کورونا، لاک ڈاؤن اور رسالہ’’جہانِ اردو‘‘دربھنگہ-ڈاکٹر عفّت پروین

معاون اردو ٹیچرسمری ہائی اسکول، سمری، دربھنگہ(بہار)
عالمی وباء کورونا نے انسانی معاشرے کی زندگی کو معطل ومفلوج کر رکھا ہے۔چہار طرف مسائل ہی مسائل نظر آرہے ہیں ۔ہر ایک انسان خوفزدہ ہے کہ نہ جانے اس کی کون سی سانس آخری ثابت ہو۔انسانی تاریخ کا یہ بھیانک منظر کہ ایک انسان سے دوسرا انسان نہ صرف خوفزدہ ہو بلکہ فاصلوں کو ہی اپنی زندگی کا ضامن سمجھنے لگا ہو ۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جس سے ہر شخص دوچار ہے۔ اپنے مکانوں کی دیواروں کے درمیان قید وبند کی زندگی گزار رہاہے۔ بند کمرے میں اس کے جینے کا سامان صرف اور صرف گھر کے افراد اور ابلاغ کے مختلف ذرائع رہ گئے ہیں ۔ بالخصوص کتب ورسائل اہلِ علم لوگوں کی ذہنی الجھنوں سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوئے ہیں ورنہ ٹیلی ویژن پر شائع ہونے والی گمراہ کن خبروں نے تو اور بھی خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔جہاں تک ادبی رسائل وجرائد کا سوال ہے تو اس لاک ڈائون کے عرصے میں نہ صرف ان کی اشاعت متاثر ہوئی ہے بلکہ قارئین کے ہاتھوں تک ان کی پہنچ بھی مشکلوں سے دوچار رہی ہے کہ ڈاک کا نظام بھی اس عرصۂ لاک ڈائون میں متاثر ہوا ہے بلکہ اب بھی بعض شہروں کے لئے پوسٹ آفس ڈاک قبول نہیں کر رہے ہیں ۔ مثلاً صوبہ بہار کے شہر دربھنگہ سے ملک کی دارالسلطنت دہلی اور ممبئی کے لئے مہینوں سے ڈاک نہیں لی جا رہی ہے اور جہاں کے لئے ڈاک لی جا رہی ہے وہاں بھی کافی تاخیر سے پہنچ رہی ہے۔اس لئے بیشتر اردو رسائل وجرائد طباعت کے مرحلے سے گذر کر بھی قاری تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ بیشتر رسائل نے سافٹ کاپی اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہے تاکہ قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔ مگر سچائی یہ ہے کہ رسائل وجرائد کی اصل کاپی کی ورق گردانی کا لطف ہی کچھ اور ہے اور پھر سنجیدہ مطالعہ تو تہذیب کا ایک حصہ ہے۔اس سے محرومی قارئین کے لئے باعثِ مایوسی ہے ۔
بہر کیف! ان مشکل حالات میں بھی چند ایسے ادبی رسائل ہیں جو قاری کے لئے ذہنی آسودگی کا سامان فراہم کر رہے ہیں اور بر وقت قاری تک پہنچ رہے ہیں۔ ان رسائل میں سہ ماہی ’’جہانِ اردو‘‘ دربھنگہ قابلِ ذکر ہے۔’’جہانِ اردو‘‘ خالص تحقیقی ریسرچ جرنل ہے اور یو جی سی کے کیئر ریسرچ جرنل لسٹ میں شامل ہے۔اس کے مدیر ڈاکٹر مشتاق احمد جہانِ اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ یہ ریسرچ جرنل گذشتہ دو دہائیوں سے متواتر شائع ہو رہاہے اور پوری دنیا میں اپنے معیار ووقار کی وجہ سے قبولیت کا درجہ رکھتا ہے۔ بالخصوص ہندوستان کے جامعاتی اساتذہ اور اردو کے ریسرچ اسکالروں کے درمیان مقبول عام ہے۔ چوں کہ ’’جہانِ اردو‘‘ میں تحقیقی مضامین کو اولیت دی جاتی ہے اور ان دنوں پی ایچ ڈی کے طلبا کے لئے یہ لازمی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی کا مقالہ یونیورسٹی میں داخل کرنے سے قبل متعلقہ موضوع پر کم سے کم دو مقالات یو جی سی سے منظور شدہ ریفرڈ جرنل میں شائع کروائیں، اس لئے ’’جہانِ اردو ‘‘ میں ان طلبا کو فوقیت دی جاتی ہے۔ البتہ معیاری مضامین ہی قبول کئے جاتے ہیں۔ چوں کہ اس کے مدیر خود بھی ایک نامور محقق وناقد ہیں اس لئے مقالے کی اشاعت سے قبل اس کی چھان پھٹک بہت سنجیدگی سے کرتے ہیں اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس رسالے میں مضامین کی اشاعت کے لئے دیگر رسائل کی طرح قلم کاروں سے پیسے نہیں لئے جاتے بلکہ اس کا پیمانہ صرف اور صرف معیار ہے۔ اس لئے اردو کے ادبی اورعلمی حلقے میں اس رسالے کی غیر معمولی اہمیت ہے۔اس لاک ڈائون کے عرصے میں زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں اور تعطل کے شکار بھی ہوئے ہیں لیکن ’’جہانِ اردو‘ ‘ بر وقت شائع ہو رہاہے اور قارئین تک پہنچ بھی رہاہے۔
میرے پیشِ نظر تازہ شمارہ نمبر ۷۸؍بابت اپریل تا جون ۲۰۲۰ء ہے ۔ مشمولات میں حسبِ روایت ’’جہانِ فکر ‘‘ میں مدیر محترم ڈاکٹر مشتاق احمد نے کورونا کی المناکی اوراس کی جغرافیائی حدود پر روشنی ڈالی ہے۔ بالخصوص عالمی سطح پر معاشی، سماجی ، مذہبی ، سیاسی اور تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ امید بھی جتائی گئی ہے کہ کورونا کے بعد دنیا میں ایک بڑا انقلاب آنے والا ہے اس سے اردو زبان وادب کی دنیا بھی بدلنے والی ہے۔جہانِ تحقیق وتنقید کے باب میں پروفیسر قدوس جاوید(جموں)،پروفیسر معین الدین شاہین(اجمیر)، ڈاکٹر بسنت محمد شکری(مصر)احمد رشید علیگ(علی گڑھ) اور ڈاکٹر سرفراز احمد( لکھنؤ )کے تحقیقی وتنقیدی مضامین موضوع ومواد کے اعتبار سے چشم کشا ہیں۔ پروفیسر قدوس جاوید نے پروفیسر ظہور الدین کی تنقیدی بصیرت وبصارت کا بھرپور جائزہ لیا ہے ،جب کہ پروفیسر توقیر عالم نے فیض احمد فیض کی قدر شناسی اور غیر ترقی پسندیت پر روشنی ڈالی ہے ۔ پروفیسر شاہین نے تذکرہ شعرائے راجپوتانہ راجستھان پر تفصیلی بحث کی ہے ۔ اسی باب میں ڈاکٹر جی ایم پٹیل نے اردو کے ارتقائی ادوار کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے ۔ڈاکٹر بسنت محمد شکری نے کلیم عاجز کی شاعری اور حب الوطنی کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔ اس کے علاوہ درجنوں تحقیقی وتنقیدی مضامین ہیں جن کے مطالعے سے عصری اردو تحقیق وتنقید کی سمت ورفتار کا پتہ چلتا ہے۔ مطالعۂ خاص کے باب میں اردو کے نامور شاعر پروفیسر شہپر رسول کی نظمیہ شاعری پر پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اور ڈاکٹر عادل حیات کے پرمغز مقالات شامل ہیں، جب کہ جہانِ خاص میں ’’مجروح سلطان پوری کی حیات وخدمات ‘‘ کے تعلق سے چارمضامین شامل ہیں ۔ ان میں ڈاکٹر ابو بکر عباد، ادریس احمد خاں، غلام نبی کماراور ڈاکٹر محمد اسد اللہ نے مجروح سلطان پوری کی شاعرانہ عظمت اور انفرادیت کا اعتراف کیا ہے۔ حسبِ معمول اس شمارے میں بھی ’’جہانِ دیگر ‘‘ کے تحت ڈاکٹر مشتاق احمد نے ہندی کے نامور ادیب وشاعر رامد ھاری سنگھ دنکر اور گری راج کشور کی ادبی خدمات سے جہانِ اردو کے قارئین کو روشنا س کرایا ہے۔یہ باب لسانی اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے مطالعے سے بین العلومی مطالعے کا فرض ادا ہوتا ہے ۔ اردو معاشرے میں یہ چلن کم ہے ، لیکن ’’جہانِ اردو‘‘ شروع سے ہی ’’جہانِ دیگر‘‘ کے باب میں مختلف زبانوں کے ادبا اور شعرا کی خدمات پر مبنی مضامین کو جگہ دیتا رہاہے۔’’جہانِ فسانہ‘‘ میں مشرف عالم ذوقی کا افسانہ ’’ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے ‘‘اور سلمان عبدالصمد کا ’’گاگل ‘‘ شامل ہے۔ ’’جہانِ احتساب ‘‘ میں حسبِ روایت دس نئی کتابوں پر ڈاکٹر مشتاق احمد کے تبصرے شامل ہیں ۔ان میں انور پاشا کی کتاب ’’پروفیسر محمد حسن کے ڈرامے‘‘ ، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی کتاب ’’رزمیہ ادب ‘‘، پروفیسر شہزاد انجم کی ’’عہد ساز شخصیت :سرسید احمد خان ‘‘ ،ڈاکٹر شاہد احمد کی کتاب ’’چٹھی آئی ہے ‘‘ ، ڈاکٹر سید احمد کی ’’اردو صحافت کا مزاج ‘‘ ، امیر حمزہ کی کتاب ’’ادبِ اطفال‘‘، ڈاکٹر عقیل احمد کی کتاب ’’انجم عثمانی کے افسانے اور تجزیے‘‘ ، ڈاکٹر آصف زہری کا ناول ’’زباں بریدہ‘‘ ، ڈاکٹر نذر اشرف کی کتاب ’’بہار اردو افسانے کا گلزار‘‘ اور ڈاکٹر غزالہ فاطمہ کی کتاب ’’خدیجہ مستور‘‘ قابلِ ذکر ہیں ۔مذکورہ تبصراتی مضامین کے مطالعے سے نہ صرف کتاب کے مواد اور موضوعات سے آگہی ہوتی ہے، بلکہ تبصرہ نگار کے عمیق مطالعے کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ وہ حقِ تبصرہ نگاری کی ادائیگی میں اس قدر پابندِ اصول ہیں کہ صرف مدلل مداحی نہیں کرتے بلکہ کتاب کی خصوصیت اور کمیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں ۔نئی نسل کے لئے یہ تبصراتی مضامین مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
مختصر یہ کہ اس کورونااور لاک ڈائون کے عرصے میں ’’جہانِ اردو ‘‘ کا بر وقت شائع ہونا اور پھر اپنے معیار ووقار کی بحالی کے ساتھ اردو کے علمی وادبی حلقے تک پہنچنا سعیِ پیہم کا نتیجہ ہے۔پیشِ نظر شمارہ ۲۷۲؍ صفحات پر مشتمل ہے اور حسبِ معمول اس کی قیمت سوروپے ہے۔اسے ادارہ ’’جہانِ اردو‘‘ رحم گنج ، دربھنگہ ۔846004سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اردو کے معیاری رسائل وجرائد کی فہرست میں ’’جہانِ اردو ‘‘ نہ صرف امتیازی حیثیت رکھتا ہے ؛بلکہ ادبی معیار کی علامت بن گیاہے۔یہ اردو معاشرے کے لئے ایک بیش بہاادبی تحفہ ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*