کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کرب-سوتک بسواس

 

انڈیا میں کووڈ 19 کی وجہ سے بہت دنوں تک بیمار رہنے والی ایک مریضہ نے اپنے ڈاکٹر سے منت کی کہ وہ ان کا وینٹیلیٹر ہٹا دیں کیونکہ وہ اب اور زندہ رہنا نہیں چاہتیں۔ وہ خاتون موسم گرما میں اس وائرس کے شدید انفیکشن کی زد میں آئیں اور ایک مہینے تک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد وہ آکسیجن پر گھر واپس آئیں۔ ایک ماہ بعد انھیں دارالحکومت دہلی سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر روہتک کے پنڈت بھاگوت دیال شرما پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں پھر سے داخل کرایا گیا۔ وہ کووڈ 19 کے اثرات کے سبب پھیپھروں میں فبروسس کے مرض میں مبتلا ہیں یعنی ان کے پھیپھروں کے کمزور حصوں کو انفیکشن کے ختم ہو جانے کے بعد بھی نقصان پہنچ چکا ہے اور اب اسے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

تین مہینوں پر محیط اپنے مرض کے دوسرے دور میں انھوں نے 28 سالہ اینستھیسیا دینے والی کامنا ککڑ کے لیے متواتر کئی نوٹس لکھے۔ ‘میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ مجھے ان نلیوں سے نجات دے دو۔

‘جب گرمیوں میں مجھے کووڈ ہوا تھا تو آپ کو مجھے بچانا نہیں چاہیے تھا۔’ اس کے بعد تمام تر کوششوں کے باوجود اس مریضہ کی موت ہوگئی۔

جو لوگ سخت نگہداشت کے سنگین مریضوں کے ساتھ کام کرتے ہیں ان کو شدید بیماری، موت اور طویل وقت تک کام کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر ککڑ اور ان کے ساتھیوں نے موسم گرما کے بعد سے اب تک اپنے ہسپتال میں کووڈ 19 کے کئی سو مریضوں کا علاج کیا ہے۔ لیکن چونکہ وبائی بیماری کے مریضوں سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں اور مریضوں کے لیے اس بیماری کے مکمل طور پر غیر متوقع نتائج سامنے آرہے ہیں ایسے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے جسمانی تھکن کے ساتھ ذہنی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر ککڑ نے مجھے بتایا: ‘ابھی یہاں ایک مریض تھا جو بہت پر امید تھا، اور پھر نا امید ہو گیا، اور پھر چڑچڑا ہوگیا اور زندہ ہی نہیں رہنا چاہتا تھا۔ میرے لیے اس کے درد کو سمجھنا بہت مشکل تھا۔’
یہاں سے 1400 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر مغربی شہر ممبئی کے سرکاری ہسپتال کے ای ایم کے 31 سالہ ڈاکٹر اسیم گارگو کے بھی ایسے ہی تجربات تھے۔
ایک نوجوان مریض اور اپنے کنبے کا واحد کمانے والا کووڈ سے صحتیاب ہونے کے بعد گھر جانے ہی والا تھا کہ اس پر فالج کا حملہ ہوا۔ مرنے سے پہلے وہ دو ہفتوں تک ہسپتال میں مفلوج پڑا رہا۔ اس کی وجہ: پھیپھڑوں میں خون کا جمنا تھا جسے پلمونری ایمبولزم کہتے ہیں اور بعض کورونا وائرس مریضوں میں یہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر گارگوا نے کہا: ‘یہاں ایک نوجوان مریض تھا جس پر دوائیوں کا اثر ہو رہا تھا، تیزی سے صحت یاب ہو رہا تھا، وائرس کو شکست دے رہا تھا اور اپنے اہل خانہ کے پاس جانے کے لیے تیار تھا۔ اور پھر اچانک ایک دھچکا لگا اور سب ختم ہو گیا۔
‘اس کی اہلیہ کو اس کی موت کی خبر دینا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ وہ مریض 45 دنوں تک ہمارے ساتھ تھا۔ یہ بے بسی آپ کو مزید توڑ ڈالتی ہے۔ یہ بیماری اتنی غیر متوقع ہے۔’
اب جبکہ کووڈ کی ہوا انڈیا سے گزر رہی ہے یہاں ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ اس وائرس نے اب تک تقریباً ایک کروڑ افراد کو اپنی زد میں لیا ہے جس میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہو گئے ہیں۔
انڈیا کے ہسپتالوں میں مریضوں میں اضافے کے ساتھ بستروں میں تو اضافہ کیا گيا لیکن اس کے پاس اتنے زیادہ طبّی ماہرین نہیں تھے جو انتہائی سنگین صورتحال سے نمٹ سکیں۔ لہذا ہسپتالوں نے کووڈ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے جو بھی ملا اس کی تربیت کرنے کی کوشش کی جس میں پلاسٹک سرجنوں، کان، ناک اور گلے (این ای ٹی) کے ڈاکٹروں سے لے کر اینستھیسیا کے ماہرین شامل تھے۔
یہاں تک کہ یہ بھی ناکافی ثابت ہوا۔ صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر تھک چکے ہیں۔ سردیوں میں مریضوں میں اضافے سے نمٹنے کے دوران ڈاکٹر ککڑ نے کہا: ‘وبائی بیماری تو ہسپتال سے کبھی گئی ہی نہیں۔ باہر کے لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں۔’
یہ صرف وبائی بیماری ہی نہیں ہے جس نے صحت کے کارکنوں کو مغلوب کر رکھا ہے بلکہ یہ ایک غیر متوقع اور بیماری کے شکاری جراثیم کا خوف ہے جس نے چیزوں کو زیادہ تناؤ والا بنا دیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان دنوں سانس کی تکلیف کے ساتھ انڈیا کے کسی ایمرجنسی روم میں پہنچنے والے مریض پر فوری طور پر کووڈ 19 کے مریض ہونے کا شبہ ہوتا ہے حالانکہ وہ واقعتاً دل کی بیماری، ڈینگی، اسکرب ٹائفس (ایک قسم کا بخار) یا یہاں تک کہ ایسڈ ریفلکس یعنی تیزابی جز سے بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
لیکن چونکہ ہر کوئی مشتبہ ہے لہذا ڈاکٹروں اور نرسوں کو احتیاط برتنی پڑتا ہے۔ ہر مریض کے سویب لینے ہوتے ہیں، احتیاط سے ان کی درجہ بندی کرنی ہوتی ہے اور تمام مشتبہ مریضوں کو اس وقت تک علیحدہ وارڈ میں رکھا جاتا ہے جب تک کہ ان کی جانچ کے نتائج نہ آ جائیں۔
جب انتہائی بیمار کو اہم نگہداشت کے شعبے میں لایا جاتا ہے تو اس مریض میں اعتماد پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اپنے ڈاکٹر یا نرس کو وہ کبھی نہیں دیکھ پاتے یا بات چیت نہیں کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر گارگوا نے کہا کہ ‘بعض اوقات یہ بہت مایوس کن ہوتا ہے۔’
ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ‘ڈاکٹروں اور نرسوں کو گھنٹوں ساتھ سکربس پر کام کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے روزانہ حفاظتی پوشاک پہننی ہوتی ہے جیسے ‘ہر روز آپ کسی تابوت میں جاتے ہیں۔’ وہ اپنی رات کی شفٹوں کے دوران میزوں کے درمیان پڑے رہنے کی اپنی تصویر شیئر کرتے ہیں گویا وہ کوئی ‘زومبی’ ہوں۔ جون میں ڈاکٹر گارگوا نے اپنی جھریوں والی ہتھیلی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جو کہ گھنٹوں تک ربڑ کے دستانے پہننے کا نتیجہ تھا۔
زیادہ تر ہیلتھ ورکرز مہینوں سے گھر نہیں گئے ہیں۔ دہلی میں ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بچے کو چھ ماہ بعد دیکھا۔ بہت سے لوگ اپنے کنبے کی حفاظت کے لیے ہسپتالوں اور ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔ آخری بار جب ڈاکٹر ککڑ چھٹی پر گئی تھیں تو انھیں خود انفیکشن ہوا تھا اور انھوں نے ہسپتال سے دور اپنے والدین کے ساتھ قرنطینہ میں اپنے گھر رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
نومبر کے آخر تک دہلی کے لوک نائک جئے پرکاش نارائن (ایل این جے پی) ہسپتال میں کام کرنے والی اینستھیسیا کی ماہر پراچی اگروال نے اپنی ‘کووڈ -1 ڈیوٹی کے نویں دور’ کا آغاز کیا یعنی مسلسل 15 دنوں تک روزانہ آٹھ گھنٹے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنا اور پھر ایک ہفتے کے لیے کسی ہوٹل میں قرنطینہ میں رہنا۔ ہر بار جب وہ کام کرنے آتی ہیں تو ان کی جانچ ہوتی ہے اور اس کے نتائج کو منفی ہونا ضروری ہے۔ڈاکٹر اگروال نے مجھے بتایا: ‘یہ عجیب زندگی ہے کہ مریضوں کو دیکھنا، اموات دیکھنا اور ہوٹل کے کمروں میں باقی دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ رہنا۔’ڈاکٹروں اور نرسوں کے پاس اپنے ذاتی نقصانات پر غم کے لیے بھی بہت کم وقت ہے۔ بہت سارے افراد اس انفیکشن کی وجہ سے اپنے ساتھیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔
انڈیا میں اب تک 660 سے زیادہ ڈاکٹر اس کی زد میں آ کر جانیں گنوا چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر ہسپتالوں میں کام کرتے تھے۔ ایک اور ڈاکٹر نے ممبئی میں مجھے بتایا: ‘میرے ایسے دوست ہیں جو افسردگی کم کرنے کی گولیاں لے رہے ہیں علاج کروا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو ماسک پہننے میں لاپروائی برتتے دیکھتے ہیں تو وہ ‘بہت غصے اور رنج میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کو پارٹیوں میں شرکت کرتے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ‘وبائی دور ختم ہو چکا ہے۔’
ہیلتھ ورکرز اپنا کام کرنے کے لیے ہیرو کہے جانے سے بھی تنگ آچکے ہیں۔ ڈاکٹر ککڑ کا کہنا ہے کہ ‘ہم اس مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ اگر اب کوئی ہمیں ہیرو کہتا ہے تو میں خود سے کہتی ہوں کہ براہ کرم بس کرو۔ اب یہ کام نہیں کرے گا۔ حوصلہ افزائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔’ وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘سینئرز ہمیں یہ کہتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ یہ میراتھن ہے مختصر دوڑ نہیں ہے۔’
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے میڈیکل اینتھروپولوجسٹ دواپاین بینرجی کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ اور برداشت انڈیا کے سرکاری ہیلتھ سسٹم کی دیسی وبائی بیماری ہے نہ کہ یہ نئی عالمی وبائی بیماری کا نتیجہ ہے۔انھوں نے کہا: اس لیے صرف انسانی برداشت کا جشن منانے اور ان کے اثرات کو برداشت کرنے کے لیے انفرادی ڈاکٹروں، کنبے اور مریضوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے طریقوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے ہمیں ان طریقوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے جن میں ان کی ضرورت ہی نہ ہو۔’ موسم گرما میں اپنے دو ساتھیوں کو کووڈ 19 کی وجہ سے کھو دینے کے بعد انڈیا کے سب سے بڑے کووڈ 19 کے ہسپتال ایل این جے پی کے ہیلتھ ورکرز نے ہر منزل پر روزانہ عبادت شروع کر دی۔ ایل این جے پی کے انتہائی نگہداشت کے شعبے کی دیکھ بھال کرنے والی فرح حسین کہتی ہیں کہ ‘ہم خدا سے صرف سب کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ ایک دن، کسی دن ہم اس وائرس پر فتح حاصل کریں گے۔’

(بشکریہ بی بی سی اردو)