کورونا سے کرنا ہے بچاؤ تو ٹیکہ لگواؤ- ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

آجکل ٹیلی ویژن، اخبار اور سوشل میڈیا پر کورونا کا مدا چھایا ہوا ہے۔ ذاتی گفتگو میں بھی لوگ کورونا کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب آس پڑوس میں کسی کے مرنے یا کووڈ سے متاثر ہونے کی خبر نہ آتی ہو۔ چیف آف فیلڈ آفس یونیسیف راجیشوری چندر شیکھر کے مطابق دنیا بھر میں 8 مئی تک کووڈ سے 156 ملین لوگ متاثر ہوئے جن میں سے 32 لاکھ کی موت ہو چکی ہے۔ نئے متاثرین کے معاملہ میں بھارت دنیا میں نمبر ایک پر ہے۔ عالمی سطح پر اس کا حصہ 53 فیصد سے زیادہ ہے۔ اگر مرنے والوں کی گنتی کریں تو بھارت کی حصہ داری 31 فیصد سے زیادہ ہے۔ پچھلے 24 گھنٹہ میں کووڈ کے قریب ساڑھے تین لاکھ نئے معاملے آئے اور تقریباً 4077 افراد کی جان گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے بھارت میں ہر سیکنڈ چار نئے معاملے اور ہر منٹ تین سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ دوسری لہر میں کورونا کا نیا ویرینٹ زیادہ خطرناک اور پچھلے سال کے مقابلے زیادہ انفیکشن پھیلانے والا ہے۔ متاثرین کو اس سے بچانے کےلئے ساتھ آکر مدد کرنے کے بجائے گائے کے گوبر، پیشاب، کاڑھے عجیب و غریب نسخہ، فارمولوں سے علاج کرنے کے مشورے سوشل میڈیا پر دیئے جا رہے ہیں۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا سے تحفظ کا واحد ذریعہ ویکسین ہے۔
اس مختصر تحریر میں ویکسین کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بنیادی سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیہ سوامی ناتھن نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کی ابھی اور نئی لہریں آ سکتی ہیں۔ کورونا کےلئے اگلے 6 سے 18 مہینے میں کئے گئے اقدامات اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ2021 کے آخر تک ایسا اندازہ ہے کہ دنیا کی 30 فیصد آبادی کو ٹیکہ لگ جائے گا۔ اس سے کووڈ سے ہو رہی اموات کی تعداد میں کمی آئے گی۔ مگر کورونا ویکسین کے محفوظ ہونے کو لے کر ابھی بھی کئی لوگوں میں شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ پش و پیش میں مبتلا ہیں۔ جبکہ ملک کے تمام ڈاکٹر بیک زبان کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں دی جا رہی ویکسین پوری طرح محفوظ ہے۔ یونیسیف کے ذریعہ ڈی ایل اے فاونڈیشن اور لا پورا ودا فاونڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ وبینار میں اے ای ایف آئی کمیٹی اور نیگ ویک (نیشنل ایکسپرٹ گروپ آن ویکسین ایڈمنسٹریشن) کے صلاح کار ڈاکٹر این کے اروڑا نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ ویکسین سبھی میوٹینٹ پر کارگر ہے۔
ڈاکٹر اروڑا کا کہنا ہے کہ ویکسین بیماری کو شدید ہونے سے روکتی اور موت سے بچاتی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرتی ہے۔ وائرس کی ترسیل کو روکنے میں یہ دیوار کی طرح کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ویکسین دستیاب ہے، وہ اعلیٰ درجہ کی تو نہیں ہے لیکن پھر بھی اس سے وائرس کا پھیلاؤ 65 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں اور کچی بستیوں میں کورونا کو لے کر اب بھی سنجیدگی نہیں ہے۔ ماسک استعمال کرنے، ہاتھ دھونے اور جسمانی فاصلہ بنائے رکھنے پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ پچھلی مرتبہ حکومت نے ڈی ایم کو کہہ کر پنچایت گھر اور پرائمری اسکول کو کورنٹین سینٹر بنایا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے مریضوں کے کھانے کا انتظام بھی کیا تھا لیکن اس سال لوگوں نے کورونا کو مسترد کر دیا۔ شادی بیاہ، سماجی و مذہبی اجتماعات، الیکشن کی ریلیوں اور کمبھ کے میلے میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے۔ جبکہ کورونا ختم نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا اثر کم ہوا تھا اور اس کی حیت بدل رہی تھی۔ جب دوسری لہر شروع ہوئی تو بد احتیاطی کی وجہ سے حالات بے قابو ہو گئے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر این کے اروڑا نے بتایا کہ اس بار بھی کورونا سے متاثر ہونے اور اسپتال جانے والوں میں 70 سے 75 فیصد لوگ 45 سال سے اوپر کے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس عمر کے لوگوں کو ویکسین جلد از جلد لینا چاہئے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 17 مئی تک 143090218 یعنی 10.5 فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی خوراک مل چکی ہے اور 40726986 لوگ یعنی تین فیصد دونوں خوراکیں لے چکے ہیں۔ ویکسین کی کمی کے سوال پر ڈاکٹر اروڑا نے بتایا کہ ہمارے پاس ویکسین کی 17 کروڑ خوراکیں تھیں جس سے 15 سوا پندرہ کروڑ لوگوں کو پہلا ٹیکہ دیا جا سکتا تھا۔ ملک میں 45 سال سے اوپر کی آبادی 30 کروڑ ہے۔ ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈاکٹر اور فرنٹ لائن ورکر ہیں۔ ان کےلئے جولائی، اگست تک ہمارے پاس ویکسین کی 66 کروڑ خوراکیں مہیا ہو جائیں گی۔ یعنی 32 کروڑ لوگوں کےلئے پورا انتظام تھا لیکن ریاستی حکومتوں اور سماجی تنظیموں کی طرف سے 18 سے 45 سال عمر والوں کو ویکسین دینے کی مانگ اٹھنے لگی۔ جسے حکومت نے منظور کر یکم مئی سے انہیں ٹیکہ دیئے جانے کا اعلان کر دیا۔ یہ سمجھ داری والا فیصلہ نہیں تھا۔ کیوں کہ کورونا سے متاثرین اسپتال میں داخل ہونے اور مرنے والوں میں اکثریت 45 سال سے اوپر والوں کی ہے۔ جن میں سے 45 سے 60 سال عمر والے 29 اور 60 سال سے زیادہ والے 38 فیصد لوگوں کو ویکسین دے کر کوور کیا جا چکا ہے۔

اس وقت بھارت بائیوٹک کا ویکسین پروڈکشن ڈیڑھ کروڑ ہے جو اگلے ماہ چار کروڑ اور اگست تک 10 کروڑ ہو جائے گا۔ سیرم انسٹیوٹ بھی اگست تک 12 کروڑ خوراکیں تیار کرنے لگے گا۔ اسپوتنک وی کی 18 لاکھ خوراکیں اس ہفتہ اور 18 لاکھ اگلے ہفتہ آئیں گی۔ اس کے بعد اس کی مینوفیکچرنگ بھارت میں ہوگی۔ اس کی چھ کروڑ خوراکیں ہر ماہ تیار ہوں گی۔ سال بھر میں وہ 84 لاکھ خوراکیں بنا کر دے گا۔ اس سال کے آخر یااگلے سال مارچ تک ہمارے پاس اتنی وافر مقدارمیں ویکسین موجود ہوگی کہ اس سے نہ صرف ہماری ضرورت پوری ہوگی، بلکہ ہم اپنے دوست ممالک کی مدد بھی کر سکیں گے۔ اس وقت ملک میں قریب 53 ہزار کووڈ ویکسینیشن سینٹر ہیں۔ ان میں سے 51 ہزار سرکاری اور ڈیڑھ سے دو ہزار پرائیویٹ ہیں۔ پچاس ہزار سینٹر پر 50 لاکھ لوگوں کو ایک دن میں ویکسین دی جا سکتی ہے۔ اب ویکسین کےلئے لوگوں کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
کورونا پروٹوکول کے مطابق پہلا ٹیکہ جس ویکسین کا لیا ہے دوسرا بھی اسی کا لینا ہوگا۔ ویکسین بدلنے کی اجازت نہیں ہے۔ کو ویکسین کا دوسرا ٹیکہ چار ہفتہ کے بعد اور کووی شیلڈ کا آٹھ ہفتہ کے بعد لینے کی صلاح دی گئی ہے۔ اگر کسی کو دل، گردے، بلڈ پریشر یا ذیابیطس کی بیماری ہے تو اسے اپنے ڈاکٹر کی صلاح سے ویکسین ضرور لینا چاہئے۔ ڈاکٹر این کے اروڑا کے مطابق اگر ایسے لوگوں کو کووڈ ہو جاتا ہے تو ان کی موت کا امکان دس گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی کو ویکسین میں استعمال کئے گئے کسی کیمیکل سے الرجی ہے تو انہیں بغیر ٹیسٹ کرائے ٹیکہ نہیں لینا چاہئے۔ باقی سبھی کووڈ سے تحفظ کےلئے بلا خوف ٹیکہ لے سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال تین کروڑ خواتین حاملہ ہوتی ہیں۔ دو کروڑ ستر لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین کو ویکسین لینے کو کہا گیا ہے۔ اگر ماں بننے والی کسی خاتون کو کووڈ ہو جاتا ہے تو۔ اس کا بچہ وقت سے پہلے پیدا ہونے، ماں اور بچہ کی جان کو خطرہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے رہنما اصولوں کے مطابق دودھ پلانے والی مائیں بچہ پیدا ہونے کے چھ ہفتہ کے بعد ویکسین لے سکتی ہیں۔
کووڈ سے ٹھیک ہونے کے بعد بھی کیا کوئی اور بیماری ہو سکتی ہے؟ اور ویکسین لینے کے بعد کیا کورونا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اروڑا کا کہنا ہے کہ دس فیصد لوگ ایسے ہیں، جن میں کووڈ جاتے جاتے اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ اسی لئے لونگ کووڈ کلینک بنائے گئے ہیں۔ کووڈ سے ٹھیک ہونے کے بعد خود کو وہاں رجسٹرڈ کرالیں، تاکہ جسم میں ہو رہی کوئی بھی تبدیلی فوراً پکڑ میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک اور بلیک فنگل انفیکشن کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ دراصل کورونا کی وجہ سے جسم کے ان حصوں میں جہاں خون کا بہاؤ کم ہے یا کمزوری ہے۔ خون جم سکتا ہے، خون کو جمنے سے روکنے کےلئے خون کو پتلا کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں۔ خون کے جمنے کی وجہ سے ہی کووڈ کے دوران یا اس کے بعد ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔ رہا سوال بلیک فنگل انفیکشن کا تو اینٹی بایوٹک یا اسٹرائیڈ کی زیادتی کی وجہ سے یہ انفیکشن ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ مریض کو جلدی ٹھیک کرنے کےلئے رشتہ داروں کا ڈاکٹر پر بنایا گیا، دباؤ دواؤں کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ اگر مریض کو ذیابیطس ہے تو اس کا امکان اور بڑھ جاتا ہے۔ نوی ممبئی سٹی اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشوک سنگھ نے ویکسین لینے کے بعد کورونا ہونے کی بات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کو بیماری کے خلاف مدافعتی قوت پیدا کرنے میں چودہ دن کا وقت لگتا ہے۔ اگر کسی کو ویکسین لینے کے بعد کووڈ ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں وائرس پہلے سے موجود تھا یا اسے کورونا ہونے والا تھا۔ اس کا علاج عام مریضوں کی طرح کیا جائے گا۔ ویکسینیشن پروگرام میں جو ویکسین بھی شامل ہیں وہ نئے میوٹینٹ پر اثر انداز ہیں۔ کورونا سے بچنے کا ویکسین اور احتیاط کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ اس لئے خود بھی ویکسین لیں اور ملنے والوں کو بھی ویکسین لینے کےلئے آمادہ کریں۔ وائرس کی ترسیل کو روک کر ہی ہم خود کو اور سماج کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔