کورونائی شادی- رفیعہ نوشین

 

آج کل ساجدہ بیگم کا ایک ہی کام تھا ، روز صبح اخبار لے کر بیٹھ جاتیں اور ضرورت رشتہ کے کالم میں اپنے بیٹے کی شادی کے لئے مناسب رشتہ تلاش کرتیں – مہینوں گزرنے کے بعد بھی کوئی ڈھنگ کا رشتہ نہیں مل رہا تھا – لیکن آج ان کی نظر ایک اشتہار پر ٹک سی گئی – لکھا تھا -کورونا سے آزاد خاندان کی تعلیم یافتہ ، ماسک کی پابند لڑکی جو کووی شیلڈ ویکسین کے دونوں ٹیکے لے چکی ہے کے لئے رشتہ مطلوب ہے- لڑکا بھی کورونا سے پاک اور ماسک کا پابند ہو – کووی شیلڈ ویکسن کے دونوں ٹیکے لے چکاہو- جو ورک فروم ہوم اور ورک ایٹ ہوم کی صلاحیت کا حامل ہو – دلچسپی رکھنے والے امید وار بائیوڈیٹا کو مقامی کو یڈ سنٹر سے اٹسٹیشن کرواکر کرونا فری ہونے کے شہادت نامہ کے ساتھ اپنے ای پاسپورٹ کی کاپی بھی منسلک کرکے میل کریں – کورونا مناسب طرز عمل کی پیروی کرنے والے خاندان کو ترجیح دی جائے گی-
"اجی سنتے ہو” بیگم نے اخبار سے نظریں ہٹاتے ہوۓ شوہر نامدار کو آواز لگائی -”

سناؤ کیا سنانا چاہتی ہو؟ جب سے تم سے بندھا ہوں صرف سنتا ہی تو آرہا ہوں- بولنا تو جیسے بھول ہی گیا ” اعجاز صاحب بڑ بڑائے
"بختیار کے لئے لڑکی مل گئی” ساجدہ کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی –
"میں بختیار کا بائیو ڈیٹا لڑکی والوں کو بھیج دیتی ہوں -انہیں لڑکا پسند آجائے تو ہم لڑکی سے ملنے آج چلے جائیں گے ” ساجدہ نے ایک ہی سانس میں اپنا پروگرام سنا دیا تھا –
"ٹھیک ہے جیسا تم مناسب سمجھو” اعجاز صاحب نے جواب دیا
دوچار دن بعد ساجدہ اپنے شوہر سے گویا ہوئیں
” لڑکی والوں کو بختیار پسند آگیا ہے اسی لئے انہوں نے ہمیں کاڑھے پہ بلایا ہے”- ساجدہ چہک رہی تھیں –

خاندان قبیلہ، رنگ روپ، قد کاٹھی، رہن سہن، لین دین سب کے بارے میں پوچھ لیا نا تم نے؟
اعجاز صاحب نے سوال کیا ؟
"ارے کس دور میں جی رہے ہیں آپ ؟
وہ سب تو پرانے زمانے کی باتیں ہیں – آج کل کے کورونائی دور میں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں- اب ٹرینڈ بدل گیا ہے – اس دور میں جینا ہے تو اسی کی مناسبت سے جانکاری حاصل کرنی ہوگی – اوراگر کوئی مطالبہ رکھنا تو وہ بھی اسی سلسلے کا ہونا چاہئیے ، شادی بھی اسی قواعد و ضوابط کی لحاظ سے کرنی ہوگی سمجھ گۓ نا آپ ؟ انہوں نے اعجاز کو سمجھاتے ہوۓ کہا –

شام کے ٹھیک چار بجےاعجاز صاحب اور ساجدہ لڑکی والوں کے گھر پہنچ گۓ – گیٹ پر ماسک دھاری چوکیدار سانیٹائزر اور خودکارتھرمامیٹر کے ساتھ ان کے استقبال کے لئے موجود تھا –
"کیا زمانہ آگیا ہے- ایک دور تھا جب دلہے والوں کی آمد پر صندل ہاتھ دیا جاتا تھا آج سانیٹائزر دیا جا رہا ہے – جہاں رنگ برنگے چوبے سے منہ میٹھا کیا جاتا تھا آج وہاں جبراً تھرمامیٹر سے گزارا جارہا ہے – کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے” اعجاز صاحب اپنے آپ سے محو گفتگو تھے –
اس مرحلے سے گزر کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوۓ تو لڑکی کے والدین اپنے چہروں پر فیس شیلڈ سجاۓ بارعب طریقے سے ایسے تشریف لاۓ جیسے بادشاہ سلامت اور ملکہ اپنے سروں پر تاج سجاۓ چلےآرہے ہوں کہ "با ادب با ملاحظہ ہوشیار! کورونائی دور کے والدین تشریف لا رہے ہیں”-

ان دونوں نے پہلے تو ہمیں دور سے سلام کیا اس کے بعد مخصوص انداز سے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں شانے پر اور بائیں ہاتھ کو دائیں شانے پر چلیپے کی شکل میں رکھ کر سر کو خفیف سا جھکایا –
ہم حیرانی سے ایک دوسرے کامنہہ تکنے لگے کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے ؟ یہ کس قسم کا اشارہ کر رہے ہیں ؟
انہوں نے ہماری پریشانی کو بھانپتے ہوۓ کہاکہ” اس اشارہ کا مطلب ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں – چونکہ مادی طور پر گلے ملنا خطرے سے خالی نہیں اس لئے کورونا کی اس تہذیب کو اپنانا پڑ رہا ہے”-
"اوہ اچھا! کہتے ہوۓ ہم دونوں نے بھی فوراَ اپنے ہاتھ اسی انداز میں اپنے شانوں پر رکھ لئے” – ہمیں شرمندگی بھی ہوئی کہ ہم کورونا کے دور میں رہتے ہوۓ بھی اس کی تہذیب سے، اشاروں کی زبان سے واقف نہیں تھے – بالکل اسی طرح جس طرح مسلمان ہوتے ہوۓ بھی ہم اپنے دین سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے –

کورونا کی مناسبت سے ڈرائنگ روم کے فرنیچر کے درمیان بھی کافی فاصلہ رکھا گیا تھا – کچھ ہی دیر میں ایک نقاب پوش ملازمہ قابل تلف گلاسوں میں ہمارے لئے گنگنا پانی لے آئی کہ کورونا سیزن میں گنگنا یعنی نیم گرم پانی پینا احتیاط کا تقاضا ہے-
” آج کل کوئی بھی مشتبہ ہو سکتا ہے – ہم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کون وائرس کو اپنے ساتھ لۓ گھوم رہا ہے اس لئے ہم لوگ آج کل استعمال کرکے پھینک دینے والے مصنوعات کا استعمال کر رہے ہیں” لڑکی کی والدہ نے وضاحت کرنا ضروری سمجھا –
ہم نے صوفہ پر بیٹھے بیٹھے اطراف و اکناف کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ہمارے سامنے والی دیوار پر وباء سے بچنے کی دعا خوبصورت سنہری فریم میں آویزاں تھی – دائیں جانب رکھے شوکیس میں کورونا وائرس کا دلکش ماڈل رکھا تھا-
"بہت خوبصورت ہے – اسے دیکھ کر ڈر نہیں ہو رہا ” ساجدہ نے ماڈل کی طرف اشارہ کرکے کہا
"یہ ہمارے بیٹے نے آسٹریلیا سے بھیجا ہے- کہتا ہے اس کو سنبھال کر رکھنا چاہۓ تاکہ ہمارے بعد آنے والی نسلوں کو بھی پتہ چلے کہ ہم کس وباء کے دور سے گزرے تھے – کس طرح لوگوں نے رشتوں کو جوڑنے کے لئے دوریوں کو فروغ دیا تھا” – لڑکی کی والدہ نے بتایا –
اس دوران ملازمہ
"کاڑھا” لے آئی تھی – ہم اپنے کپ سے کاڑھے کے کڑوے کسیلے گھونٹ حلق سے نیچے اتار رہے تھے کہ لڑکی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی –
جسے دیکھ کر ہمیں فلم لیلیٰ مجنوں کی ہیروین یاد آگئی – اسی قسم کا اؤٹ فٹ، چہرے پر "غلاف لب و رخسار’ سجاۓ ہاتھوں میں دستانے پہنے وہ ہمارے سامنے موجود تھی – ہم آۓ تو تھے لڑکی کو دیکھنے لیکن یہاں تو اس کی آنکھوں کے سوا ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا –
گویا کہہ رہی ہو "میری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے”
"تعلیم جاری ہے ؟ ہم نے پوچھا ؟
"جی ! کورونا پر ریسرچ کر رہی ہوں” – اس نے جواب دیا –
"پکوان آتا ہے ؟‘‘
ہمارا دوسرا سوال تھا –
"جی آتا ہے نا – ہر قسم کا کاڑھا ، شوربہ ہربل چاۓ کے ساتھ ساتھ کورونا میں استعمال ہونے والی مدافعت بخش غذاؤں کے پکوان میں ماہر ہوں- آپ لوگ اطمنان سے بیمار ہو سکتے ہیں – کوئی پریشانی کی بات نہیں میں دیکھ لوں گی ” – اس نے کہا تو لگا کہ ہم اسے کیا دیکھیں گے ؟ لازم ہے کہ یہی ہمیں دیکھ لے گی-
"کچھ سلائی کڑھائی بھی سیکھی ہے ؟
تیسرا سوال تھا –
"جی ہر قسم کا ماسک سینا جانتی ہوں – کاٹن ، ایمرائڈری ، اپلک ورک ، کروشیا، زری ورک —-"”
"بس بس ” ہم نے درمیان میں ہی اسے روک دیا – اب ماسک تو ماسک ہی ہے چاہے کسی بھی قسم کا ہو منہ تو چھپتا ہی ہے – دکھائی کہاں دیتا ہے – ہم سر اٹھا کے جینے والوں کو منہ چھپا کے جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے – آخر کب تک ہم اس طرح بغیر کسی گناہ کے منہ چھپاۓ پھرتے رہیں گے ؟؟؟ آخر ہمیں اس سازش کا شکار کیوں بنایا جا رہا ہے ؟

"آپ کی کوئی فرمائش ؟‘‘ لڑکی کے والد نے ہم سے پوچھا –
"جی نہیں – آپ ہمیں اپنی کورونا جنگجو لڑکی دے رہے ہیں ہمیں اور کیا چاہیے ؟” ہم نے فوراً اپنا عندیہ ظاہر کیا –
"لڑکے سے آپ کی ملاقات گوگل میٹ پر ہو چکی ہے- آپ کو لڑکا پسند ہے اور ہمیں لڑکی پسند ہے – تو پھر دیر کس بات کی ؟ ہم جاننا چاہتے تھے –

"کوئی دیر نہیں! نکاح کا دعوت نامہ سب کو واٹس اپ کر دیا جاۓ گا – نکاح زوم آن لائن پر ہوگا – فیس بک لائیو کے ذریعہ مہمان شرکت کریں گے – جس کو سلامی یا رقمی تحفہ دینا ہو وہ گوگل پے کے ذریعہ بھیج دیں – تحفے پورٹر، ریاپیڈو یا کارگو کے ذریعے روانہ کیے جا سکتے ہیں – ولیمہ کے وچرز مہمانوں کو بھیج دیے جائیں گے – سب لوگ اپنی پسندیدہ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر ورچول ولیمہ کی دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں- شادی کی تصاویر انسٹاگرام اور ٹویٹر پر پوسٹ کی جائیں گی-
لڑکی کے والدین نے شادی کا پورا لائحہ عمل ہمارے سامنے رکھ دیا تھا اور ہم سوچ رہے تھے:کورونا نے شادیوں کو کتنا کم خرچ اور آسان بنا دیا ہے ،کاش یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*