کورونا وائرس: جمعہ و جماعت کے متعلق مولاناولی رحمانی کی ہدایت

پٹنہ:امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا محمد ولی رحمانی نے موجودہ حالات میں جب کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہر طرف خطرناک صورت حال بن چکی ہے، مسجدوں میں جمعہ و جماعت کے تعلق سے امارت شرعیہ کی طرف سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ مختلف مقامات سے برابر فون آرہے ہیں ا ور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں جب کہ کورونا وائرس کا عذاب بہار پہنچ چکا ہے اور لوگوں کی موت شروع ہوچکی ہے، حکومت بہار نے احتیاطی طور پر لازمی خدمات کے شعبوں کو چھوڑ کر تمام شعبوں کو بند کر دیا ہے، ایسی خطرناک صورت حال میں مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے سلسلہ میں کیا ہدایت ہے؟
اس سلسلہ میں دفتر امارت شرعیہ میں نشست ہوئی، جس میں میرے علاوہ حضرت قاضی شریعت، حضرت مفتی صاحب اور تمام مفتی وقاضی صاحبان، نیز علماء کرام نے شرکت فرمائی اور تفصیلی غور و خوض اور گفتگو کے بعد یہ ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ:
مسجدوں کی تعمیر ہی جماعت کے لیے کی جاتی ہے اور مسجد کو آباد کرنا ایمان والوں کی اہم ذمہ داری ہے، لیکن موجود ہ حالات میں نماز گھروں میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، گھر میں نماز ادا کرنے سے نماز ہو جائے گی، اور گھر میں نماز پڑھنے والوں کو ثواب ملے گا۔مگر مسجدوں کو بند کرد ینا یا جماعت کاانتظام نہ کرنا غلط ہو گا۔مسجدوں میں اذان کی پابندی ہو نی چاہئے، جمعہ وجماعت کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے، چاہے نمازیوں کی تعداد تھوڑی ہو۔
احتیاط کے طور پر صفوں میں فاصلہ بڑھانا چاہئے، بوڑھوں، مریضو ں، بچوں اور ان جوانوں کو جنہیں بخار، نزلہ زکام یا بدن میں اینٹھن ہو، انہیں گھر میں ہی نماز پڑھنی چاہئے۔احتیاط کے پیش نظر جوان حضرات بھی گھر میں فرض نماز ادا کر سکتے ہیں، ان کی نما ز بلا کراہت درست ہو گی۔صابن سے ہاتھ دھو کر،وضو پور ا کر کے سنتیں گھر میں ادا کی جائیں اور مسجد میں نماز ادا کرنے والے صرف فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کریں، سنت اور نفل گھر میں آکر پڑھیں، مصافحہ اور معانقہ سے بچیں۔ ایسے نازک موقعہ پر ہر مرد و عورت کو استغفار کا اہتمام کرنا چاہئے اور اللہ کی طرف انفرادی طریقہ پر رجوع کرنا چاہئے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*