کورناوائرس اور غریب مزدور-محمد سالم سَرَیَّانوی

کورنا وائرس کی مہاماری پوری دنیا میں جاری ہے، اس بیماری سے جوجھنے والے ممالک میں وطن عزیز ’’ہندوستان‘‘ بھی ہے، جو کورونا سے متاثر ہونے میں بعض رپورٹوں کے مطابق بارہویں نمبر پر ہے، ہندوستان میں اس وبا کو شروع ہوئے لگ بھگ چار مہینے ہوگئے ہیں، اِس وقت کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد اسی ہزار (80,000) سے متجاوز ہوچکی ہے، اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے آگے بڑھ گئی ہے، ان سب کے بیچ ملک میں تیسرے مرحلے کا لاک ڈاؤن جاری ہے، بہت جلد چوتھے مرحلے کا لاک ڈاؤن بھی شروع ہوجائے گا، جیسا کہ وزیر اعظم نے اشارہ دیا ہے، اس بیماری اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی جو حالت بنی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے، ’’صحت‘‘ جو انسانی زندگی کا جزو ہے اس بیماری کے چلتے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اسی طرح تعلیم، زراعت، ٹیکنیکل اور مذہبی امور بھی ملک میں باعث چیلنج ہیں، لیکن ان سب سے بڑھ کر جو چیلنج ہے وہ بھوک اورغربت کا ہے، لاک ڈاؤن کے چلتے مرکزی حکومت اس چیلنج پر کتنا فکر مند رہی ہے وہ دو دو چار کی طرح واضح ہے، بیماریاں آتی جاتی رہتی ہیں، یہ ایک قدرتی نظام ہے اس نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا، لیکن اس کی بنیاد پر انسانی زندگی کے چلنے والے پہیوں کو اچانک روک دینا یہ انسانیت کے خلاف ہے، وطن عزیز میں لاک ڈاؤن کی شروعات سے ہی مزدوروں اور غریبوں کے مسائل منہ پھاڑے ہوئے تھے، جیسا کہ گجرات اور ممبئی وغیرہ میں ہوا، لیکن ان کو طاقت کے بل بوتے پر دبا دیا گیا، لیکن وقتا فوقتا ان بے چارے غریبوں، مزدوروں اور بے بسوں کی قوت برداشت جواب دیتی رہی اور وہ وقفے وقفے سے جاگتے رہے، بالآخر حکومت کو بھی ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور انھیں اجازت دینی پڑی اور گھر پہنچانے کا بادل ناخواستہ کچھ نہ کچھ انتظام کرنا پڑا۔
حکومت کی طرف سے جاری لاک ڈاؤن کا صاف اور سیدھا مطلب یہ تھا کہ جو جہاں ہے وہیں رک جائے اور اپنے رہنے والے علاقوں سے منتقل نہ ہو، چنانچہ حکومت کی طرف سے جاری گائڈ لائن میں یہ بات بالکل واضح طور پر درج تھی، لیکن وقت گزرتے گزرتے لاک ڈاؤن کے اس مطلب کو کھرچ کر پھینک دیا گیا اور اس مطلب کو لاک ڈاؤن سے باہر کردیا گیاہے!
در اصل لاک ڈاؤن کا یہ مطلب اس لیے بے کار ہوگیا؛ کیونکہ مالداروں اور امیروں کا ایک بڑا طبقہ دوسرے ممالک میں پھنس گیا تھا اور ان کے بچے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں محبوس ہوگئے تھے، مجبوراً حکومت کو اس حکم نامہ میں تبدیلی کرنی پڑی، پھر سرکاری طور پر باقاعدہ کوٹہ سے طلبہ کو لایا گیا، اسی ذیل میں مزدوروں کا غصہ پھر سے پھوٹا اور وہ بے سہارا پیدل گھر جانے پر مجبور ہوئے، بالآخر حکومت کو بھی غریبوں اور مزدوروں کو اپنے گھر جانے کی اجازت دینی پڑی، تب سے مسلسل نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، لیکن یہ سب کچھ مزدرو طبقہ اپنے بل بوتے پر کررہا ہے، حکومت کا تعاون اس میں شامل حال نہیں ہے۔ اور پھنسے ہوئے افراد کو ان کے گھر گاؤں تک پہنچانے کے سلسلے میں حکومت کا دہرا رویہ بھی بالکل واضح ہے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ غریب مزدور، کیوں اپنے گاؤں محلے اور گھر جانے کے لیے جان کی بازی لگا رہے ہیں، وہ ہر قیمت پر شہر چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور وہ بہر صورت لمبا لمبا فاصلہ پیدل طے کرنے، یا سائیکل گاڑی وغیرہ سے طے کرنے پر بھی بضد ہیں؟؟؟ آخر اس شدت کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟؟
یہ مزدوروں اور غریبوں کی نقل مکانی کیوں ہورہی ہے؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے؛ اس لیے کہ جس نے کمانے کے لیے گھر چھوڑ دیا ہے، اپنے گاؤں محلے کو خیرباد کردیا اور شہروں کے اندر روزی روٹی کررہا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ گھر گاؤں محلے میں کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، وہاں سہولتیں نہیں ہیں، پھر بھی وہ کیوں نقل مکانی پر اَڑا ہوا ہے، آخر اس کی کوئی تو وجہ ہوگی؟؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے انھی نقل مکانی کرنے والوں سے پوچھنے کی ضرورت ہے، چنانچہ متعدد نقل مکانی کرنے والے افراد نے جو وجوہات بتائی ہیں یقینا وہ قابل غور ہیں اور موجودہ حکومت کے لے بدنما داغ بھی ہیں، متعدد سفر کرنے والے افراد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں روزی روٹی کا کوئی بند وبست نہیں ہے، ہم کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی نہیں کرپارہے ہیں، اس کے لیے ہمارے پاس روپیے نہیں ہیں، ایسے ہی بیماری کی صورت میں علاج کا کوئی نظم نہیں ہے، جس مکان میں رہ رہے ہیں اس کا کرایہ بھی دینا ہی ہے، بجلی کا بل الگ سے دینا ہوگا، بچوں کے مسائل الگ سے ہیں، بڑے شہروں میں جہاں ہم مقیم ہیں، ایک چھوٹے سے کمرے میں کئی کئی لوگ رہتے ہیں ایسے میں سماجی فاصلے پر عمل کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ایسی صورت میں شہروں میں رہنا گویا کہ اپنے کو جہنم میں رکھنا ہے، اس سے تو اچھا ہے کہ گھروں کو چلے جائیں، کم از کم رہنے اور کرایے وغیرہ کے مسائل تو نہیں رہیں گے، کہیں نہ کہیں سے کھانے کا انتظام ہوہی جائے گا، وہاں اپنے لوگ ہیں، زندگی گزارنے میں تعاون کریں گے اور اگر مرنے کی باری آئے گی تو کم از کم اپنے گاؤں محلے میں مریں گے، خاندان میں مریں گے، یہاں شہروں میں گھٹ کر اور بھوکے پیاسے جان دینے سے لاکھوں درجہ اچھا ہے۔
یہ عموی وجوہات ہیں جو نقل کی گئیں، اسی لیے نقل مکانی کرنے والوں کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے، ڈنڈے کھارہے ہیں، گالیاں سن رہے ہیں، بھوک اور پیاس کو برادشت کررہے ہیں، پیدل چلنے میں پاؤں کے چھالے بھی قبول کر رہے ہیں، ایک ایک ٹمپو پر دس دس پندرہ پندرہ لوگ سفر کے لیے تیار ہیں، لیکن اس سب کے باوجود بس ایک ہی دھن ہے کہ کسی طرح گھر پہنچ جائیں، چاہے کچھ بھی ہوجائے، اگر سرکاری طور پر اجازت مل جائے تو بہت اچھا، ورنہ ذاتی طور پر گھر جائیں گے، یہ لوگ ٹرین سے سفر کرنے میں دوگنا رقم بھی دینے کے لیے تیار ہیں، اپنی قیمتی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر ٹرکوں سے بھی سفر کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کے لیے بھاری رقم بھی چکانی پڑے، ایسے بے شمار واقعات ہیں جن میں لوگوں نے ٹرکوں سے سفر کیا اور گھر پہنچنے کے لیے پچاس پچاس ہزار تک کی رقم ڈرائیور کو دینا منظور کیا۔
اس سب کے بعد جو مرنے کے واقعات اور حادثات ہورہے ہیں اور بلا کسی تکلف کے جانوں کا ضیاع ہورہا ہے وہ اتنا افسوس ناک پہلو ہے کہ لکھنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، ان کی ترجمانی کے لیے میرے پاس حروف نہیں ہیں، مناظر کو دیکھ آنکھیں چکرا جاتی ہیں، دل پھٹنے لگتا ہے، کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں، زبان گنگ ہوجاتی ہے!! ہائے افسوس
لاک ڈاؤن کے بعد سے نقل مکانی کرنے والوں کی کثیر تعداد ہے، ان میں ایک تعداد اُن افراد کی بھی ہے جو اسی دوران مشکلات ومصائب کو برداشت نہ کرسکے اور اس دنیا سے چل بسے، ایسے افراد کے سرکاری آنکڑے جاری نہیں کیے گئے ہیں اور نہ جاری کرنے کی امید ہے، اسی طرح ملکی میڈیا سے بھی یہ آنکڑے غائب ہیں، بعض نیوز چینلوں نے معدودے آنکڑے نجی طور پر شائع کیے ہیں، ایسے واقعات کی سب سے زیادہ تشہیر سوشل میڈیا ذرائع سے ہورہی ہے جو کہ آزاد ہیں، اور ان افراد کا باقاعدہ سروے نہیں کیا گیا ہے، اب تک سینکڑوں واقعات ہماری نظروں سے گزر چکے ہیں، ایسے میں تعداد کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے، سفر کے مشکلات اور بھوک کو برداشت نہ کرنے کی بنیاد پر کم از کم تین سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ان میں بچے بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں، مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں۔
یہ سابقہ مرحلہ نہایت تکلیف دہ ہے، لیکن اس مرحلے کے بعد ایک اور مرحلہ ہے جس کی حقیقت کی تعبیر کرنا ممکن ہی نہیں لگتا ہے، وہ ہے ’’حکومت کی بے حسی‘‘ کا مرحلہ، آپ اس کو جو چاہیں نام دے سکتے ہیں، واقعۃً اس پورے پس منظر میں تکلیف وافسوس کا جو آخری مرحلہ ہے وہ یہی ہے، قرآنی تعبیر میں یہ وہی مرحلہ ہے جس کو پتھروں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے، یا پھر جن لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے وہ اسی زمرے میں داخل ہے۔
حکومت صرف کرسی پر بیٹھنے اور کمان ہاتھ میں لینے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ حکومت نام ہے ایک ایسے نظام کے نافذ کرنے کا جس میں امیر غریب سب برابر ہوں، جس میں تاجر اور مزدور ہر ایک کو مساوی مراعات حاصل ہوں، حکومت اپنے ماتحت افراد کے لیے معاشی، علمی، تمدنی، سماجی اور رفاہی وغیرہ امور کے لیے فکر مند ہو، حکومت کی نگاہ میں عدل وانصاف کا پیمانہ ہر ایک کے لیے یکساں ہو، اگر وہ کسی کے لیے اچھے کام کرے تو دوسرا بھی اس کا حقدار ہو۔
لیکن اس وقت مرکزی حکومت کا کردار نہایت تکلیف دہ بلکہ سفاکانہ اور جابرانہ ہے، بلفظ دیگر اس کو فسطائیت اور ڈکٹیٹر شپ کا نام دیا جاسکتا ہے، حکومت کا کردار کسی بھی صالح اور ترقی یافتہ حکومت کا کردار نہیں ہے، اور یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح ظلم وبربریت کے ساتھ حکومت زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتی ہے، تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے، جنہوں نے سالوں اپنی رعایا پر ظلم ڈھایا اور ان کو ستم کا مشق بنایا، لیکن وہ ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں چل سکے، وہ دن بھی آیا کہ ان کا تختہ پلٹ دیا گیااور دوسرے لوگ حکومت پر براجمان ہوگئے؛ اس لیے موجودہ مرکزی حکومت عوام اور رعایا کے لیے فکر مند ہو، ہر ایک کی فکر کرے، مزدوروں اور غریبوں کے لیے مناسب حل تلاش کرے، ان کی روزی روٹی اور نقل مکانی کے اسبا پ پیدا کرے اور اپنی رعایا کے لیے یکساں مراعات اور سہولیات کا انتظام کرے، ورنہ حالات زمانہ میں تبدیلی خدائی دستور ہے جو ہوتی رہتی ہے اور کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)