کورونا سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 4 لاکھ معاوضے کا مطالبہ، سپریم کورٹ نے مرکز سے 10 دن میں فیصلہ لینے کو کہا

نئی دہلی: مرکز نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ کورونا سے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے4 لاکھ روپے معاوضے کے مطالبے پر غور کیا جارہا ہے۔ جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ مرکز نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی صحیح وجہ درج کرنے کے مطالبے کا جواب دینے کے لیے بھی وقت مانگا۔ حکومت کو جواب دینے کے لیے 10 دن کا وقت دیتے ہوئے عدالت نے اگلی سماعت 21 جون کو کرنے کے لیے کہا۔جسٹس اشوک بھوشن اور ایم آر شاہ کی بنچ نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو 24 مئی کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا جس نے آج مرکز کے لیے پیشی کی عدالت کو بتایا کہ حکومت اس پٹیشن کے خلاف نہیں ہے۔ اس معاملے پر پوری ہمدردی کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔ اس پر ججوں نے کہا کہ بہار جیسی کچھ ریاستوں نے چار لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے، لیکن بیشتر ریاستوں نے اپنی پالیسی کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس پر مہتا نے کہا کہ مرکزی سطح پر اس پالیسی کا بہت جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ کورونا کے انتظام سے متعلق دیگر معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ وقت لگا۔سالیسٹر جنرل نے عدالت سے دو ہفتوں کا وقت مانگا، لیکن ججوں نے کہا کہ وہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ ایس بی اپادھیائے نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی اصل وجہ ریکارڈ نہ کرنے کی وجہ سے معاوضہ حاصل کرنے میں دشواری کا اظہار کیا۔ مرکز کے وکیل نے انہیں یقین دلایا کہ اس پہلو پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اس کا بھی حل نکالا جائے گا۔