کرونا وائرس:130 اضلاع ریڈ زون اور 319 گرین زون میں تقسیم

نئی دہلی:مرکزی وزارت صحت نے ملک کے تمام 733 اضلاع کے لئے کلر میپ جاری کیا ہے جس میں کرونا وائرس مریضوں کی تعداد کی بنیاد پر انہیں ریڈ، اورنج یا گرین زون میں تقسیم کیا ہے۔ دارالحکومت دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں سمیت ملک کے مرکزی وزارت صحت نے ملک کے تمام 733 اضلاع کے لئے کلر میپ جاری کیا ہے جس میں کرونا وائرس مریضوں کی تعداد کی بنیاد پر انہیں ریڈ، اورنج یا گرین زون میں تقسیم کیا ہے۔ دارالحکومت دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں سمیت ملک کے 130 ضلع ریڈ زون میں ہیں۔ وہیں 319 اضلاع کو گرین زون میں رکھا گیا ہے۔ ریاستوں کو کلر کوڈنگ کی بنیاد پر روک تھام کے اقدامات کے کرنے اور احتیاط کو یقینی بنانے کو کہا گیا ہے۔تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو خط لکھ کرمرکزی صحت سکریٹری نے ریڈ زون علاقوں میں مقرر روک تھام حکمت عملی کے تحت اقدامات مکمل کرنے کو کہا ہے۔ سیکرٹری پریتی سودن کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست چاہیں تو دیگر اضلاع یا علاقوں کو بھی ریڈ زون نامزد کر سکتے ہیں۔ گرین زون اس ضلع کو کہا جائے گا جہاں یا تو کوئی کیس نہیں ہے یا گزشتہ 21 دونوں کے دوران کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔وزارت صحت کے مطابق ایک سے زیادہ کارپوریشن علاقوں والے ضلع میں ہر کارپوریشن کے تابع علاقہ ایک یونٹ کہلائے گا۔ کسی ایک یا زیادہ یونٹ میں اگر 21 دنوں تک کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں آتا تو اسے ایک کلر زمرے نیچے کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کسی اورنج زون علاقے میں 21 دن تک کووڈ 19 کیس درج نہیں ہوتا تو اسے گرین زون میں رکھا جا سکتا ہے۔ ریاست اضافی علاقوں کو ریڈ یا اورنج نامزد کر سکتے ہیں لیکن مرکزی وزارت صحت کو مطلع کئے بغیر ان کے زمرے نہیں کم کر سکتے۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ریڈ زون کی تعداد کم ہوئی ہے اس کے ساتھ گرین زون والے علاقوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ ایک ہفتے پہلے ملک میں جہاں 207 علاقے غیر ہاٹ سپاٹ یا اورنج زون میں تھے وہیں اب 284 ضلع اس زمرے میں ہیں۔ گزشتہ 16 اپریل کو جاری وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 170 ضلع ریڈ زون میں تھے جو اب گھٹ کر 130 ہو گئے ہیں۔ گرین زون کی تعداد 16 اپریل کو 359 تھی جو اب 319 ہو گئی ہے۔کابینہ سکریٹری راجیو گوابا کی قیادت میں 30 اپریل کو ریاستوں کے اہم سیکرٹریز اور صحت سکریٹریوں کی ویڈیو کانفرنسنگ کے اجلاس کے بعد یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے مختلف اضلاع کے کلر زون کا جائزہ لیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کے 15 سے زائد معاملے والے اضلاع یا ان علاقوں کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے جہاں مریضوں کی تعداد چار یا اس سے کم دنوں میں دوگنا ہو رہی ہے۔