کرونا وائرس کی دوسری لہر،احمد آباد میں 57 گھنٹے کا کرفیو،پورے شہر میں خاموشی،سڑکیں سنسان،مندر مقفل

احمد آباد:کرونا کی دوسری لہر نے ایک بار پھر گجرات کو اپنی زد میں لینا شروع کردیا۔ بالخصوص احمد آباد کی حالت اور بھی خراب ہے۔ اس کی وجہ سے جمعہ کی صبح 9 بجے سے پیر صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ کرفیو کے پہلے دن پورے شہر میں خاموشی چھائی رہی ۔ مندروں میں تالے جڑدیے گئے ۔ سڑکوں پربرائے نام ہی آمد ورفت رہی ،اسی کے ساتھ ہی حساس علاقوں میں پولیس کا گشت جاری ہے۔ کرفیو قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سختی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ شہر کے متعدد مقامات پر بغیر کسی چیکنگ کے داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔کرفیو کے رہنما اصولوں کے مطابق شہر میں بھاری گاڑیوں ، بس اور ٹرکوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ باہر سے آنے والی بسوں کو بائی پاس پر ہی روکا جارہا ہے۔ مسافروں کو گھروں تک لے جانے کے لیے بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کی نجی گاڑیوں پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم ، ان کے لیے ہدایات کی ہدایات پر عمل کرنا ہے۔کل شام محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں کرفیو کے دوران دی جانے والی ’رعایت ‘کا ذکر کیا گیا تھا۔ دودھ ، میڈیکل ، میونسپل سروس ، پٹرول اور گیس اسٹیشنوں ، دوا ساز کمپنیوں ، بجلی اور پانی فراہم کرنے والے ، ڈاکٹروں اور میڈیا جیسے ضرورریات زندگی پر کرفیو کی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا، تاہم ان کو شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہوگا۔ریل اورطیارہ سے احمد آباد کا سفر کرنے والے مسافروں کو بھی کرفیو کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر ٹکٹ ہے تو وہ سفرکے مجاز ہیں ۔