کورونا:لاک ڈاؤن اور اقتصادی بحران

ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل:9431414586
ای میل: rm.meezan@gmail.com

کورونا وائر س نے پورے انسانی معاشرے کی زندگی کو مفلوج ومعطل کردیا ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو اس مہلک وبا کے خوف وہراس کی زد میں نہ ہو۔ کہیں زیادہ اور کہیں کم، لیکن خطہئ ارض کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں کورونا نے دستک نہ دی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبلو ایچ او نے جنوری کے آغاز میں ہی پوری دنیا کو متنبہ کیا تھا کہ دنیا ایک بھیانک وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہے۔ لیکن اس وقت چند ملکوں کو چھوڑ کر بیشتر ممالک نے اس اشارے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چین کے شہر اوہان سے جواس مہلک وبا نے فضاؤں میں تیرنا شروع کیا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ترقی یافتہ ملکوں کو یہ وہم وگمان تھا کہ وہ سائنس اور ٹکنالوجی کی بدولت کسی بھی آفتِ ناگہانی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اس کورونا نے یہ ثابت کردیا کہ انسان خوش فہمی میں مبتلا نہ رہے کہ قدرت کے آگے کسی کی ایک نہیں چلتی۔آج پوری دنیا میں اس وائرس پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے اور اب تک یہ بیماری لا علاج ثابت ہوئی ہے۔ بس انسانی احتیاط ہی اس سے نجات کا ایک ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی کورونا کے اثرات ہیں وہاں انسانی نقل وحمل پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس کے ذریعہ ہی انسانی جانوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک اس کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور اس کے بعد اٹلی، اسپین، فرانس اور جرمنی جہاں طبی سہولیات ہیں وہاں بھی اس کورونا نے کہرام مچا رکھا ہے۔
جہاں تک اپنے ملک ہندوستان کا سوال ہے تو عالمی تناظر میں یہاں کورونا نے وہ ستم نہیں ڈھایا ہے جو اس نے مغربی ممالک میں برپا کیا ہے۔لیکن آہستہ آہستہ اپنے وطن عزیز میں بھی کورونا متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اموات بھی ہو رہی ہیں۔ اور اگر کورونا پر قدرے قابو پایا گیا ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف سماجی دوری ہے کہ عوام الناس نے ا س مہلک بیماری کو سنجیدگی سے لیا اور اپنے آپ کو گھروں میں مقید کرکے دوسروں کو اس بیماری کا شکار نہیں ہونے دیا۔ جتنے بھی افراد کورونا سے متاثر ہوئے انہیں فوری علاج کے لئے کورنٹائن کیا گیا اور جس کا نتیجہ خاطر خواہ بہتر رہاہے۔ البتہ ہمارے پاس اس کورونا کے وائرس کی پہچان کے لئے جو طبی کِٹ کی ضرورت تھی وہ کمیاب تھی اور اب بھی ہے اس کی وجہ سے جانچ میں کمی واقع ضرور ہوئی ہے اور طبی عملوں کو بھی جو حفاظتی آلات مہیا ہونے چاہئے وہ بھی کم دستیاب ہو سکے۔ چین سے بر آمد کِٹ کا ناکارہ ہونا بھی ہمارے لئے نقصان دہ رہا لیکن اس کے باوجود ہندوستان میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ لیکن اس پر قابو کے لئے جو اچانک لاک ڈاؤن یعنی خود ساختہ بندی کا اعلان کیا گیا اور اس میں توسیع در توسیع ہوتی چلی گئی اس کی وجہ سے ملک میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اول تو پورے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں یومیہ مزدور فاقہ کشی کے شکار ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو آنا چاہتے ہیں کہ بڑے شہروں میں چھوٹے بڑے تمام صنعتی کل کارخانے بند ہوگئے ہیں اور نجی کمپنیاں بھی بند ہوگئی ہیں۔ انفرادی طورپر جو مزدور یومیہ کاروبار کے ذریعہ اپنی زندگی بسر کر رہے تھے ان کے لئے بھی ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے وہ بیکار بیٹھے ہیں۔ ایک طرف زندگی بچانے کا خوف ہے تو دوسری طرف اشیائے خوردنی کی قلّت اور بھوک نے انہیں پریشان کر رکھا ہے۔ نتیجہ ہے کہ وہ ملک کے مختلف بڑے شہروں سے اپنے گاؤں کی طرف کوچ کر چکے ہیں۔ ہزاروں میل کی مسافت پیدل طے کرکے مہینوں سے لوگ چل رہے ہیں۔ تین سو سے زائد افراد کی راستوں میں موت ہو چکی ہے۔ ان مزدوروں پر کیا گذر رہی ہے اس سے ہم سب واقف ہیں اور اب حکومت نے بھی ان کی پریشانیوں کو سمجھا ہے اور ان مزدوروں کو اپنی ریاستوں اور اپنے گھروں تک جانے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اب ٹرین اور بسوں کے ذریعہ ان مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا کام کیا جا رہا ہے۔یہ تاخیر سے اٹھایا گیا ایک بہتر قدم ہے۔لیکن اس فیصلے کے بعد ایک بڑا خطرہ یہ ضرور پیدا ہوگیا ہے کہ اب وہ جب اپنے گاؤں کو آئیں گے تو اگر ان میں کوئی کورونا سے متاثر ہے اور ان کے پہنچنے سے قبل ان کی جانچ نہیں ہوئی یا کورنٹائن نہیں کیا گیا تو دیہی علاقے میں بھی کورونا کے وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے اور خدا نخواستہ ایسا ہوا تو وہ بہت ہی جان لیوا ہوگا۔ اس پر بھی مختلف ریاستوں کی حکومتوں کو کڑی نگاہ رکھنی ہوگی اورسماج کے لوگوں کو بھی بیدار رہنا ہوگا کہ کورونا متاثرین مزدوروں کے ساتھ کسی طرح کا نازیبا سلوک نہ کیا جائے بلکہ انہیں طبی سہولت فراہم کرائی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مہینوں سے اذیت ناک زندگی جی کر اپنے گھروں کو واپس آئے ہیں۔
اب جب کہ حکومت نے ان علاقوں میں جہاں کورونا کا زور کم ہوا ہے وہاں حسب معمول زندگی بحال کرنے کی چھوٹ دی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اب بھی خوف کا ماحول ہے۔ بالخصوص مزدور طبقوں کے اندر بس ایک ہی رٹ ہے کہ وہ اپنے گاؤں کو جائیں گے اور وہ روانہ بھی ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر کہیں چھوٹے بڑے کل کارخانے شروع بھی کئے جاتے ہیں تو انہیں مزدور نہیں مل پائیں گے اور پھر چوں کہ اس وقت پوری دنیا کا بازار معطل ہے اس لئے کوئی بڑا تاجر یہ خطرہ مول لینے کو بھی تیار نہیں ہے کہ وہ فوراً کاروبار شروع کرے۔اس لئے ملک کی معاشیات پر اس لاک ڈاؤن کے بہت ہی مضر اثرات ہوں گے۔کیوں کہ کسی بھی ملک کے جی ڈی پی کا انحصار ملک کے اندر ہونے والے منجملہ ترقیاتی کاموں اور تجارتی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ اب جب کہ تقریباً دوماہ سے تمام تر بازار اور کل کارخانے بند ہیں۔ زراعت کے شعبے میں بھی بندی کے اثرات نمایاں ہیں کہ کسانوں کا مال بازار تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ یہ وقت فصل ربیع کا ہے خاص کر گیہوں کی فصل تیار ہو چکی ہے لیکن مزدوروں کی کمی کی وجہ سے کھیتوں میں گیہوں برباد ہورہے ہیں اور جہاں کہیں بھی گیہوں تیار ہو رہا ہے اسے بازار تک لے جانا مشکل ہے۔ اسی طرح پھل سبزیوں کا بھی حال ہے کہ وہ کھیتوں میں نقصان ہو رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پیشہئ زراعت سے کروڑوں مزدوروں کو یومیہ مزدوری حاصل ہوتی ہے۔ دارجلنگ اور آسام کے چائے کے باغات میں تقریباً دس لاکھ مزدور کام کرتے ہیں وہ سب بھوک مری کے شکار ہو گئے ہیں اور چائے کی فصل کو جونقصان ہوا ہے اس سے ملک کی اقتصادیات کو بڑا خسارہ ہوگا۔ غرض کہ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے عالمی سطح کے بازار بند ہورہے ہیں اس سے بھی ملکی صنعت کاروں کی تجارت متاثر ہوگی اور ملکی بازاروں میں کام بند ہونے کی وجہ سے بھی چھوٹے بڑے صنعت کاروں کو خسارہ عظیم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک سب سے بڑا مسئلہ اب دیہی علاقے میں پیدا ہونے والا ہے کہ مختلف شہروں سے کروڑوں کی تعداد میں مزدور اپنے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہیں اور اگر گاؤں میں انہیں کام نہیں ملے گا تو پھر ان کی زندگی پریشان کن بن جائے گی اور یہ پریشانی سماج میں کئی طرح کی سماجی برائیوں کو جنم دے گی۔ جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوگا، گھریلو تصادم بڑھیں گے اور اس سے نظم وضبط کا بھی مسئلہ کھڑا ہوگا۔ بالخصوص بہار جیسی ریاست جہاں کوئی بڑا صنعتی ادارہ نہیں ہے اور یہاں دس لاکھ سے زیادہ مزدوروں کی واپسی ہوئی ہے اگر اسے کام نہیں ملا تو کئی طرح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہے۔ اگرچہ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان مزدوروں کو منریگا اوردیگر اسکیموں کے ذریعہ امداد دی جائے گی۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ سرکاری سطح پر کوئی بھی مسئلہ اتنا جلد حل نہیں ہو پاتا جتنا کہ بلندبانگ دعویٰ کیا جاتا ہے۔
مختصر یہ کہ اب یہ امید تو بندھ رہی ہے کہ کورونا کا زور کم ہوگا اور چھوٹے بڑے شہروں میں آہستہ آہستہ کل کارخانے کھولے جائیں گے۔ بازار بھی حسبِ معمول کھلیں گے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ اب اگر ایک طرف کل کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور نہیں ملیں گے تو وہ چاہ کر بھی اپنے پروڈکشن کو نہیں بڑھا سکتے اور اس کا اثر ملک کی معاشیات واقتصادیات کے ساتھ ساتھ سماجیات پر بھی پڑنا لازمی ہے۔ اس لئے کورونا کے بعد کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ اقتصادی بحران ہوگا اور اس پر قابو پانے کے لئے جو ملک جتنی جلدی اور جتنا ٹھوس لائحہ عمل تیار کر سکے گا اسے راحت مل سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے ابھی سے اس پر غوروفکر شروع کردیا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کو بھی کورونا کے بعد ملک کی سمت ورفتار کے متعلق سنجیدگی سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے ہندوستان کی معاشی اور سماجی زندگی قدرے مختلف ہے۔یہاں پہلے سے ہی لاکھوں بیروزگار نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدری کے شکار تھے اور اب تو کروڑوں کی تعداد میں مزدور طبقہ بیروزگار کا شکار ہوگیا ہے اور اس کا سیدھا اثر ملک کی اقتصادیات ومعاشیات پر پڑنا ایک فطری عمل ہے۔یہ ہمارے لئے ایک لمحہئ فکریہ ہے اس لئے ملک میں اس وقت ایک ایسی فضا سازگار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ملک کی سالمیت بھی بر قرار رہے اور اقتصادی رفتار کو بھی تیزی حاصل ہو سکے اور اس کے لئے ملک کے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ مختلف شعبے کی نمایاں شخصیات کو بھی پہل کرنی ہوگی اورملک کے سامنے ایک تعمیری خاکہ پیش کرنا ہوگا کہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کیوں کہ کورونا کے بعد کی دنیا بہت ہی تبدیل ہونے والی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)