کورونا، سازشی تھیوریزاور حقائق

ڈاکٹر عابدالرحمن (چاندور بسوہ)
dr.abidurrehman@gmail.com

جب سے کورونا عالم وجود میں آیا یا لایا گیا ہے اس کے متعلق سازش ہونے کی بہت سی تھیوریز چلی،جو کبھی چین کی سازش تو کبھی امریکہ کی سازش وغیرہ پر مشتمل ہے۔ہمارے دانشور اسے صہیونی سازش کہہ رہے ہیں ہم بھی سمجھتے ہیں کہ بالکل ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارا کہنا ہے کہ پہلے تو یہ بات مدلل،حقیقی ؑ ہو اور پھر اس ضمن میں محض سازش سازش کا شور نہ مچایا جائے مسلمانوں کو اور پوری دنیا کو یہ بھی بتایا جائے کہ اس سازش سے بچنے کی کیا تدابیر ہو سکتی ہیں،اس سازش کا جال کیسے کاٹا جاسکتا ہے،اس سے مقابلہ کے لئے کیا لائحہء عمل ہو سکتا ہے۔ ہمارے دانشور اس ضمن میں بالکل خاموش ہیں، بلکہ ان کی سازشی تھیوری بھی تنازعات سے بھری پڑی ہے۔مثلاً ایک طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں صرف ہوا ہے hoaxہے لیکن اس بات کا اقرار بھی کررہے ہیں کہ اٹلی اور امریکہ میں اس کی وجہ سے تباہی مچی اور اس کی وجہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ صہیونی مقتدرہ نے اٹلی کو اس لئے نشانہ بنایا کہ وہ کیتھولک دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے،ممکن ہے اس پر یعنی عیسائی مذہبی لیڈر شپ پر کسی طرح کا دباؤ بنانا مقصود ہو۔ اسی طرح امریکہ کی تباہی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس سے جو کام صہیونی مقتدرہ کو لینا تھا وہ لیا جا چکا۔ لیکن یہی لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس کے مریض کہیں دکھائی بھی نہیں دے رہے یہاں تک کہ امریکہ میں ایک شخص کو وہ اسپتال ہی نہیں ملا جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں کورونا کے مریض ہیں۔ یعنی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے امریکہ میں تباہی مچی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہاں مریض بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ یار پہلے یہ طے کرلو کہ آپ کو کہنا کیا ہے۔ اگر کورونا صرف ہوا ہے تو اسکی تباہی کا ذکرکیسا؟ ہم جیسے کم علم لوگوں کو تو یہی لگے گا کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت صحیح نہیں ہو سکتی ان میں سے کوئی ایک غلط ہے۔ لیکن شاید دانشورانہ عقل میں یہ دونوں باتیں بیک وقت صحیح ہو سکتی ہیں۔ وطن عزیز میں بھی یہ دانشورکورونا کو ہوا ہی بتارہے ہیں، ممکن ہے اس ضمن میں کچھ خرد برد کیا جارہا ہو، لیکن اس کی تحقیق لازمی ہے جو ابھی تک معتبر یا کسی غیر معتبر ذریعہ سے بھی سامنے نہیں آئی۔ کسی خبر کی تصدیق کا طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ ان لوگوں سے کی جائے جو اس سے متعلق ہیں یا جن کے حوالے سے خبر آئی ہے لیکن ہمارے دانشور ایسا نہیں کرتے یہ غیر متعلق لوگوں سے پوچھ پوچھ کر اس پر دانشورانہ پالش چڑھاکربلکہ جھوٹ کی ملمع کاری کر کے اسے پھیلاتے ہیں۔ ہمارے یہاں کورونا کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے مریض سرکاری اسپتالوں میں یا سرکاری نگرانی میں پرائیویٹ اسپتالوں میں رکھے جارہے ہیں۔ اور ہمارے دانشور صاحبان ہیں کہ وہاں سے تصدیق کر نے کے بجائے جنرل پریکٹشنرس سے اور عام آدمیوں سے پوچھ پوچھ کر رائے قائم کر رہے ہیں، اور اگر کوئی یہ کہہ بھی رہا ہے کہ ہاں اس نے کورونا کا مشکوک مریض دیکھا تو اس سے مزید تفصیلات نہیں لے رہے اس سے وہ سوالات نہیں کررہے جو یہ دوسروں سے پوچھ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں میڈیا پر اور سرکاری اعدادوشمار پر بھروسہ نہیں لیکن ان کی دانشوری کی داد دیجئے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ میڈیا کے متعلق بھی ان کا رویہ منافقانہ ہے یہ اس پر جھوٹ پھیلانے اور ہمارے خلاف ہورہی سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں، بہت صحیح بات ہے، لیکن صاحب یہ لوگ اسی میڈیا سے اپنے مطلب کی بات بغیر چھان پھٹک کے من و عن قبول کر لیتے ہیں۔کیا جو میڈیا ہمارے خلاف سازش میں ملوث ہے اسی کے ذریعہ ہمارے مطلب کی خبر پھیلانا بھی سازش ہی کی ایک کڑی نہیں ہو سکتی؟ لیکن شٹ اپ،یہ دانشورانہ بات نہیں۔دانش ور منافق ہو کر بھی دینداری کے دعویدار ہو سکتے ہیں۔ ان دانشوروں کا زور ایک اور بات پر ہے کہ کورونا سے ہلاکتوں کا جتنا شور کیا جارہا ہے اتنا ہے نہیں۔ اس سے تو اتنے لوگ بھی نہیں ’مررہے‘ جتنے عام سردی زکام، ملیریا، خود کشی، روڈ ایکسیڈنٹ،ایڈز، شراب نوشی اور کینسرسے مرتے ہیں اور اس کے لئے یہ دانشور پچھلے کئی دنوں سے کچھ اعدادو شمار کوٹ کررہے ہیں جن کے متعلق دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی آف ہیمبرگ جرمنی کے جمع کردہ ہیں۔ ہم ان اعدادوشمار کی چھان پھٹک کے لئے علامہ گوگل کے حضور پہنچے تو وہاں ہمیں اس طرح کے کوئی اعداد و شمار نہیں ملے نہ یونیورسٹی آف ہیمبرگ کے اور نہ کسی اور ادارے کے البتہ ان اعدادوشمار کو’جھوٹ‘قرار دینے والا ایک ویڈیو ضرور ملا جو ’دی للن ٹاپ‘ یوٹیوب چینل کا ہے۔اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی آف ہیمبرگ کو میل کر کے ان اعدادو شمار کے متعلق استفسار کیا تو جواب آیا کہ یونیورسٹی نے اس طرح کے کوئی اعدادو شمار جاری نہیں کئے۔ یعنی ہمارے دانشور اپنی بات منوانے کے لئے جھوٹ تک کا سہارا لے رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے؟‘ جانتے ہوں گے ہمیں ان پر بھروسہ ہے کہ ان کا وسیع مطالعہ انہیں اس بات سے بے بہرہ نہیں رکھ سکتا۔ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے قصداً ایسا نہیں کیا بلکہ غلطی سے ’واٹس ایپ یونیورسٹی‘ کے آنکڑوں کو ہی یونیورسٹی آف ہیمبرگ ہی کے آنکڑے سمجھ لیا، انہیں کراس چیک نہیں کیا ان کی تصدیق نہیں کی۔ تو کیا یہ ذی علم و ذی شعور بلکہ عالم تحت الشعور و لاشعور دانشور یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کسی خبر کو بغیر تصدیق کئے پھیلانے سے بھی منع فرمایا ہے؟ یہ بھی ہوسکتاہے کہ دی للن ٹاپ جھوٹ بول رہا ہو، تو بھی ایمان و انصاف کا تقاضہ ہے کہ یہ دانشور یا تویہ بتائیں کہ یونیورسٹی آف ہیمبرگ نے یہ آنکڑے ان کے کان میں کب پھونکے یا ان آنکڑوں کا کوئی حقیقی سورس بتائیں یا بارگاہ ایزدی میں توبہ کریں اوراپنے اس طرز عمل سے جن قارئین و سامعین کو گمراہ کر چکے انہیں حقیقی صورت حال سے آگاہ کریں کہ کہیں وہ انہیں مزید پھیلا کر خود کے لئے اور ان دانشوران عالی مرتبت کے لئے گناہ جاریہ کا باعث نہ بنتے رہیں۔ پورے ملک میں کورونا فرقہ واریت زوروں پر ہے، ہمارے دشمنوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک کے کونے کونے تک یہ جھوٹ پھیلا دیا کہ مسلمانوں کو ہی کورونا ہورہا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اسے پھیلا بھی رہے ہیں۔ اب ہمارے دانشور خود تو یہ نہیں بتارہے ہیں کہ ان حالات میں ہمارا طرز عمل کیا ہو،اس صورت حال سے باہر نکلنے کے لئے ہمارا لائحہء عمل کیا ہونا چاہئے بلکہ جو لوگ اس ضمن میں مسلمانوں کو بدنامی سے بچنے کے لئے کم از کم دکھاوے کے لئے ہی احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں یہ دانشور ان لوگوں پر بہتان لگارہے ہیں کہ وہ غیروں سے زیادہ یہ پروپگنڈہ کر رہے ہیں کہ مسلمان ہی کورونا پھیلا رہے ہیں،معاذاللہ۔ایسے لوگوں کا کہنا دراصل یہ ہے کہ ہماری بے احتیاط روش ملک کی اکثریت کی نظروں میں ہماری بدنامی اورسرکار کو اپنی کورونا ناکامی کا ٹھیکرہ ہمارے سر پھوڑ نے کا موقع فراہم کرے گی۔ اور پہلے ہی مختلف مسائل سے جوجھ رہے ہم لوگ نئے مسائل میں گھر جائیں گے۔ لیکن خیر یہ دانشور ہیں بھائی یہ اپنی بات منوانے کے لئے جھوٹے اعدادوشمار اور بہتان کا سہارا اسی طرح لے سکتے ہیں جس طرح اندھ بھکت لیتے ہیں، اب کوئی انہیں دینیات اور اخلاقیات کا درس نہ دے کہ جس دین کی خاطر یہ کیا جارہا ہے وہ دین اس طرح جھوٹ اور بہتان کی اجازت نہیں دیتا، ارے دین اور اخلاقیات گئی تیل لینے یہاں تو معاملہ میرے مرغے کی ایک ٹانگ کا ہے بس۔ جہاں تک لاک ڈاؤن کا سوال ہے تو یہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہے۔ یہ بات تسلیم کہ صہیونی مقتدرہ اور اس کے حواری اپنی سازش کے ٹارگیٹ کو زک پہنچانے کے لئے کولیٹرل ڈیمیج کی پروا نہیں کرتے۔ لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ سے کورونا ہوگا یا نہیں ہوگا یہ الگ بات ہے لیکن اس کی خلاف ورزی سے مسلمان مہرا ضرور بنادئے جائیں گے اور ہو بھی یہی رہا ہے کہ اسے توڑنے والوں میں کے مسلمانوں کو چن چن ہائی لائٹ کیا جارہا ہے انہیں ذلیل کیا جارہا ہے اور اس ذلت کے ویڈیوز بنا کر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ گھر گھر پہنچا کر مسلمانوں کو ولن ظاہر کیا جارہا ہے، جان بوجھ کر کورونا پھیلانے اور کورونا جہاد کے بے تکے الزامات ہم پر عائد کئے جارہے ہیں۔ایسی بھی خبریں آ چکی ہیں کہ مسلمانوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ کی جو اپیلیں کی گئی تھیں وہ اب عملی طور پربرتی جارہی ہیں۔ایسے میں بھی کوئی مسلمانوں سے لاک ڈاون نہ ماننے کی درپردہ بات کہے اور باہر نہ نکلنے والوں کو بزدل،ڈرپوک اور گیدڑ کہے تو یہ اسکی بے وقوفی ارررر دانشوری کی معراج سمجھی جانی چاہئے۔ باقی آئندہ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)