کورونا،لاک ڈاؤن،مسلمان اور ماہ رمضان

محمدانوارخان قاسمی بستوی

ہندوستان کے مختلف اضلاع وصوبہ جات سے ایسی مصدقہ خبریں اور ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جن میں سنگھی دہشتگردانہ ذہنیت کے تحت فرقہ وارانہ منافرت کو ہوادی جارہی ہے اور ہندو-مسلم خلیج کو مزید وسیع کیا جارہا ہے۔ ابھی تک عوامی سطح پر کچھ غنڈے غنڈہ گردی کرلیا کرتے تھے؛ لیکن اب ہندوستان ایسے نازک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے کہ سرکاری ملازمین اور سیاسی اور سماجی رہنما بھی مذہبی تشدد کو کھلے عام فروغ دے رہے ہیں اور اس ملک کو انارکی کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ جہاں ایک طرف پوری دنیا میں مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وبا کے اس نازک وقت میں قربانیاں پیش کیں اور کر رہے ہیں، اور بلاتفریقِ مذہب وملت پورے عالم میں خیرات اور چیرٹی میں اس وقت سب سے زیادہ سبقت لے جارہے ہیں، وہیں دوسری طرف ان تمام قربانیوں کے باوجود آج ہمارے ہی ملک ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اور بھی شدت سے گھولا جارہا ہے۔

یوپی جیسے صوبے میں لولو کمپنی کے مسلم ڈائریکٹر نے یوپی حکومت کو کورونا سے نمٹنے کے لیے ۵ کروڑ روپے کی خیرات دی؛ لیکن آج اسی صوبے کا ایک سرکاری غنڈہ ایک غریب مسلمان کی پانچ روپے کی سبزی خریدنے سے اپنے ہم مذہب لوگوں کو روک رہا ہے۔ ملک کے بعض اطراف میں یہ بھی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ہندو بنیا مسلمانوں کو راشن بیچنے سے منع کررہا ہے تاکہ مسلمانوں کو بھکمری اور اذیت میں ڈالا جاسکے۔ اسی دوران یہ خبر بھی حیرت انگیز ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے رمضان میں لاک ڈاؤن میں ڈھیل دی جارہی ہے تاکہ مسلمان رمضان اور عید کی شاپنگ کرسکے۔

ایسے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ تمام ہی مسلمانوں کو چاہیے کہ اس وقت تک اپنے گھروں سے نہ نکلیں جب تک سرکاری طور پر لاک ڈاؤن کو سب کے لیے یکساں طور پر ختم نہ کردیا جائے ورنہ میڈیا اور ظالم حکمراں ہمیں بلی کا بکرا بنانے کے لیے تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بھلا وہ حکومت جو اپنی نگرانی میں دہلی جیسے شہر میں دو ماہ قبل مسلمانوں کا قتل عام کراچکی ہے اور آپ کی قوم کے معصوم نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کو بلا ثبوت جیلوں میں ٹھونس رہی ہے، وہ آپ کی اچانک اس قدر ہمدرد اور غمگسار کیوں بن گئی؟ اس کے صرف دو بنیادی مقاصد ہیں:

۱) پوری مسلم قوم شاپنگ کے لیے روڈ پور آجائے اور سوشل ڈسٹنسنگ کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر کورونا کا ٹھیکرا تمھارے سر پھوڑ دیا جائے۔

۲) ملک میں اکثر صنعت گاہیں اور کمپنیاں مسلم مخالف بنیوں اور تاجروں کے ہاتھوں میں ہیں جن کے سامانِ تجارت ومصنوعات تقریبا ڈیڑھ ماہ سے گوداموں میں سڑرہے ہیں، لہذا لاک ڈاؤن کے درمیان وہ آپ کو ڈھیل دے کر آپ کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں اور حریص بنیا کا پیٹ بھرنا چاہتے ہیں۔

خبردار، بلا ضرورت شدیدہ باہر نہ نکلیں، اور کچھ دنوں کے لیے اپنے آپ کو گھروں میں مزید محبوس رکھیں، کرونا کا الزام اپنے سر نہ لیں، اور نہ ہی دکانوں پر اپنی جیبیں خالی کریں، پتہ نہیں یہ نازک وقت کتنا لمبا ثابت ہوگا۔ انتہائی ضروری اور ناگزیر شاپنگ جیسے ادویہ اور راشن وغیرہ پر ہی صرف اپنی رقم کرچ کریں، اور باقی آڑے وقت کے کے لیے پس انداز کرلیں تاکہ آپ کی یہ گاڑھی کمائی آپ، آپ کے اعزہ واقربا یا پڑوس میں کسی غریب کے کام آسکے۔ اپنے اہل وعیال پر بطور خاص حالات کی نزاکت کو واضح کریں۔

کچھ جگہوں پر ظالم بنیوں/تاجروں نے بہت سے مسلمانوں کو جھوٹا بہانہ کرکے راشن اور ضروری اشیاء خورد ونوش بیچنے سے منع کردیا ہے جو کہ نہایت تکلیف دہ بات ہے۔ اس کے لیے ہر علاقے کے مسلمانوں کو کوئی مضبوظ اسٹریٹیجی اور پالیسی بنانی ہوگی۔ اس طرح کے حالات دیکھ کر، بہار کے ایک ضلع میں کسی عالم نے بڑا دانشمندانہ اقدام کیا ہے جوکہ مجبور ہوکر اب خود کسی بڑی ہول سیل کی دکان سے اشیاء خوردونوش لاکر قوم کو ہول سیل ریٹ پر فروخت کررہے ہیں۔ یہ نہایت مثبت اور قابل تحسین اقدام ہے۔ ملک کے ہر گوشے میں قوم کے لوگ جذبئہ ایثار وقربانی کے ساتھ اٹھیں، اور اسی طرح ہول سیل ریٹ میں بڑی فیکٹریوں اور دکانوں سے سامان لاکر صرف اپنے لوگوں کو ہی نہیں؛ بلکہ غیروں کو بھی اسی ہول سیل ریٹ پر فروخت کرنا شروع کردیں، اور ان بدتمیز اور بے رحم بنیوں کو سبق سکھائیں۔ جس طرح سے ظالم تمھاری قوم کے لوگوں کا سامان نہیں خرید رہے ہیں، آپ بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں۔ اب آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا ہے۔ آپ کو دھکادے کر دیوار سے چمٹا دیا گیا ہے، اب آپ کے پاس اس کے سوا کوئی اور آپشن نہیں کہ آپ بھی دھکا دیں، اور اپنی ممکن طاقت کا استعمال کریں اور جائز اور قانونی حدود میں رہ کر اپنا دفاع کریں۔

سب سے اہم اور آخری بات یہ ہے کہ اس لاک ڈاؤن میں لاکھوں کی تعداد میں ہماری قوم کے فقرا، مساکین اور مزدور گرسنگی اور فاقہ کشی میں مبتلا ہیں، لہذا ہر ہر محلے، ہر ہر شہر، اور ہر ہر قصبے میں جماعتیں تشکیل دیں اور ایک مضبوط چین بنا کر منظم سماجی ڈھانچہ تیار کریں اور مجبوروں اور محتاجوں پر گہری نظر رکھیں اور ان کی خبر گیری کریں تاکہ کوئی بھی انسان بھوکا نہ رہ سکے اور نہ ہی کسی فرد کو بربریت یا تشدد کا نشانہ بنایا جاسکے۔ اس لاک ڈاؤن، غیروں کے ظلم، اور کورونا کی قہر سامانیوں سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)