کورونا وبا کے دوران وفات پانے والے اردو ادیبوں کو قومی اردوکونسل کا خراجِ عقیدت

نئی دہلی: کورونا جیسی مہلک اور انسانیت کش وبا کی لپیٹ میں معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ آ رہے ہیں،مگر افسوس کی بات ہے کہ اس نے ملک کے نہایت چیدہ و چنیدہ اشخاص کو خاص طورپر اپنا شکار بنایا ہے،بالخصوص اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی بہت سی اہم شخصیات اس وبا کے دوران ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئی ہیں جو اردو دنیا کے لیے عظیم خسارہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے وائس چیئر مین پروفیسر شاہد اختر نے حالیہ دنوں میں کورونا کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی اردو کی اہم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کثیر تعداد میں اردو ادیبوں اور کونسل سے وابستہ شخصیات کی رحلت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمومی دکھ کی گھڑی ہے ،ان کے جانے کا غم کسی خاص فرد یا مخصوص اہلِ خانہ کا غم نہیں ہے،بلکہ یہ پوری اردو برادری کا غم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے موقعے پر صرف اظہارِ افسوس کافی نہیں ہے بلکہ ان مرحومین کے ورثا اور پسماندگان کی اشک سوئی کرنا زیادہ ضروری ہے تا کہ ان کی زندگی کسی طرح معمول پر لوٹے اور وہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں۔ پروفیسر شاہد اختر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے درجنوں اساتذہ و ملازمین کی رحلت پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیاہے ۔
قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ کی مختصر مدت میں ہم درجنوں ایسی نمایاں ہستیوں کو کھو چکے ہیں،جن سے علم و ادب کی دنیا آباد تھی اور جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے ادب و فن کے شعبے کو خوب صورت فن پاروں سے مالا مال کیا۔یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اردو زبان و ادب کو سینچنے اور اس کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور ان میں سے کئی شخصیات قومی اردو کونسل سے وابستہ رہی ہیں۔ شیخ عقیل نے خاص طورپرکونسل کے سابق وائس چیئر مین شمس الرحمن فاروقی،گورننگ کونسل کے سابق رکن امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی، کونسل کے کنسلٹنٹ اور مشہور افسانہ نگار انجم عثمانی،ممتاز ناقد پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، مشہور فکشن نگار رتن سنگھ، مشرف عالم ذوقی، پروفیسر رضوان قیصر،پروفیسر ظفرالدین، کونسل کے انٹرنل آڈیٹر رام ویر سنگھ وغیرہ کی رحلت پر اپنے قلبی رنج وملال کا اظہار اور ان کے پسماندگان سے تعزیت کی ہے ۔ ڈاکٹر عقیل نے کہا ہے کہ مرحوم ادبا اور تخلیق کاروں کی خدمات کو اجاگر کرنا،ان سے نئی نسل کو آگاہی بخشنا اور ان کے افکار و نظریات پر مسلسل مذاکرہ و گفتگو کرنا ہی ان کے لیے صحیح خراج تحسین ہوگا،لہذا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے کہ اپنے مرحومین کے تئیں احسان شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے انھیں ہمیشہ اپنی مجلسوں اور تحریر و تقریر میں یاد رکھیں۔ انھوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اس بحرانی دور میں گھبراہٹ و دہشت سے دوچار ہونے کے بجائے ہمت و حوصلے سے کام لیں ،ان شاء اللہ جلد ہی یہ مشکل وقت گزر جائے گا۔