کرونا وائرس،لاک ڈاؤن اور مزدور-راحت علی صدیقی قاسمی

ہندوستان میں کرونا وائرس آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے، مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے تین سے چار ہزار کے درمیان روزانہ کرونا مریض دریافت ہورہے ہیں، جو ایک مشکل ترین اور تکلیف دہ مرحلہ ہے، مریضوں کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اور مرنے والوں کی تعداد بھی ڈھائی ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے، اور تین ہزار کے قریب پہنچا ہی چاہتی ہے،حالانکہ اس تکلیف دہ صورت حال کے باوجود اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ تیس ہزار سے زائد مریضوں نے کرونا وائرس کو شکست دے دی ہے اور صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں ـ
کرونا وائرس کے قہر سے بچنے کے لئے عالمی ادارۂ صحت نے مختلف احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ دیا تھا، جن کو لوگوں نے اپنی زندگیوں میں شامل کرلیا ہے اور ان تدابیر کو روز مرہ کے معمولات کا حصہ بنا لیا ہےـ
احتیاطی تدابیر میں سوشل ڈسٹینسنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس کو پورے طور نافذ کرنے کے لئے لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل آیا ، جس کے ذریعے کرونا وائرس کی رفتار کو کرنے کی کوشش کی گئی، ہمارے ملک میں لاک ڈاؤن کے تین مرحلے پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں،چوتھا مرحلہ بھی شروع ہوا چاہتا ہے، جس کی جانب وزیراعظم نیندر مودی نے اپنی تقریر میں اشارہ کردیا تھا، معاشی سرگرمیاں معطل ہیں، البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں مزید رعایتوں کی توقع کی جارہی ہے، حالانکہ اِن رعایتوں سے معیشت کو استحکام نصیب ہوگا یا نہیں یہ بھی بڑا سوال ہے، معاشی نظام کو مکمل طور پر درست ہونے میں کتنا وقت لگے گا، اس سلسلے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، لاک ڈاؤن کے کتنے مراحل نافذ کیے جائیں گے ؟ یہ سوال حکومت کے لیے مشکل ترین ہے ، وزیراعظم نے پہلے ہی جان بھی اور جان بھی کا نعرہ دیا ہے، وہ معاشی صورت حال کو بھی بہتر رکھنا چاہتے ہیں اور کرونا وائرس سے بھی لوگوں کا تحفظ چاہتے ہیں، جس کا عملی نمونہ لاک ڈاؤن 3 میں نظر آیا اور کرونا وائرس کی صورت حال کے مدنظر ملک کو مختلف حصوں(ریڈ زون، اورنج زون، گرین زون،) میں تقسیم کرکے معاشی نظام کو شروع کرنے کی کوشش کی گئی، جس کی کامیابی اور ناکامی ظاہر ہے، آگے سفر انتہائی مشکل ہے، کرونا وائرس کو شکست دینا اور معاشی مسائل کو حل کرنا مشکل کام ہے، جس کے لئے وزیراعظم نے ایک بڑے پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے، جس کی تفصیلات وزیر خزانہ پیش کر رہی ہیں، تین مراحل ہمارے سامنے آچکے ہیں، جن میں مزدوروں کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں سے متعلق اعلانات کیے گئے ہیں، جن کے مطالعے سے یہ بَات واضح ہوگئی ہے، ان اسکیموں کے ذریعے تینوں طبقات کو فوائد حاصل ہوں گے، لیکن ان کے چولہوں کی ٹھنڈی آگ میں حدت آجائے، اس کا امکان بظاہر نظر نہیں آتا ہے، فوری طور پور آسانی کی صورت حال نظر نہیں آتی، قرض دینا،ٹیکس جمع کرنے کی مدت میں توسیع کردینا، کسانوں کے لیے مختلف قسم کی کھیتیوں کے لئے اسکیمس کا اعلان کرنا اچھے اقدامات ہیں ، ضرورت مند افراد تک ان کا پہنچنا بھی ایک اہم مرحلہ ہےاور بروقت مدد پہنچنا بھی بڑا اہم پہلو ہے، بہرحال آپ بھی وزیر خزانہ کے جملوں کو پڑھیے اور غور کیجئے، آپ کو کیا ملا؟اگر آپ کو فوائد حاصل ہوئے تو خوشی کی بات ہے اور اگر فوری طور پر آپ کو مدد پہنچی ہے تو زہے نصیب ـ
گذشتہ دو مہینوں میں سب سے زیادہ جس طبقے نے پریشانیاں اور تکالیف برداشت کی ہیں، وہ مزدوروں کا طبقہ ہے، لاک ڈاؤن ہونے کے بعد بے روزگاری، بھوک کی شدت کرایہ ادا کرنے کی صورت باقی نہیں رہی، تو بے گھر ہوئے، مزدوروں کی زندگی کے یہ سب سے مشکل ترین ایام کہے جائیں تو غلط نہیں ہوگا، ایسی ایسی تصویریں دیکھی ہیں، جن کو دیکھ کر کسی بھی انسان کی روح کانپ جاتی ہے، مزدوروں نے بھوکے میلوں کا سفر طے کیا، جو گھروں کو پہنچے وہ خوش نصیب ہیں، بہت سوں کو بھوک نے نگل لیا بہت سے حادثات کی نذر ہوگئے، سیاسی گلیاروں میں مزدوروں کے کرایہ پر بحثیں ہو رہی ہیں، اور گاڑیوں کے پہیوں تلے کچل دیے جارہے ہیں، ابھی اترپردیش کے اوریا سے خبر موصول ہوئی کہ 24 مریض حادثے کی نذر ہوگئے، جو ڈی سی ایم میں سوار ہو کر اپنے گھر لوٹ رہے تھے، ساڑھے تین بجے حادثہ ہوا، ٹرک نے ڈی سی ایم کو ٹکر ماری، سورج نکلنے سے قبل ہی ان لوگوں کی زندگی کا سورج غروب ہوگیا، اپنے گھر والوں سے ملنے کا خواب لے کر دنیا سے رخصت ہوگئے، گھر اب ان لوگوں کی لاشیں جائیں گی، حکومت اب ضرورت کام کررہی ہے، معاملے کی جانچ ہوگی، بدھ کو مظفرنگر کے روہانہ میں بس نے چھ مزدوروں کو کچل دیا تھا، وہ بھی گھر پہنچنے میں ناکام رہے، ملک کے مختلف حصوں سے مزدوروں کے سلسلے میں تکلیف دہ خبریں موصول ہوتی رہی ہیں، حاملہ عورتوں نے پیدل سفر طے کیا ہے، بچوں نے بھوک کی شدت برداشت کی ہے، مزدوروں کے لئے مشکل ترین وقت گذرا ہے، بروقت منصوبہ بند طریقے سے مدد پہنچائی جاتی تو صورت حال کچھ اور ہوتی، کیا مزدوروں کے لئے گھر پہنچنے کا انتظام پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا؟اس وقت مریضوں کی تعداد کم تھی، وائرس پھیلنے کا خطرہ بھی کم تھا، اور اگر حکومت مزدوروں کی ہجرت نہیں چاہتی تھی، تو ان کے کھانے پینے اور رہنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جاتے، اب مزدور گھروں کو جارہے ہیں، حکومت اس میں تعاون کر رہی ہے، مزید تعاون کی ضرورت ہے، لیکن ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ مریض گھروں سے کب اور کیسے لوٹیں گے؟ ان کے بغیر معاشی نظام کس طرح حرکت پزیر ہوگا؟ گھر جانے کے بعد مزدور کس طرح اپنی زندگی کا سفر آگے بڑھائیں گے، منریگا کے تحت ضرور انہیں کچھ فائدہ حاصل ہوگا، لیکن آخر اس سے کتنے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں، مزید یہ کہ مزدوروں سے متعلق قوانین میں تبدیلی نے مزدوروں کے لیے مزید مشکل صورت حال پیدا کردی ہے، اب ان سے 12 گھنٹے کام لیا جاسکے گا، جس کے لئے مزید مزدوری بھی انہیں نہیں دی جائے گی، حکومت کو اس جانب غور کرنا چاہیے مزدور ہماری معیشت کا اہم ترین حصہ ہیں، ان کے بغیر معاشی ترقی کا خواب محض خواب ہے، جس کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہے مزدوروں کا تعاون کیجئے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیجئےـ
ہم میں سے ہر شخص کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریبوں اور مزدوروں کا تعاون کرے، اگر کسی کے پاس دو روٹیاں ہیں، تو ڈیڑھ کھائے، اور آدھی غریب کے لئے بچائے، اس مشکل وقت میں غریبوں کا تعاون کریں، ہر شخص یہ پختہ ارادہ کرے کہ اپنے گاؤں میں اپنے پڑوس میں کسی کو بھوک سے نڈھال نہیں ہونے دیں گے اور کرونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، حکومتِ ہند بھی غریبوں مزدوروں کی جانب خاص توجہ مرکوز کرےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)