19 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

کوروناوائرس: احتیاطی تدابیرپرعمل کرناوقت کاتقاضا:ڈاکٹر مشتاق احمد

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس جیسے مہلک وبا سے جوجھ رہی ہے اور عالمی برادری اس سے نجات حاصل کرنے کی ہر وہ کوشش کر رہی ہے جس سے انسانوں کی جان بچائی جا سکے ۔چونکہ اب تک اس وبا پر قابو پانے کیلئے کوئی طبی سہولتوں کا پتہ نہیں چلا ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس اس کی ویکسین نہیں ہے ۔دنیا کے تمام تر قی یافتہ ممالک کو بھی اس کی ویکسین بنانے کیلئے ایک سے دو سال کی مدت درکار ہے ۔اس لئے فی الحال اس سے نجات دلانے کیلئے ایک ہی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ اجتمائی زندگی سے پرہیز کریں اور انفرادی زندگی کو اپنائیں تا کہ اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے کیوں کہ یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچ جاتا ہے ۔اب تک کی طبی اور سائنسی تحقیق نے یہی وجہ بتائی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کم ملے اور بھیڑ سے دور رہیں ۔اس لئے کہ چین کے بعد اٹلی ایران اور امریکہ میں یہ مرض کافی تیزی سے پھیلا ہے محض اس لئے کے آغاز میں لوگوں نے اس سے جانے انجانے لا پرواہی کی ہے ۔اس لئے بھارت کی حکومت نے وقت رہتے ہوئے اس سے بچنے کیلئے ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے کہ لوگ بھیڑ سے پرہیز کریں اور اپنے آپ کو اپنے گھڑوں میں کچھ دنوں کے لئے قید کر لیں ۔اگر کوئی ایمرجنسی ہے تو اس کے لئے ہی گھروں سے باہر جانے کی ضرورت ہے ۔حکومت نے یہ قدم اس لئے اٹھایا ہے کہ ہمارا ملک کثیر آبادی والا ملک ہے اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں طبی سہولتوں کی کمی ہے ۔اس لئے ملک میں لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے ۔مگر اس وقت دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مذہب کا حوالہ دے کر اس کی اندیکھی کر رہے ہیں ۔اگر چہ اب ہماری مذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی اعلان کردیا گیا ہے، اس قدرتی آفت سے بچنے کیلئے حدیث کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے کہ حضور ﷺ نے اس طرح کی وبا سے پرہیز کرنے ور جس جگہ پر قیام ہے وہیں پر اس وقت تک محدود رہنے کی ہدایت دی ہےجب تک اس وبا کا زور کم نہ ہو جاۓ ۔علما ےکرام نے ایسے وقت میں انفرادی طور پر نماز ادا کرنے کی بھی بات کہی ہے ۔حکومت نے اس کی خطر ناک حالت سے قبل جو قدم اٹھایا ہے وہ ہم سبھوں کے لئے مفید ثابت ہوگا ۔مگر کچھ جگہوں سے خبر مل رہی ہے کہ کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور انتظامیہ کو اس کے خلاف کارروائی کرنی پڑی ہے ۔ایسی صورتحال میں خاص طور پر اقلیت طبقے کی طرف سے کسی طرح کی کوتاہی نہیں کی جانی چاہئے اور اکثریت طبقے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے کہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ہاں تھالی اور تالی پیٹنے جیسی چیزوں سے دور رہیں کہ اس کا تعلق اس وبا کو روکنے سے نہیں ہے ۔یہ بات بھی یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر اس لاک ڈاؤن کے متعلق کوئی مذاق قرار پانے والی تصویربھی ایک دوسرے کو شیر نہیں کرنی چاہئے ۔کہ یہ وقت انسانیت کو بچانے کیلئےٹھوس اقدامات کئے جانے کا ہے ۔کسی بھی طرح کے ہنسی مذاق کانہیں ہے ۔
اس وقت اپنے وطن ہندوستان کی سیاسی فضا کیسی مکدر ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کہ ہمارے ہر ایک حرکت و عمل کو متنازعہ بنانے کی سازش کی جاتی ہے اس لئے ہمیں اس وقت زیادہ محتاط اور ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہے ۔کسی بھی طرح خود کو ملک کے مزاج کے خلاف کھڑا نہیں کرنا ہے کہ اس ملک میں اپنے وجود کی لمبی جنگ لڑنی ہے ۔ اس وقت جب قدرتی آفت سے مقابلہ ہے تو اجتمای فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے ۔گذشتہ روز لاک ڈاؤن کی مدت میں کئی جگہوں پر دکان کھلنے اور بند کرنے کو لیکر بھی تنازع ہوا ہے اور پولس نے کاروائی کی ہے ۔اس طرح کے عمل سے بھی غلط پیغام پہنچایا جاتا ہے اس لئے سماج دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بھی بنانا ہوگا اور اس کے لئے کسی قسم کے جذباتی انداز میں فیصلہ نہیں کیا جائے تو بہتر ہوگا ۔ہم سب کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ اللّه نے ہم کو اشرف المخلوقات کابنایا ہے اس لئے اس وقت وہ فرض بھی ادا کرنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے مددگار ثابت ہو سکیں ۔ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی قسم کی لا پرواہی سے انسانی معاشرے کو خسارہ پہنچے اور حکومت کی نگاہ میں ہم قصور وار ٹھہریں ۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے مخالفین کو یہ موقع مل جائے کہ وہ زہر افشانی کر سکیں ۔اس لئے دوسروں کے مقابلے ہمیں زیادہ احتیاط بھی کرنا ہے اور حکمت عملی کے ساتھ حکومت کے احکام کو بھی ماننا ہے کہ کسی بھی جذباتی ضد اور فیصلے سے ہمیں دونوں طرح سے نقصان پہنچ سکتا ہے، اس وبا سے بھی متا ثر ہونگے اور انتظامیہ کی نگاہ میں بھی مشکوک بنیں گے ۔جب اکثریت طبقہ ہر طرح کے تجارتی خسارہ کو برداشت کرنے کو تیار ہے تو پھر ہمارا مطالبہ کیا اہمیت رکھتا ہے کہ دکانوں کو کھلا رکھنے دیا جائے۔ہم تجارت کے میدان میں کس مقام پر ہیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے اور اس وقت ملک کے ساتھ ساتھ کھڑا رہنا ہے کہ یہی وقت کا تقاضہ ہے ۔
مختصر یہ کہ اس قدرتی آفت سےمقابلہ کرنے کے لئے عقل مندی اور حکمت عملی دونوں کی ضرورت ہے اور جان بوجھ کر اپنے سر الزام نہیں لینا ہے کہ ہمارے ایک بیان اور قدم سے اکثریت طبقے کو یہ موقع مل جائے کہ قدرتی آفت کے وقت ہماری راہ ان سے الگ تھی اور ان میں جو ہمارے خلاف ہیں وہ اس کی آڑ میں نفرت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment