کورونا وائرس: کیا آن لائن نظام زندگی مسلط کیا جارہا ہے ؟

مسعود جاوید

تقریباً پچھلے چار پانچ ماہ سے یکے بعد دیگرے پوری دنیا عالمی وبا کورونا وائرس کے قہر کی لپیٹ میں ہے اور موجودہ نسل کو اس وبا کی تاثیر کے نتیجے میں نئے نئے تجربات درپیش ہیں۔ ان تجربات میں سب سے اہم تجربہ ڈیجیٹل ورلڈ، سوشل ڈسٹینسنگ ، جو دراصل فیزیکل ڈسٹینسنگ ،جسمانی فاصلہ ہے‌۔
کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے بطور حفاظتی تدابیر لاک ڈاؤن عمل میں آیا اور لاک ڈاؤن نے مکمل آن لائن سروسز کا تجربہ کرایا۔
ہم یعنی موجودہ جنریشن کے لوگ اس معنی میں خوش قسمت ہیں کہ ہم اب تک کی روایتی چیزوں اور سروسز کے صارف بھی ہیں اور شاہد بھی۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ سلیٹ، تختی، فاؤنٹین پین ، قلم دوات کاغذ کتاب پنسل کاغذی اخبارات ، ٹائپ رائٹر، سائکلو اسٹائل ، ٹیلیکس ، ٹیلیگرام ، انلینڈ لیٹر، پوسٹ کارڈ، ٹیلی فیکس، ریڈیو سیٹ، ٹیپ ریکارڈر، واکی ٹاکی ،بڑے سائز کے شارٹ اور لونگ پلے ویڈیو ریکارڈر اور پلیئر، کیلکولیٹر، بلیک اینڈ وائٹ کیمرے، بلیک اینڈ وائٹ فوٹو اس کی نگیٹیو ، منی آرڈر سے پیسے بھیجنا، سینما ہال میں فلم، ٹھیٹر میں ڈرامے اور میوزیکل کنسرٹ، پنڈال میں مشاعرے، دیکھے سنے اور برتا ہیں۔
شاید شر میں خیر کا پہلو یہ بھی ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کے اس عبوری دور transitional period سے next generation میں منتقل ہو رہے ہیں اور اس معنی میں خوش قسمت ہیں کہ نئی جنریشن کی حصولیابیوں کےبھی شاہد اور صارف ہوں گے لاک ڈاؤن سے جس کی تجرباتی بنیادوں پر شروعات ہو چکی ہے۔ اب ہم مکمل آن لائن دنیا کے باشندے ہوں گے جہاں جسمانی قربت قابل مواخذہ ہوگی۔ بینک میں آپ کے جانے پر چارج لگے گا اور بینک عملہ کا آن لائن وقت میں خلل ڈالنے کے لئے بطور جرمانہ ہمارے اکاؤنٹ سے سو پچاس روپے کاٹ لیے جائیں گے۔ اسکول و کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم کے ادوات قلم کاغذ پنسل کی جگہ کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور انڈرویڈ موبائل فون کا استعمال ہوگا کلاس روم میں حاضری کی جگہ آن لائن کلاسز ہوں گی۔ اشیاے خوردونوش اور ضروریات کی تمام چیزوں کے آرڈر آن لائن دیے جائیں گے اور ہوم ڈلیوری ہوگی۔ تجارت گھر بیٹھے آن لائن ہوگی۔ عدالتوں کی کارروائی آن لائن ہوگی۔ ججز وکلا اور موکلین کا زوم zoom پر آن لائن اجلاس ہوگا، آن لائن بحث ہوگی تاریخ ملے گی اور حکم سنایا جائے گا۔ حکومتی اور غیر حکومتی اداروں سے مطلوبہ لائنسنس اور پرمٹ کے لئے آن لائن درخواست دی جائے گی اور آن لائن پرمٹ جاری ہوگی یا ریجیکٹ کا آن لائن نوٹیفکیشن آئے گا ۔ گورنمنٹ کا ریوینیو آن لائن جمع کرنا ہوگا۔ فلمیں ڈرامے اور موسیقی کے کنسرٹ سینما ہال اور تھیئٹر کے بجائے گھر بیٹھے آن لائن محظوظ ہونا ہوگا۔ شادی بیاہ اور دوسری تقریبات کے لئے کاغذی دعوت ناموں کی جگہ سوشل میڈیا کے توسط سے مدعو کیا جائے گا۔ نوشے اور دلہن کو تحفے تحائف کی ڈلیوری آن لائن ہوگی۔ ہر قسم کے مراسلات paperless پیپرلیس ہوں گے اور روپے پیسے کی لین دین نقد کی بجائے کیش لیس cashless ہوگی۔ ڈیلی مارکیٹ ،سوپر مارکیٹ، ڈیپارٹمنٹل اسٹور، مالز، اور سروس پرووائیڈر آفسز بے وقعت ہو جائیں گے پھل فروٹ سبزی سے لے کر ہارڈ ویئر اور ضرورت کی تمام اشیاآن لائن پسند کی جائیں گی آرڈر کی جائیں گی اور ہوم ڈلیوری ہوگی۔ بس ٹرین اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ پیپرلیس آن لائن لینا ہوگا۔ طبی معائنہ یعنی ڈاکٹر فزیشین اور سرجن سے کنسلٹیشن آن لائن زوم اور ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

عالمی طور پر کورونا وائرس سے حفاظتی تدابیر کے طور پر جہاں ہر ملک میں لاک ڈاؤن سوشل ڈسٹینسنگ کا بہترین ذریعہ رہا وہیں ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں آن لائن زندگی کا تجربہ بھی بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس کے اس عبوری دور سے نئے عالمی نظام کی طرف منتقل ہونے کا اعلان سن کر کسی کو اچانک شاک نہیں لگے گا حیرانی نہیں ہوگی آن لائن کوئی کچھ ایسا نیا کام نہیں ہوگا جس کے بارے میں سن کر لوگ ششدر رہ جائیں گے۔ اس لئے ابھی سے ہی Gennext اور مکمل آن لائن زندگی کے لئے ذہن بنا لیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*