کرونا وائرس:امریکہ میں مسلسل تیسرے روز ریکارڈ اموات، مزید 4000 افراد ہلاک

نیویارک:امریکہ میں گزشتہ تین روز سے کرونا وائرس سے ریکارڈ اموات رپورٹ ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں عالمی وبا سے مزید چار ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جب کہ برازیل میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد جمعرات کو دو لاکھ کا ہندسہ عبور کر گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برازیل میں جمعرات کو 87 ہزار 843 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 1524 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے۔ اس اضافے سے ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد دو لاکھ 498 تک پہنچ گئی ہے۔برازیل کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں کیسز کے لحاظ سے امریکہ اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر ہے جب کہ اموات کے اعتبار سے دیکھیں تو برازیل صرف امریکہ سے پیچھے ہے۔برازیل میں عالمی وبا کے آغاز سے اب تک 79 لاکھ 61 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔امریکہ میں گزشتہ تین روز سے کرونا وائرس سے ریکارڈ اموات رپورٹ ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں عالمی وبا سے مزید چار ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔جمعرات کو امریکہ میں 4085 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے جو ملک میں وبا کے آغاز سے اب تک ایک دن میں ہونے والی اموات کا نیا ریکارڈ ہے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس سے قبل منگل اور بدھ کو بھی ریکارڈ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔ منگل کو 3700 سے زائد افراد اور بدھ کو 3854 افراد کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔امریکہ کرونا وائرس کے کیسز اور اموات کے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے جہاں اب تک دو کروڑ 15 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور تین لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین تیار کرنے والی امریکی کمپنی موڈرنا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکسین دو سال سے زائد عرصے تک وائرس سے محفوظ رکھے گی۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیفان بانسال نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں درست نہیں کہ ویکسین محض چند ہفتوں کے لیے تحفظ دے گی۔ ان کے بقول انسانوں میں اینٹی باڈیز بہت آہستہ آہستہ ختم ہوتی ہیں۔اس لئے یہ ویکسین طویل عرصے تک وائرس سے بچانے میں مددگار ہو گی۔ان کا کہنا تھا کمپنی بہت جلد یہ بھی ثابت کرے گی کہ موڈرنا ویکسین برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی مؤثر ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*