کرونا ویکسین اور افواہوں کا بازار-سہیل انجم

مئی کا مہینہ ہندوستان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ اس مہینے میں کرونا کی دوسری لہر نے ایسی تباہی مچائی کہ ہر شخص آہ و بکا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اپریل اور مئی کے مہینے میں کرونا سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ نہ تو شمشانوں میں چتا جلانے کی جگہ تھی اور نہ ہی قبرستانوں میں تدفین کی۔ دریاؤں میں الگ لاشیں تیر رہی تھیں۔ لیکن اب صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ لیکن تیسری لہر کی بھی پیشین گوئی کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری کر رہی ہے۔ اسی درمیان یہ بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے کہ کروناوائرس قدرتی تھا یا انسانی ہاتھوں کی کارستانی۔ جب کرونا نے چین کے شہر ووہان سے اپنی تباہی مچانی شروع کی اور پھر وہ پوری دنیا میں پھیل گیا تو اس وقت کے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے چینی وائرس کا نام دیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ وائرس چینی لیباریٹری سے نکلا ہے۔ بعد میں انھوں نے اسے چینی وائرس کہنا بند کر دیا۔ اس وقت یہ بحث چھڑی تھی کہ کیا چین نے اسے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بنایا تھا۔ لیکن پھر یہ بحث دب گئی تھی۔ البتہ اب جبکہ امریکہ کے دو ماہرین امراض نے اس وائرس کے نکلنے کی جگہ کا پتہ لگانے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کی اپیل کی ہے تو ایک بار پھر یہ بحث زندہ ہو گئی ہے۔ دونوں ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی جڑ کا پتہ نہیں لگایا گیا تو کووڈ۔19 کے بعد کووڈ۔26 اور کووڈ۔32 کا خطرہ دنیا پر منڈلانے لگے گا۔ امریکی صدر جو بائڈن نے بھی اس وائرس کے نکلنے کی جگہ کا پتہ لگانے پر زور دیا ہے۔
بہرحال ماہرین کے درمیان یہ بحث جاری رہے گی۔ فی الحال اس سے نمٹنے کا واحد اور موثر طریقہ ویکسی نیشن ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ خود ہندوستان میں بھی زور شور کے ساتھ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حالانکہ ویکسین کی قلت پیدا ہو گئی ہے لیکن ویکسین بنانے والی کمپنیاں اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وسط جولائی تک یومیہ ایک کروڑ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک 22 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ جن کی ایک بڑی اکثریت دونوں خوراکیں لے چکی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے تاکہ اگر تیسری لہر آئے تو اس کا زیادہ اثر نہ ہو۔ ہندوستان میں ویکسین لگانے کا آغاز 16 جنوری سے ہوا تھا۔ شروع میں لوگوں میں اس کے تعلق سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بہت کم لوگ ویکسین مراکز پر پہنچ رہے تھے۔ لیکن جب دوسری لہر نے ہلاکت خیزی شروع کی تو لوگوں کو احساس ہوا کہ انھیں اگر اپنی زندگی بچانی ہے تو ویکسین لگوانی ہوگی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
اس درمیان ویکسین کے تعلق سے الگ الگ قسم کی افواہیں بھی پھیلتی رہیں۔ کسی نے کہا کہ ویکسین کے ذریعے انسانی جسم میں چپ ڈالی جا رہی ہے تو کسی نے کچھ اور کہا۔ اس بارے میں کئی ویڈیوز بھی وائرل ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک بڑے میاں ویکسین لگنے کی جگہ پر چمبک لگا کر بتا رہے ہیں کہ دیکھو یہاں مقناطیس چپک رہا ہے دوسری جگہوں پر نہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص ٹیکہ لگنے کی جگہ پر بجلی کا بلب روشن کر رہا ہے۔ غرضیکہ جتنی منہ اتنی باتیں۔ لیکن دنیا کے 99.99 فیصد سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کا یہی کہنا ہے کہ کرونا سے بچاو ¿ کا واحد طریقہ ویکسی نیشن ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ایک ماہر امراض قلب ڈاکٹر سعید اللہ شاہ کا ایک انٹرویو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جو نہایت معلوماتی ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے چپ وغیرہ ڈالے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس طرح کی کہانیاں زیادہ تر امریکہ سے چلی ہیں۔وہاں کے کچھ انتہاپسند سفید فام نسل پرست اس قسم کے نظریات پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ چپ کے ذریعے اذہان کو کنٹرول کرنے کا قصہ فی الوقت سائنسی لحاظ سے ناممکن ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چپ سے آپ کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے گی۔ حالانکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ جہاں تک لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کا سوال ہے تو آپ کے فون، کریڈٹ کارڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا سوشل میڈیا اکاو ¿نٹس وغیرہ کے ذریعے آپ کی تمام معلومات اور پسند ناپسند کا پتہ چلایا جاسکتاہے۔ اس سوال پر کہ کیا ویکسین سے جنسی لحاظ سے کمزوری یا نا مردی، یا بچوں کی پیدائش روکی جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ابھی تک ایسا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ نہ ہی ایسا ممکن ہے۔ پولیو ویکسین کے بارے میں بھی ایسی باتیں کی جاتی تھیں۔ اب دنیا بھر میں پولیو ویکسین استعمال ہوچکی ہے۔ کیا افزائش نسل میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے؟ اس سوال پر کہ کیا ویکسین سے نقصانات ہو سکتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی دوا کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے سوفیصد علاج کی ضمانت ہے۔ کوئی بھی علاج ضمنی اثرات (Side Effect) کے بغیر نہیں ہوتا۔ اسپرین کی گولی ہی لے لیجیے۔ اس کے بڑے فوائد ہیں۔ یہ دل و دماغ کی کئی بیماریوں کے علاوہ کینسرمیں بھی مفید ثابت ہوتی ہے لیکن اس سے معدہ کا السر ہوسکتاہے اور بعض اوقات اسپتال میں زیرعلاج رہنا پڑ سکتاہے۔اسی طرح بلڈ پریشر کی دوائیوں سے گردوں کو نقصان ہوسکتاہے اور وہ ناکارہ بھی ہوسکتے ہیں۔درد کے لیے استعمال ہونے والی ادویات بھی معدے اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انھوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج کل کے زمانے میں سفر کرنا کتنا عام ہوگیاہے۔ سفر کے دوران جان لیوا حادثات بھی ہوتے ہیں اور مالی نقصان بھی ہوتاہے۔ لیکن کیا نقصان کے خطرے سے لوگوں نے سفر کرنا چھوڑ دیا ہے۔
جب ویکسین تقریباً تیار ہو گئی تھی تو مسلمانوں کے ایک حلقے میں اس کے جواز کی بحث چھڑ گئی تھی کہ ویکسین جائز ہے یا ناجائز اور یہ کہ ہمیں بتایا جائے کہ اس میں کون کون سے اجزا ملائے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس میں خنزیر کے گوشت کے ٹکڑے ملائے گئے ہیں۔ طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ اس وقت ہم نے لکھا تھا کہ اسلام میں جان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ زندگی بچانے پر زور دیا گیا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر تھوڑی سی مقدار میں حرام چیز کھانے سے بھی جان بچ سکتی ہے تو کھا سکتے ہیں۔ بہرحال رفتہ رفتہ حرام حلال کی بحث ختم ہو گئی۔ اس کے بعد عام لوگوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ ویکسین میں کچھ ہے بھی یا یہ محض پانی ہے۔ بہت سے ڈاکٹروں نے اگر اس کی افادیت پر زور دیا اور کہا کہ ہر شخص کو ویکسین لگوا لینا چاہیے تو کئی ڈاکٹروں نے کہنا شروع کر دیا کہ ویکسین میں کچھ نہیں ہے یہ تو پانی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ نہ صرف ہندوستان کے سائنس داں بلکہ دیگر ملکوں کے اعلیٰ سائنس داں بھی اور صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او سے وابستہ سائنس داں اور ڈاکٹر بھی اس بات پر زور دیتے رہے کہ ویکسین ہر شخص کو لگوانی چاہیے کیونکہ اسی سے کرونا سے بچاؤ ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ہندوستان میں جو دو ویکسین لگائی جا رہی ہیں ”کووی شیلڈ“ اور ”کو ویکسین“ ان میں سے بہتر کون ہے۔ کسی نے کہا کہ کووی شیلڈ بہتر ہے تو کسی نے کہا کہ کوویکسین۔ اب تیسری ویکسین بھی آگئی ہے جو کہ روس نے تیار کی ہے اور جس کا نام ”اسپوتنک“ ہے۔ بیشتر ڈاکروں کا کہنا ہے کہ تینوں ویکسین بہتر ہیں اور وہ سب تقریباً یکساں ہیں۔ جس کو جو مل جائے وہ وہی لگوا لے۔ اسی درمیان گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انھوں نے کہا ہے کہ تینوں ویکسین تقریباً ایک جیسی ہیں ان میں بہت معمولی فرق ہے۔ جس کو جو ویکسین مل جائے وہ لگوا لے۔ البتہ اس سوال پر کہ کیا کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو نہیں لگوانا چاہیے؟ انھوں نے کہا کہ صرف حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین نہ لگوائیں کیونکہ ان پر ابھی تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو کرونا ہو گیا ہے تو وہ کیا کرے؟ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ کرونا ہونے کے چار ہفتے کے بعد وہ بھی لگوا سکتا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے ویکسین کی ایک خوراک لگوا لی ہے اور اس کے بعد اسے کرونا ہو گیا تو وہ کیا کرے۔ اس کا بھی جواب یہی ہے کہ ٹھیک ہونے کے چار ہفتے بعد دوسری خوراک لگوا لیں۔
ایسے بھی کیسیز سامنے آئے کہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے باوجود کچھ لوگوں کو کرونا ہو گیا اور بعض کی موت بھی ہو گئی۔ جب ویکسی نیشن کا آغاز ہوا تھا تو سب سے پہلے ٹیکہ لگوانے والوں میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا بھی تھے۔ لیکن بعد میں خبر آئی کہ دونوں خوراکیں لینے کے باوجود وہ کرونا کے شکار ہو گئے۔ اسی طرح این ڈی ٹی وی کے سائنسی مدیر پلو باگلا کو بھی دونوں خوراکیں لینے کے باوجود کرونا ہو گیا۔ لیکن پھر یہ حقیقت سامنے آئی کہ اگر دونوں خوراکیں لینے والے کو کرونا ہو جائے تو وہ اس پر زیادہ اثر نہیں ڈال سکے گا کیونکہ اس وقت تک جسم میں اینٹی باڈی بن چکی ہوگی۔ لہٰذا ڈاکٹر گلیریا بھی ٹھیک ہو گئے او رپلو باگلا بھی۔ بلکہ پلو باگلا نے بتایا کہ جب وہ ایک اسپتال میں داخل ہوئے اور ان کا ٹیسٹ وغیرہ کیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ بغیر ویکسین والے مریض کو زیادہ انفکشن ہوا بہ نسبت ان کے۔ ان کے ڈاکٹر نے کہا کہ اگر آپ نے دونوں خوراکیں نہ لی ہوتیں تو آج آپ بھی وینٹی لیٹر پر ہوتے۔
بہر حال افواہوں کا بازار اب بھی گرم ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسی افواہیں مسلم حلقوں میں زیادہ اڑائی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ ان افواہوں پر دھیان نہ دیں اور جتنی جلد ہو سکے ویکسین کی خوراکیں لے لیں۔ کیونکہ کرونا سے تحفظ کا یہی ایک طریقہ ہے۔