کورونا وائرس کے سبب میونخ سکیورٹی کانفرنس مؤخر

برلن:جرمنی کے شہر میونخ میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس کے منتظمین نے  نو دسمبر کو اعلان کیا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب اس بار کانفرنس کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے چیئرمین ولفگانگ ایشینگیر نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس اسے موخر کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ جیسے ہی حالات سازگار ہوئے، 2021 میں ہی ایک حقیقی (میونخ سکیورٹی کونسل) منعقد ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بار کی کانفرنس 19 فروری کو ہونی تھی اور اس مناسبت سے اسی روز ایک اعلی سطحی آن لائن پروگرام کے انعقاد کی بھی بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جرمنی جنوبی شہر میونخ کی سالانہ سکیورٹی کانفرنس عالمی سطح پر سلامتی سے متعلق اپنی نوعیت کا انتہائی اہم اجتماع ہوتا ہے۔ یہ ہر برس فروری کے مہینے میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس میں متعدد ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ دفاع اور سلامتی کے امور سے متعلق دنیا کے ماہرین بھی شرکت کرتے ہیں۔کانفرنس کے چیئرمین ولفگانگ ایشینگیر نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات چیت میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اگر کانفرنس بہت جلدی بھی ہوئی تو اس میں اپریل تک کا وقت لگ سکتا ہے۔عالمی وبا کے سبب ہمیں اس کے کئی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اس میں شرکاء کی تعداد کم کرنا بھی شامل ہے۔کانفرنس کے منتظمین کو توقع ہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن بھی حلف برداری کے بعد اس میں شرکت کریں گے۔ جو بائیڈن سن 1980 سے مسلسل اس میں شرکت کرتے رہے ہیں اور گزشتہ برس بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔اشینگر کا کہنا تھاکہ بائیڈن کی ٹیم کو اس بات میں دلچسپی ہے کہ سابق سینیٹر اور نائب صدر کی صدرات کے دوران بھی شمولیت جاری رہے۔ اور مجھے اس کے ٹھوس اشارے ملے ہیں۔” اگر بائیڈن کی شرکت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کانفرنس کی 55 سالہ تاریخ میں شرکت کرنے والے وہ پہلے حاضر سروس امریکی صدر ہوں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*