاد پرستی اور غیر انسانی حرکت اور کیا ہوسکتی ہے !
کچھ نظما ء مدارس اور متولیان مساجد کرونا وائرس کے بہانے پرانی رنجش اور دل میں چھپے بغض کی وجہ سے اپنی دیرینہ خواہش پوری کر رہے ہیں ، طرح طرح کے بناوٹی بہانے گڑھ کے مدرسین اور خدام مساجد کی ملازمتوں کے حوالے سے فرامین جاری کر رہے ہیں ، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ دلوں کے بھید سے بھی واقف ہے ، اس روز ان کی گرفت ہوگی، جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ ہی تعلقات ۔
نیز مدارس اور مساجد کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ؛ بلکہ قوم کی امانت ہیں ، لہذا امانت کی حفاظت ذمہ داران کے اوپر واجب ہے اور اگر کوئی ناظم یا متولی حفاظت سے قاصر ہے تو اسے یہ امانت قوم کو سپرد کردینی چاہیے ، جو اہل ہوگا اسے پھر بار امانت سونپا جائے گا ، لیکن امانت کی حفاظت بھی نہ کرنا اور زبردستی اس پر مسلط بھی رہنا ، نہ دنیا کے اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی آخرت کی عدالت کے اعتبار سے ۔
مدارس مشکل حالات سے ضرور گزر رہے ہیں ، اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا ، لیکن بعد میں جب حالات اچھے ہوں گے تو نظمائے مدارس یا متولیان مساجد اپنی جائداد فروخت کر کے تنخواہیں نہیں دیں گے ؛ بلکہ قوم کے ہی پیسے سے تنخواہیں دی جائیں گی ؛ تو پھر ایسی صورت میں اس کا جواز کہاں سے ہوسکتا ہے کہ مدرسین یا مساجد کے خدام کی پوری یا آدھی تنخواہ روک لی جائے اور بعد میں بھی انہیں ادا نہ کیا جائے؟ہاں وقتی طور پر تنخواہ کو ضرور مؤخر کیا جاسکتا ہے ،تاکہ جب مالیہ کی حالت بہتر ہو ، تو اس وقت سابقہ تمام تنخواہیں ادا کردی جائیں ۔
ملک میں جو ادارے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ، چاہے وہ کسی بھی مکتبہٴ فکر کے ہوں ، نیز جو حضرات اور علماء رہنما کی حیثیت سے ہیں ، جن کو قوم کا ایک بڑا طبقہ پڑھتا یا سنتا اورمانتا ہے ، ان تمام سے گزارش ہے کہ مدارس اور مساجد کے مدرسین ، ائمہ اور مؤذنین کی ملازمت اور تنخواہوں کے حوالے سے ہدایات اور اپیل جاری کریں ، آپ کی اپیل سے بہت سی زندگیوں کو سہارا مل سکتا ہے ، بہت سے مدارس اور مساجد کے ذمہ داروں کو حوصلہ بھی ملے گا ، اگر کوئی غلط ارادہ رکھتا ہے تو ممکن ہے، عام اپیل کی وجہ سے انہیں کچھ شرم اور اپنی نیک نامی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو اور غلط فیصلے سے باز آجائیں۔