کورونا کا رونا

کورونا کی وبا اور ہماری ذمہ داریاں

 

پروفیسر محمد سلیم انجینئر 

نائب امیر جماعت اسلامی ہند

 

کورونا کی وبا نے گزشتہ ایک برس سے پوری دنیا اور خود ہمارے ملک ہندوستان کوسخت ترین آزمائش میں ڈال رکھا ہے ۔خبر مل رہی ہے کہ کورونا کا یہ قہر ایک مرتبہ پھر اپنا پائوں پساڑرہا ہے۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔جب بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو ظاہری اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ہی اہل ایمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ قرآن کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ ان حالات میں قرآن مجید ہماری کیا رہنمائی فرماتا ہے اور بحیثیت امت مسلمہ ہماری کیا ذمہ داریاں اور کیا رول ہونا چاہئے ،ان پر غورو خوض کریں۔ اس وقت اس موضوع پر بہت سی باتیں ہورہی ہیں۔ اس کے وجوہات پر روشنی ڈالی جارہی ہے اور اس سے بچنے کے احتیاطی تدابیر اپنائے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی لازمی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔انسانی دماغ نے اس کی روک تھام کے لئے ویکیسن بھی بنا لیا ہے ، ان سب کے باجود وبا کے پھیلائو اور بار بار پلٹ کر آنے کو روکنے میں انسانی طاقتیں ناکام ثابت ہورہی ہیں ۔

کورونا سے پیدا ہونے والے حالات کا ایک پہلو وہ ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے صرف وہ لوگ دیکھ یا محسوس کرسکتے ہیں جن کے دل و دماغ قرآن کی روشنی سے منور ہیں ۔یہ لوگ اللہ کی رہنمائی کی روشنی میں ان حالات کا جائزہ لیتے ہیں اور انسانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 11.47 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 25.59 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ہمارے ملک میں اب تک تقریبا 1.15 کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور تقریبا 1.6 لاکھ لوگوں کی اب تک اس وجہ سے موت ہوچکی ہے ۔اس وبا نے ہمارے ملک کو تشویشناک حد تک نقصان پہنچایا ہے ۔امریکہ اور برازیل کے بعد متاثرین کے لحاظ سے ہم تیسرے نمبر تک پہنچ گئے۔ ہمیں اپنے ملک میں لاکھوں انسانوں کے کورونا سے متاثر ہونے اور ہزاروں کی موتوں کا درد سہنا پڑا۔ لیکن جس طرح سے یہ خطرہ ایک مرتبہ پھر سے منڈلا رہا ہے اور انسانی آبادی کو اپنا نشانہ بنارہا ہے،نہایت ہی تشویش کا باعث ہے اورہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جس طرح سے اس وبا نے انسانوں کو بے بس کر رکھا ہے اور کوششوں کے باجود اس کی روک تھام پر قدغن نہیں لگ رہا ہے ، اس میں کہیں نہ کہیں رب کائنات کی جانب سے انسانوں کے لئے کوئی پیغام چھپا ہوا ہے ۔لیکن اس پیغام کا شعور و احساس صرف انہی لوگوںکو ہوسکتا ہے جو اللہ کو ماننے والے اور اللہ کی رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے، وہ ان وبائوں کے ظاہری اسباب و عوامل کی تلاش کو ہی اس کے حل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں اور پھر ان کی تلاش و جستجو ایک حد تک جاکر رک جاتی ہے ۔یہ لوگ پورے معاملے کو سائنس کی محدود نظر سے دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ انسان نے نیچر کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی ہے۔ وہ اس نیچر کا استحصال کررہا ہے اور قدرت نے انسانوں کو جو ذرائع عطا کئے ، اس کی حدوں کو توڑ رہا ہے ، اس کی وجہ سے قدرتی نظام کا توازن بگڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں یہ صورت حال پیدا ہورہی ہے۔ اگر ہم قرآنی پیغام کی روشنی میں اس کا تجزیہ کریں تو کسی حد تک اس میں سچائی نظر آتی ہے ۔کسی بھی عمل میںحد سے تجاوز کرنے کو قرآن مجید نے فساد فی الارض سے تعبیر کیا ہے ۔ فساد کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ نے زمین پر جو قدرتی ذرائع و وسائل انسانوں کے لئے مسخر کئے ہیں ، ان میں ایک توازن قائم کررکھا ہے ، اس توازن کا تقاضہ ہے کہ اس میں خلل اور بگاڑ پیدا نہ کی جائے لیکن انسان عارضی فائدوں اور اپنی سہولتوں کے لئے ان ذرائع کا غلط استعمال کرکے اس کے توازن میں بگاڑ پیدا کررہا ہے جس کی وجہ سے ماحولیات میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور یہ تبدیلیاں مختلف تباہیوں ، بیماریوں اور وبائوں کی شکل میں ہمارے سامنے آرہی ہیں۔

فساد فی الارض کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور یہ پہلو بہت اہم ہے ۔وہ یہ کہ جب زمین پر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ہے ، اللہ کے بندے اللہ سے غافل ہوجاتے ہیں اور آخرت کی حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں، انسانی زندگی اور انسانی زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنے کے بجائے ایک حیوانی زندگی بسر کرنے پر مطمئن ہو جاتے ہیں بلکہ اپنے اسی رویے کو ٹھیک سمجھنے لگتے ہیں تو پھرزمین پرفکری پستی اور اخلاقی بگاڑ کی شکل میں فساد رونما ہونے لگتا ہے ۔طاقتور کمزور کے ساتھ ظلم و ناانصافی روا رکھتا ہے ،اعلیٰ اپنے ادنیٰ پر بربریت و استحصال کا راستہ اپنا لیتا ہے،برسراقتدار گروہ اپنے اختیارات و طاقت کا غلط استعمال کرکے اپنے ہی عوام اور ماتحتوں کو نظر انداز کرنے اور ان کی ضرورتوں کو پس پش ڈالنے اور ظلم و زیادتی کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی پُر آسائش زندگی اور باطل خیال میں اتنا مگن ہوجاتا ہے کہ ناانصافی، ظلم، تعصب اور کسی کو حق سے محروم کرنے جیسے گھنائونے عمل میں اسے کوئی جھجک اور شرم محسوس نہیں ہوتی ،تو ایسے حالات میں اللہ کی جانب سے انسانوں کو انتباہ دیا جاتا ہے۔یہ انتباہ کبھی وبائوں کی شکل میں ہوتا ہے، کبھی کسی آسمانی یا زمینی آفتوں کی شکل میں ہوتا ہے یا کسی اور بھی شکل میں ہوسکتی ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت سے ایسے واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے جن میں اللہ نے قوموں کو فساد فی الارض کے پاداش میں وبائوں ، بیماریوں سمیت الگ الگ عذابوں میں مبتلا کیا ہے ۔یہ وبائیں اور آزمائشیں بھی اللہ تعالیٰ کی بندوں سے محبت اور ان پر رحم ہی کا اظہار ہے ۔ وہ اپنے بندوں کو بڑی مصیبت سے بچانے کے لئے ان کے دل نرم کرنے کے لئے موقع فراہم کرتا ہے کہ انسان اپنے رویے میں تبدیلی کرلے، فساد کے راستے سے باز آجائے۔

جب زمین پر فساد عام ہوجاتا ہے اور ظلم و ناانصافی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ اس کے خاتمے کا ماحول بناتا ہے۔کیونکہ وہ اس زمین پر ظلم اور ناانصافی کو کبھی بھی گوارہ نہیںکرتا ہے۔ جس قوم یا حکومت نے اس روش کو اختیار کیا ،اللہ نے اسے تباہ و برباد کردیا۔دراصل اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اس زمین پر کفر و شرک کو تو گوارہ کرلیتا ہے لیکن ظلم و ناانصافی کو گوارہ نہیں کرتا۔ ناانصافی اللہ کو ہر گز گوارہ نہیں ہے۔ جب انسان اپنی حدود کو پار کرنے لگتاہے تو اللہ تعالیٰ انسانوں کو سمجھانے کے لئے ، ان کو بیدار کرنے کے لئے ، ان کے دلوں کو نرم کرنے کے لئے اور ظلم و ناانصافی کے رویے سے باز رہنے کے لئے اس طرح کی وبائیں بھیجتا ہے۔ غرض کہ یہ وباایک طرح کا الارم ہے۔اگر اس الارم پر بیدار نہ ہوئے تو اس کی ناراضگی مزید بڑھتی ہے اور پھر وہ کسی بڑی آفت میں ظالموں کو پھنسا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ چند باتوں کی طرف خصوصی طور پر توجہ دیں۔ایک تو اپنی اصلاح اور دعوت الی الخیر کی طرف توجہ کریں ۔ دوسری بات یہ کہ عوام کو ، برادران وطن کو ، حکمرانوں کو اور طاقتو رلوگوں کو جو اقتدار میں ہیں، ان کو یہ بات

سمجھانے اور بتانے کی اور ان تک اس پیغام کو پہنچانے کی کوشش کریں کہ خالق کائنات اپنی زمین پر ظلم و ناانصافی کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کرتا ہے۔ ہماری یہ کوشش مختلف ممکنہ ذرائع سے ہو۔تیسری بات اہل ایمان کو سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان وبائوں کے ذریعہ بڑی آفتوںکو خاص طور پر آخرت کی بڑی ذلت و رسوائی اور عذاب الیم سے بچانے کے لئے وبائیں بھیج کر اپنے بندوں کو بیدار کرتا ہے اور ان کے ذریعہ بندے کو صحیح راستہ دکھاتاہے۔بس ضرورت ہے شعورو آگہی کی اور قرآنی اشارے کو سمجھنے کی۔ ایسے وقت میں ہمیں اللہ استقامت عطا فرمائے اورہمارے دلوں کو رب سے ڈرنے والا بنادے اور ہم سب کی بیماریوں ، آفتوں اور تمام آزمائشوں سے حفاظت فرمائے۔